ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔
فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔
فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برأت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورة یونس کی آیت 28 اور 29 میں بھی گزر چکا ہے۔