جواب یہ ہے۔
فیم انت من ذکرھا (43:79) ” تمہارا کیا کام ہے کہ اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ ایسا جواب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی عظیم بات ہوگی اور ایک عظیم حادثہ ہوگا اور ان لوگوں کا اس طرح سوال کرنا حماقت اور گھٹیا پن ہے۔ یہ بچگانہ سوال ہے اور اپنے حدود اور مقام سے آگے کی بات ہے۔ تو ان کو جواب دینے کے بجائے رسول اللہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ ” تمہارا کیا کام کہ تم اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ تو اس سے بڑی چیز ہے کہ تم اس کے بارے میں پوچھو یا تم سے پوچھا جائے۔ اس کا وقت بتانا یا اس کا برپا کرنا میرے رب کا کام ہے ، میرا کام نہیں ہے۔
آیت 43{ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰٹہَا۔ } ”آپ ﷺ کا کیا تعلق ہے اس کے بیان کرنے سے ؟“ آپ ﷺ کو اس لیے تو نہیں بھیجا گیا کہ آپ ﷺ قیامت کے دن اور تاریخ کا تعین کر کے انہیں بتائیں ‘ بلکہ آپ ﷺ تو بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔