سورہ نحل: آیت 65 - والله أنزل من السماء ماء... - اردو

آیت 65 کی تفسیر, سورہ نحل

وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ

اردو ترجمہ

(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکا یک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اُس کی بدولت جان ڈال دی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAllahu anzala mina alssamai maan faahya bihi alarda baAAda mawtiha inna fee thalika laayatan liqawmin yasmaAAoona

آیت 65 کی تفسیر

آیت نمبر 65

پانی تو ہر چیز کی زندگی کا سامان ہے۔ قرآن مجید اسے پورے کرۂ ارض کے لئے علی العموم سامان حیات قرار دیتا ہے ، جو چیز بھی اس کرۂ ارض کی پشت پر ہو اور اللہ جو ہر چیز کو حالت مرونی سے زندگی کی حالت میں لاتا ہے وہی ہے جو الٰہ ہونے کے لائق و سزاوار ہے۔

ذلک لایۃ لقوم یسمعون (16 : 65) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے ” تا کہ وہ جس چیز کو سنیں اس پر غور کریں اور سمجھیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے یہ کہ دلائل الوہیت اور دلائل حیات بعد الموت جس کا قرآن کریم با ربار تذکرہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ آیات و معجزات ان لوگوں کے لئے ہیں جو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر مزید غوروفکر کرتے ہیں۔ مویشیوں اور جانوروں کے اندر بھی ایک نصیحت آموز چیز موجود ہے۔ یہ خالق کائنات کی عجیب تخلیق ہے اور یہی ایک دلیل الٰہ العالمین کی کبریائی کے لئے بس ہے۔

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ یہ نشانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سننا حیوانوں کا سا سننا نہ ہو بلکہ انسانوں کا سا سننا ہو۔ علامہ اقبال نے ”زبور عجم“ میں کیا خوب کہا ہے : دم چیست ؟ پیام است ‘ شنیدی ‘ نشنیدی !در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !یعنی سانس جو تم لیتے ہو یہ بھی اللہ کا ایک پیغام ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ تم اس پیغام کو سنتے ہو یا نہیں سنتے ہو۔ یہ درست ہے کہ تم خاک سے بنے ہو ‘ مگر تمہارے اسی خاکی وجود کے اندر ایک نور اور جلوۂ ربانی بھی موجود ہے۔ یہ روح ربانی جو تمہارے وجود میں پھونکی گئی ہے یہ جلوہ ربانی ہی تو ہے ‘ جسے تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تمہارے اندر کیا کیا کچھ موجود ہے : وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ الذاریات ”اور تمہارے اندر کیا کچھ ہے ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ ذرا دوسری طرح کا دیکھنا اور دوسری طرح کا سننا سیکھو ! ایسا دیکھنا سیکھو جو چیزوں کی اصلیت کو دیکھ سکے اور ایسا سننے کی صلاحیت حاصل کرو جس سے تمہیں حقیقت کی پہچان نصیب ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ دیکھنا اور یہ سننا محض حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا ہے۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !اس سورة میں تکرار کے ساتھ اہل فکر و دانش کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر ‘ سن کر اور سمجھ کر سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آیت زیر نظر کے علاوہ ملاحظہ ہوں آیات 11 ‘ 12 ‘ 67 ‘ 69 اور 79

آیت 65 - سورہ نحل: (والله أنزل من السماء ماء فأحيا به الأرض بعد موتها ۚ إن في ذلك لآية لقوم يسمعون...) - اردو