رفع ................ فسوھا (28:79) ” اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا “۔ سمک بلندی اور قدوقامت کو کہتے ہیں۔ آسمان بلند بھی ہے اور باہم جڑا ہوا بھی ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے پیوست ہیں ۔ اسی کو
فسوھا (28:79) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آسمانوں کے نظام پر ایک سرسری نظر ڈالنے اور ایک معمولی علم رکھنے والے کو بھی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آسمانوں کے نظام کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے۔ ان عظیم اجسام کو جو چیز باہم جوڑ کر رکھ رہی ہے اور ان کی حرکات واثرات کے درمیان جو چیزتنظیم پیدا کرتی ہے۔ اس کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے ، تو ان الفاظ کے معانی بہت گہرے اور وسیع ہوجاتے ہیں اور یہ نظام اس قدر محیرالعقول ہوجاتا ہے جس کے بارے میں انسان پہلے کچھ زیادہ نہ جانتے تھے۔ انسان ششدرہ رہ جاتا ہے اور مرعوب اور مبہوت ہوجاتا ہے اور سوائے اس کے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی ایک عظیم قوت مدبرہ کو تسلیم کیا جائے۔ انسانوں کے لئے اس محیرالعقول عظیم اور وسیع و عریض نظام کی تشریح کے لئے کوئی اور راہ ہی نہیں ہے۔ بہرحال کسی نہ کسی مذہب اور دین کے مطابق الہہ العالمین کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔