بعثت بعد الموت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جو ہر دور میں نہایت درجہ مختلف فیہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے ہر رسول کے ساتھ مکالمہ ، مجادلہ اور مناظرہ کیا ہے۔ اپنی اصل میں یہ وہ غیب ہے جو اللہ کے مخصوص ترین رازوں میں سے ہے۔
تشریح :
وللہ غیب السموت والارض (61 : 77) ” زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے “۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ پردہ غیب کے پیچھے پوشیدہ اسرار و رموز کے پانے سے عاجزو قاصر ہیں۔ ان کا مادی علم جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اور دنیا کی مادیات کے بارے میں ان پر جس قدر علوم کے خزانے بھی کھل جائیں۔ وہ زمین کے اندر پوشیدہ خزانوں کی ایک بڑی مقدار کو دریافت کیوں نہ کرلیں وہ ان اسرار کائنات کو پا نہیں سکتے۔ جبکہ اس کائنات میں علوم غیب کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے برگزیدہ انسان کو بھی یہ معلوم نہیں کہ کل اس کی ذات کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، بلکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ نکلنے والا سانس پھر لوٹے گا یا نہیں۔ انسان کی خواہشات کی دنیا تو طویل و عریض ہے لیکن پردہ غیب کے پیچھے سے تقدیر اس پر خندہ زن ہوتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بعض اوقات اگلے ہی لمحے میں اسے مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اگلے لمحے آنے والے واقعات سے لاعلم رکھا ہے تاکہ وہ ہر وقت پر امید رہیں ، کام کرتے رہیں ، پیدا کرتے رہیں ، اور نشوونما دیتے رہیں اور جن کاموں کا انہوں نے آغاز کیا ہے انہیں پیچھے چھوڑ دیں تاکہ آنے والے ان کی تکمیل کریں۔ یہاں تک کہ تقدیر وہ چہرہ نمودار کردے جو پس پردہ ہے۔
قیامت بھی ان پوشیدہ اور مستور غیبوں سے ہے۔ اور اگر لوگوں کو قیام قیامت کی سات کا علم ہوجائے تو زندگی کی گاڑی یکدم رک جائے یا اس کے اندر عظیم خلل پڑجائے۔ زندگی کے شب و روز اس طرح نہ گزریں جس طرح کہ قانون قدرت نے ان کے لئے ضابطہ بندی کی ہوئی ہے بلکہ لوگ بیٹھ جاتے اور سال و ماہ اور دن اور گھنٹے گنتے کہ بس اب قیام قیامت کے اتنے دن رہ گئے۔
وما امر الساعۃ الا کلمح البصر اوھو اقرب۔ (61 : 77) ” اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ یہ بہت ہی قریب ہے لیکن اس کے وقت کا حساب انسان کے ماہ و سال کے حساب سے مختلف پیمانوں کے ساتھ ہے۔ اس کے انتظامات کے لئے اللہ کو کسی وقت کی ضرورت نہیں ہے۔ پلک جھپکنے کی دیر کافی ہے ، اس سے بھی کم وقت میں یہ تمہارے سامنے اپنے پورے مناظر کے ساتھ حاضر ہوگی۔
ان اللہ علی کل شیئی قدیر (61 : 77) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ انسانوں اور مخلوقات کی یہ ان گنت تعداد کو حاضر کرنا ، ان کا اٹھانا ، جمع کرنا ، حساب و کتاب لینا ، جزاء و سزا دینا اس قدرت کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے جس نے صرف کن کہنا ہے اور سب کچھ ہوجانا ہے۔ یہ معاملہ صرف ان لوگوں کے لئے خوفناک اور مشکل ہے جو انسانی پیمانوں سے معاملات کو سوچتے ہیں۔ انسانی نظروں سے دیکھتے ہیں اور انسانی اعداد میں حساب و کتاب کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کی سوچ اور اندازے غلط ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم واقعہ کو انسانی زندگی کی بعض مثالوں سے انسان کے لئے قریب الفہم بناتے ہیں ، کیونکہ اس عظیم اور ہولناک واقعہ کے حقیقی تصور سے انسان کی قوت ادراک اور قوت تصور عاجز ہے۔ یہ مثالیں انسانی زندگی میں دہرائی جاتی ہیں۔
نیکیوں کی دیوار لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کرسکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کرسکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہوجاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہوجاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لئے ہوجاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لئے، دیکھتا ہے اللہ کے لئے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضامندی کے کاموں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لئے سنتا ہے اور میرے ہی لئے دیکھتا ہے اور میرے لئے پکڑتا ہے اور میرے لئے ہی چلتا پھرتا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو اور آیت میں فرمان ہے آیت (قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 23) 67۔ الملک :23) یعنی اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورة ملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے ؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے ؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے، یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ اس میں ایمانداروں کے لئے بہت سے نشان ہیں۔