اذ یغشی ........ یغشیٰ (35 : 61) ” اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھارہا تھا “ اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اور نہ تعین کیا گیا ہے کہ وہ کیا چھا رہا تھا۔ وہ اس قدر عظیم اور ہولناک چیز تھی کہ اس کا بیان مشکل ہے اور اس کا تعین کرنا مشکل۔ غرض وہ ایک عظیم حقیقت تھی۔
آیت 16{ اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی۔ } ”جبکہ چھائے ہوئے تھا سدرہ پر جو چھائے ہوئے تھا۔“ یعنی تم انسانوں کو کیا بتایا جائے کہ اس بیری کے درخت کی اس وقت کیا کیفیت تھی۔ تم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ہو۔ وہ انوار و تجلیاتِ الٰہیہ کے نزول کی ایسی کیفیت تھی جو نہ تو کسی زبان سے ادا ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے الفاظ اس کی تعبیر کرسکتے ہیں۔