انما ................ یخشھا (45:79) ” تم صرف خبردار کرنے والے ہو۔ ہر اس شخص کو جو اس کا خوف کرے “۔ تمہارا فریضہ بس یہی ہے۔ تمہارے حدود بھی یہاں تک ہیں کہ جو شخص قیامت سے ڈرتا ہے اس کو ڈرائیں ۔ یعنی ایسے لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ہم نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ دن ضرور آتا ہے اور اس کے وقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔
ہاں وقت بتانے کے بجائے اس کی ہولناکیوں اور ہنگامہ خیزیاں بتادی جاتی ہیں۔ اور جب وہ برپا ہوگی تو اس وقت انسان کا شعور کیا ہوگا اور احساسات کیسے ہوں گے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ اس وقت تم اس پوری دنیاوی زندگی کے بارے میں ان تاثرات کا اظہار کرو گے۔
آیت 45{ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰٹہَا۔ } ”آپ ﷺ تو بس خبردار کرنے والے ہیں ‘ ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو۔“ جو لوگ قیامت کے تصور سے ڈرتے ہوں یا جو اس کے ذکر سے ڈر جائیں آپ ﷺ انہیں خبردار کرتے رہیں ‘ آپ ﷺ کے خبردار کرنے سے ایسے لوگوں کا خوف اور تقویٰ مزید بڑھے گا۔ ظاہر ہے جس شخص کی روح میں زندگی کی کوئی رمق موجود ہے اس کے دل میں قیامت کے ذکر سے ضرور خشیت پیدا ہوگی۔