منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔
آیت نمبر 41 تا 42
یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔
لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔
الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔
٭٭٭
اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔
دین کی پاسبانی میں ہجرت جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکہ میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان ؓ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد ؓ وغیرہ۔ قریب قریب اسی آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کردیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر وثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاروق اعظم ؓ سے خوش ہو کہ آپ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت وغیرہ دیتے تو فرماتے لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لئے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں۔