انما جعل الشبت علی الذین اختلفوا فیہ (61 : 421) ” رہا سبت تو وہ ہم نے ان لوگوں پر مسلط کیا تھا جنوہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا “۔ اور اس کا فیصلہ بھی اللہ کے حوالے ہے۔
وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (61 : 421) ” اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں “۔
یہاں تک دین جدید اور خالص عقیدہ توحید اور دین ابراہیم اور ان کے عقیدہ توحید کے باہم تعلق اور ان دونوں اور مشرکین و یہود کے منحرف عقائد کے درمیان فرق و امتیاز کی بات تھی۔ قرآن مجید کے مقاصد میں سے یہ ایک اہم مقصد بھی تھا۔ اب آخر میں رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپے رب کی راہ میں آگے بڑھتے رہیں اور بہترین نصیحت اور حکمت اور اعتدال کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہیں۔ اگر مخالفین کے ساتھ مکالمہ کرنا پڑے تو یہ نہایت ہی احسن طریقے سے ہونا چاہیے۔ ہاں اگر مخالفین تحریک اسلامی پر دست درازی کریں تو انتقام میں حد سے نہ گزریں اور قصاص کی حد تک اپنی جوابی کاروائی محدود رکھیں۔ ہاں اگر آپ مخالفین کی بعض قابل معافی حرکات سے درگزر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ اطمینان رکھیں کہ اچھا انجام یقینا خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں۔ اگر وہ مان کر نہیں دیتے اور اگر وہ آپ کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں تو بھی آپ پرواہ نہ کریں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
آیت 124 اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کرلیا۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کردیا۔
جمعہ کا دن ہر امت کے لئے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لئے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لئے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہوچکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ آنحضرت محمد ﷺ جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کی اتباع کریں۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لئے چھانٹا تھا۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی۔ ایک قول ہے کہ آپ نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ نے بھی برابر داری رکھی۔ جب آپ آسمان پر چڑھا لئے گئے تو آپ کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آ کر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کرلیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کرلیا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھو دیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن۔ آپ فرماتے ہیں ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کردیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاری نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے۔ (مسلم)