قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔
چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ ہو۔
اس کتاب کی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم عدل سے متعلق ہے۔ ایسا عادالانہ نظام جس میں ایک فرد ، ایک جماعت ، ایک قوم اور اقوام سب کے حقوق محفوظ ہوں۔ یہ عدل کسی کی خواہش سے متاثر نہ ہو۔ محبت اور بغض سے متاثر نہ ہو۔ رشتہ داری اور اقربا پروری کا اس میں نام و نشان نہ ہو۔ امیر و غریب کے لئے یکساں ہو ، قوی اور ضعیب کے حقوق اس میں برابر ہوں۔ یہ عدل اپنی راہ میں سیدھا چلے اور اس میں سب کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی پیمانہ ہو۔
اس عدل کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی تعلیمات ایک دوسرے اہم اصول ، احسان پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عدل کا تعلق ہے ، اس کی تلوار نہایت ہی تیز ، مضبوط اور بےلچک ہوتی ہے اور سیدھا کاٹتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے عدل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جیتنے کے لئے احسان کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ یہ لازم نہیں کیا کہ بےلچک عدل کے مطابق اپنے حقوق بہرحال لئے جائیں ، اگر کوئی اپنے حقوق سے دست کش ہونا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اس سے دلوں کی دشمنی دور ہوجاتی ہے اس سے زخم مند مل ہوجاتے ہیں۔ نیز فضائل اخلاق اور کریمانہ طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔
احسان کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ ہر چھا کام احسان ہے۔ احسان کے حکم میں ہر عمل اور ہر معاملہ آتا ہے۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ، انسان کا اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ، انسان کا جماعت کے ساتھ تعلق اور انسان کا پوری انسانیت کے ساتھ تعلق۔
بعض مفسرین نے محض اس لئے کہ یہ آیت مکی ہے ، عدل کو عبادات واجبیہ اور احسان کو عبادات نفلی پر محمول کیا ہے کیونکہ مکہ میں اسلامی قوانین نازل نہ ہوئے تھے۔ لیکن عدل و احسان میں قانون کے علاوہ اخلاقی معاملات اور انفرادی طرز عمل بھی آتے ہیں اس لئے ان کو عبادات کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہے۔
احسان کی ایک قسم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان پر خرچ ہے اور اس کا خصوصی حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور عظمت ہے اور اس کی بہت بڑی تاکید ہے۔ اس میں پائے جانے والی بنیادی سوچ خاندان کی عصبیت نہیں ہے بلکہ اس سے غرض وغایت خاندانی نظام اور خاندانی نظام کے اوپر تعمیر کردہ اسلامی نظام تکافل اجتماعی ہے۔ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کا پہلا یونٹ خاندان کو قرار دیا ہے اور اس کے بعد وہ اسے بتدریج سوسائٹی تک عام کرتا ہے کیونکہ اجتماعی تکافل (Security) کے بارے میں اسلام کی اپنی سوچ ہے۔
وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (61 : 09) ” اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے “۔ فحشاء ہر اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے تجاوز کرے۔ یہ زیادہ تر اس تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی عزت کے خلاف ہو کیونکہ جنسی بےراہ روی بھی ایک ایسا فعل ہے جو اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادتی اور حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ جنسی بےراہ روی کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ المنکر وہ فعل ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کرے اور شریعت بھی اسے اسی وجہ سے منکر سمجھتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے۔ شرعیت اور قانون تو اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اور فطرت انسانی بسا اوقات بگڑ جاتی ہے۔ فطرت کے بگاڑ کے وقت پھر شریعت معیار بن جاتی ہے۔ البغی سے مراد ظلم اور لوگوں کے حقوق پر دست درازی ہے۔
دنیا میں کوئی معاشرہ بھی فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا جس میں فحاشی وسیع پیمانے پر رائج ہو ، نیز ایسی سوسائٹی بھی کبھی پنپ نہیں سکتی ، جس میں منکرات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہو۔ ایسا کوئی ملکی نظام قائم نہیں رہ سکتا جس کی اساس ظلم پر ہو۔
کوئی بھی معاشرہ ایسے اجتماعی نظام کو بہت ہی کم عرصہ تک برداشت کرتا ہے ، جلد ہی اس نظام کے خلاف لوگ احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی ظالمانہ اور جابرانہ معاشرہ پر قوت اور پر شوکت ہو۔ اگرچہ ایسے اجتماعی نظام کے بااختیار لوگ ایسے نظام کی حمایت اور بچائو کے لئے لا انتہاء وسائل استعمال کریں۔ انسانی تاریخ کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخ در حقیقت فحاشی ، منکرات اور ظلم کے خلاف مسلسل احتجاج سے عبارت ہے لہٰذا اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ تاریخ میں کچھ عرصے تک کوئی اجتماعی نظام فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم رہا ہے۔ ایسے نظاموں کے خلاف چونکہ ہمیشہ احتجاج اور رد عمل ہوتا رہا ہے اس لئے تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے۔ ایسے نظام میں اسلامی سوسائٹی کے جسم کے لئے فارن باڈی رہے ہیں اور انسانی سوسائٹی نے ہمیشہ ایسے نظاموں کو جھاڑ کر پھینک دیا ہے جس طرح ہر جسم اپنے اندر فارن باڈی کے آنے کے خلاف رد عمل کرتا ہے۔ چناچہ اللہ کی طرف سے عدل و احسان کا حکم دینا اور فحاشی ، منکرات اور ظلم سے منع کرنا فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام اس فطری رد عمل کو اسلامی جدوجہد قرار دے کر اسے قوت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکم پر سبق آموز تبصرہ یوں آتا ہے۔
یعظکم لعلکم تذکرن (61 : 09) ” وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو “۔ یہ نصیحت اس لئے ہے کہ تم اپنی اصل فطرت کی طرف رجوع کرو اور اسے یاد کرو “۔
يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں ‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چناچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے میں ہے یعنی ان سے حسن سلوک سے پیش آنا صلہ رحمی کے تقاضے پورے کرنا اور انفاق مال کے سلسلے میں ان کو ترجیح دینا۔ یہ تین احکام ان اعمال کے بارے میں ہیں جو ایک اچھے معاشرے کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ جن چیزوں سے یہاں منع فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلے بےحیائی ہے۔ حیا گویا انسان اور ہر برے کام کے درمیان پردہ ہے۔ جب تک یہ پردہ قائم رہتا ہے انسان عملی طور پر برائی سے بچا رہتا ہے ‘ اور جب یہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو پھر انسان بےشرم ہو کر آزاد ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کا مصداق بن کر جو چاہے کرتا پھرتا ہے۔ بےحیائی کے بعد منکر سے منع کیا گیا ہے۔ منکر ہر وہ کام ہے جس کے برے ہونے پر انسان کی فطرت گواہی دے۔ تیسرا ناپسندیدہ عمل یا جذبہ البغی یعنی سرکشی ہے۔ یہ سرکشی اگر اللہ کے خلاف ہو تو بغاوت ہے اور یوں کفر ہے ‘ اور اگر یہ انسانوں کے خلاف ہو تو اسے ”عدوان“ کہا جاتا ہے یعنی ظلم اور زیادتی۔ بہرحال ان دونوں سطحوں پر یہ انتہائی ناپسندیدہ اور مذموم جذبہ ہے۔اگلی چند آیات مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر کے بارے میں بہت سی آراء ہیں جو سب کی سب یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ میں یہاں صرف وہ رائے بیان کروں گا جس سے مجھے اتفاق ہے۔ میری رائے کے مطابق ان آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔ مکی سورتوں میں اگرچہ اہل کتاب سے ”یٰبَنِی اِسْرَاءِیل“ یا ”یٰاَھل الکتاب“ کے الفاظ سے براہ راست خطاب نہیں کیا گیا لیکن سورة الانعام اور اس کے بعد مکی دور کے آخری سالوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں اہل کتاب کو بالواسطہ انداز میں مخاطب کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک محمد رسول اللہ کے دعوائے نبوت کے بارے میں خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ان خبروں کو سن کر بہت متجسسانہ انداز میں مزید معلومات کی ٹوہ میں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو نبی آخر الزماں کو پہچان بھی چکے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مزید معلومات سے آپ کی نبوت کی تصدیق ہوجائے تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف یہود مدینہ ہی میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آپ کے خلاف حسد کی آگ بھی بھڑک چکی تھی۔ اس قسم کے لوگ آپ کی مخالفت کے لیے قریش مکہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور آپ کی آزمائش کے لیے قریش مکہ کو مختلف قسم کے سوالات بھیجتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق تو فلسطین میں آباد تھے لیکن ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لوگ وہاں سے مصر کیسے پہنچے ؟ ان کا یہی سوال تھا جس کے جواب میں پوری سورة یوسف نازل ہوئی تھی۔ چناچہ یہ وہ معروضی صورت حال تھی جس کی وجہ سے مکی دور کی آخری سورتوں میں کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی موجود ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے خطاب بھی ہے۔ اس پس منظر میں میری رائے یہی ہے کہ آئندہ آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔
بر ابر کا بدلہ اللہ سبحا نہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) میں فرمایا کہ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کرلو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے۔ اور آیت میں فرمایا اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا۔ ایک اور آیت میں ہے زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے۔ پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ توحید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت (وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا 26) 17۔ الإسراء :26)۔ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں۔ لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو۔ اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لئے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کردی ہے۔ حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے۔ اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ ﷺ کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔ دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لئے تیار ہوئے یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں ﷺ اور دوسرے سو ال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول۔ پھر آپ نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتادیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔ اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اپنی انگنائی میں بھٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون آپ کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا بیٹھتے نہیں ہو ؟ وہ بیٹھ گیا، آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کر رہے تھے کہ حضور ﷺ دفعتہ اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی پھر آپ نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہوسکا، پوچھا کہ حضرت آپ کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ نے پوچھا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا یہ کہ آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہو۔ اور آپ اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا ؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ نے فرمایا میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا ؟ آپ نے فرمایا ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا۔ پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ؟ آپ نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عثمان بن مظعون ؓ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور حضور ﷺ کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا۔ ایک اور روایت میں حضرت عثمان بن ابو العاص ؓ سے مروی ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں یہ روایت بھی صحیح ہے واللہ ! علم۔