اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔
آیت نمبر 38 تا 40
جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔
لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔
نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔
قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔
پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔
لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔
رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔
انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔
آیت 38 وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ مشرکین مکہ اگرچہ عمومی طور پر مرنے کے بعد دوسری زندگی کے قائل تھے مگر ان کا اس سلسلہ میں عقیدہ یہ تھا کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کے سفارشی ہوں گے اور اس طرح روز حشر کی تمام سختیوں سے وہ انہیں بچا لیں گے۔ لیکن ان کے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ ان لوگوں کے اس عقیدہ کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ان لوگوں کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے : وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ”اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ ہماری زندگی مگر صرف دنیا کی اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔“
قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے پھر اپنی بےاندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام ہوجاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے جیسے فرمایا ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہوجائے گا تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کردینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو اسھر کہا ہوجا ادھر ہوگیا۔ اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کرسکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد وقہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقینا زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیان دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا روایت بھی آئی ہے۔