آیت : واللہ اخرجکم………تشکرون۔ (87)
تشریح :
یہ بھی ایک عالم غیب ہے جو انسان کے بہت ہی قریب ہے ، لیکن قریب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فہم و ادراک سے بہت بعید بھی ہے۔ یہ کہ اس عالم غیب بطن مادر میں جنین کس طرح تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ بعض اوقات لوگ جنین کے حالات ملاحظہ کرتے ہیں ، لیکن ان کا علم محدود ہے اور وہ یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کس طرح تکمیل اور نشوونما کے مراحل طے کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی نشوونما میں راز حیات اصل راز ہے ، جس کا عل آج تک پوشیدہ ہے۔ وہ علم جس کا انسان دعویٰ کرتا ہے اور جس کے ساتھ انسان آگے بڑھتا ہے اور جس کے ذریعے وہ قیامت کے قیام کو بھی معلوم کرنا چاہتا ہے ، وہ ایک حادث علم ہے کیونکہ پہلے انسان کچھ بھی نہ جانتا تھا۔
واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شئیا۔ (61 : 87) ” اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے “۔ ہر عالم اور ہر محقق کی ولادت اور اس حال میں ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا کہ وہ کچھ نہیں جانتا ایک قریب المہد واقعہ ہے۔ اس کے بعد اس نے جو علم سیکھا وہ اللہ کا دین ہے اور یہ اللہ نے انسان کو اسی قدر دیا ہے جس قدر اس جہاں میں انسان کے لئے زندگی گزارنے کے لئے کافی ہو ، یعنی اس پوری کائنات میں جو انسان کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔
وجعل لکم السمع والبصار ولافئدۃ (61 : 87) ” اس نے تمہیں کان دئیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دئیے “۔ قرآن کریم انسان کے قوائے مدرکہ کے مجموعے پر قلب اور فواد کا اطلاق کرتا ہے۔ اس میں عقل بھی آتی ہے اور اس میں وہ وجدانی اور الہامی قوتیں بھی آتی ہیں جن کی حقیقت سے انسان خبردار نہیں ہے۔ اور انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل دئیے۔
لعلکم تشکرون (61 : 87) ” اس لئے کہ تم شکر گزار بنو “ جب تم غور کرو کہ یہ چیزیں انسان کو دے کر اللہ نے کس قدر کرم کیا ہے ، نیز ان کے علاوہ اللہ کے انعامات کو ان آلات مدرکہ سے پا کر تم اللہ کا شکر ادا کرو ، اور شکر کا پہلا مظہر یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ پر ایمان لائے۔
ایک دوسرا تعجب انگیز منظر جو رحمت الہیہ کے آثار میں سے ہے اور جو انسانوں کے پیش پا افتادہ ہے ، انسان اسے دیکھتا ہے اور تدبر نہیں کرتا۔
آیت 78 وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـانوزائیدہ بچہ عقل و شعور اور سمجھ بوجھ سے بالکل عاری ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا بچہ تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزور اور زیادہ محتاج dependent ہوتا ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ وَالْاَفْــِٕدَةَ کا ترجمہ عام طور پر ”دل“ کیا جاتا ہے ‘ مگر میرے نزدیک اس سے مراد عقل اور شعور ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة بنی اسرائیل کی آیت اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً کے ضمن میں ہوگی۔ آیت زیر نظر میں کانوں اور آنکھوں کا ذکر انسانی حواس senses کے طور پر ہوا ہے اور ان حواس کا تعلق عقل وَالْاَفْــِٕدَةَ کے ساتھ وہی ہے جو کمپیوٹر کے input devices کا اس کے پراسیسنگ یونٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس طرح کمپیوٹر کا پراسیسنگ یونٹ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات data کو پر اسس کر کے اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اسی طرح حواس خمسہ سے حاصل ہونے والی معلومات سے انسانی دماغ سوچ بچار کر کے کوئی نتیجہ نکالتا ہے۔ انسان کی اسی صلاحیت کو ہم عقل کہتے ہیں اور میرے نزدیک والْاَفْــِٕدَةَ سے مراد انسان کی یہی عقل ہے۔لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ یہ تمام صلاحیتیں انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور اللہ نے یہ نعمتیں انسان کو اس لیے عطا کی ہیں کہ وہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرے ‘ اور اس سلسلے میں اللہ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کا استعمال درست طور پر کرے اور ان سے کوئی ایسا کام نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔