آیت نمبر 33 تا 34
لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔
وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔
فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔
آیت 33 هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی ”اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن ہوش آئے گا انسان کو مگر کیا فائدہ ہوگا تب اسے اس ہوش کا !“ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔
فرشتوں کا انتظار اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔