سورہ نجم: آیت 26 - ۞ وكم من ملك في... - اردو

آیت 26 کی تفسیر, سورہ نجم

۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ

اردو ترجمہ

آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakam min malakin fee alssamawati la tughnee shafaAAatuhum shayan illa min baAAdi an yathana Allahu liman yashao wayarda

آیت 26 کی تفسیر

وکم من ............ ویرضیٰ (35 : 62) ” آسمان میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ “ لہٰذا ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اس سے پہلی آیت میں بھی ان کا بطلان ثابت کردیا گیا ہے اور عقائد کو ہر قسم کے شبہات اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں میں فیصلے کا اختیار اللہ کو ہے اور انسان کی تمنائیں اور خواہشات حق میں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ سفارش کی اجازت اللہ کے اذن کے بغیر نہ ہوگی۔ لہٰذا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

اس پیراگراف کے آخر میں مشرکین کے اوہام کو آخری بار رد کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کے بارے میں مشرکین کے خیالات کسی اصل پر قائم نہیں ہیں۔

آیت 26{ وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا } ”اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آئے گی“ { اِلَّا مِنْم بَعْدِ اَنْ یَّـاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی۔ } ”مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور سفارش پسند کرے۔“ آسمانوں کے فرشتے اہل ایمان کے لیے تو دعا کرتے ہیں : { یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج } المومن : 7 کہ پروردگار ! تو اہل ایمان کی مغفرت فرما دے۔ لیکن ان مشرکین کے لیے نہ کوئی دعا کرے گا اور نہ ہی شفاعت۔

آیت 26 - سورہ نجم: (۞ وكم من ملك في السماوات لا تغني شفاعتهم شيئا إلا من بعد أن يأذن الله لمن يشاء ويرضى...) - اردو