آیت نمبر 66
یہ دودھ ، جسے ہم حیوانات کے پستانوں سے نچوڑتے ہیں ، یہ کس چیز سے پیدا ہوتا ہے ؟ یہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے نکلتا ہے ۔ فرث اس محصول کو کہتے ہیں جو ہضم کے بعد جگالی کرنے والے جانور کے اوجھ میں رہ جاتا ہے۔ نیز ہضم کے بعد جو محلول رہ جاتا ہے اور اسے آنتیں خون کی شکل میں تبدیلی کردیتی ہیں اسے بھی فرث کہا جاتا ہے۔ یہ خون جسم کے ہر خلیے میں گردش کرتا ہے۔ یہ خون جب جانور کی کھیری میں دودھ کے غدود میں جاتا ہے تو یہ دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ قدرت کا عجوبہ ہے کہ یہ خون دودھ بن جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ محلول اور یہ خون کس طرح دودھ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
پھر ہر قسم کی خوراک کا خلاصہ خون کی شکل کس طرح اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اس خون کی قوت میں سے جسم کے ہر خلیے کو اس کی ضرورت کے مطابق غذا کا فراہم ہونا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہی پیچیدہ اور تعجب انگیز ہے۔ یہ عمل جسم میں ہر سیکنڈ کے حساب سے تکمیل پاتا ہے۔ اس طرح جسم میں جلنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں ، انسانی جسم کی اس پیچیدہ مشینری میں تخریب و تعمیر کا یہ عمل جاری ہے اور اس وقت جاری رہتا ہے جب تک جسم سے روح پرواز نہیں کر جاتی۔ کوئی انسان جس کا شعور زندہ ہو ، وہ ان عجیب عملیات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، جن میں جسم انسانی کی اس عجیب مشینری کا ہر ذرہ خالق کا ثناخواں نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسی عجیب مشینری ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی پیچیدہ سے پیچیدہ مشینری اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ انسان کے لئے جسم انسانی کے لاتعداد خلیوں میں سے ایک خلیہ بھی بنانا ممکن نہیں ہے۔
ہم نے جسم انسانی میں خوراک کے ہضم ، اس کے خون کی شکل اختیار کرنے اور پھر چلنے اور ختم ہونے کے عمل کا ایک عام جائزہ لیا ہے۔ اس جسم کے اندر ایسے ایسے کام ہو رہے ہیں کہ اگر ان کا سائنسی مطالعہ اور ملاحظہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جائے۔ خود جسم انسانی کے خلیوں میں سے ایک خلیے کا مطالعہ اور اس پر غوروفکر بھی نہ ختم ہونے والی سوچ عطا کرتا ہے۔
ماضی قریب تک یہ تمام عجائبات راز ہی رہے ، اور یہ حقیقت جس کا ذکر یہاں قرآن مجید کر رہا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے ، انسان اس سے ماضی قریب تک واقف نہ تھا۔ ادوار سابقہ میں انسان نہ اس کا تصور کرسکتا تھا اور نہ ہمارے دور کی طرح اس کا دقیق سائنسی مطالعہ کرنے کے قابل تھا۔ اس بارے میں کوئی انسان نہ شک کرسکتا ہے اور نہ بحث کرسکتا ہے۔ اس قسم کے پیچیدہ سائنسی حقائق میں سے کسی ایک حقیقت کی طرف قرآن کریم کا واضح طور پر اشارہ کرنا ہی اس بات کے لئے کافی ثبوت ہے کہ قرآن کریم وحی الٰہی پر مشتمل ہے کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا سائنٹیفک علم کسی انسان کو بھی اس دور میں نہ تھا۔
لیکن ان خالص سائنسی حقائق کو اگر ایک طرف بھی چھوڑ دیں تو بھی قرآن کریم میں ایسے دلائل و خصائص موجود ہیں جو اس کے وحی الٰہی ہونے کا اثبات کرتے ہیں۔ ہاں اس قسم کی سائنسی حقیقتوں میں سے ایک واضح حقیقت سامنے آجانا مخالفین اور معاندین کے منہ کو بند کرنے کے لئے کافی ہے۔
آیت 66 وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو !
خوشگوار دودھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا گواہ ہے اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ بطونہ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں بطونہا ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ 12ۘ) 80۔ عبس :1211) میں ہے اور جیسے آیت (وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 35) 27۔ النمل :35) میں ہے پس جاء میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دو سرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک ؒ شافعی ؒ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے۔ اسی کی نگہبانی کے لئے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کردیں۔ اسی نعمت کا بیان سورة یٰسین کی آیت (وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّــرْنَا فِيْهَا مِنَ الْعُيُوْنِ 34ۙ) 36۔ يس :34) میں ہے یعنی زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اسکا پھل کھائیں، یہ انکے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے ؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کردی ہیں۔