سورہ نمل: آیت 15 - ولقد آتينا داوود وسليمان علما... - اردو

آیت 15 کی تفسیر, سورہ نمل

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ

(دوسری طرف) ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad atayna dawooda wasulaymana AAilman waqala alhamdu lillahi allathee faddalana AAala katheerin min AAibadihi almumineena

آیت 15 کی تفسیر

درس نمبر 271 ایک نظر میں

” یہاں حضرت دائود کی طرف صرف ایک اشارہ ہے لیکن پورا قصہ صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور اس سے قبل حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مختصر کڑی دی گئی ہے۔ یہ سب حضرات انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور اس سورت کے آغاز ہی میں قرآن کریم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا۔

ان ھذا ……یختلفون (82 : 68) اس سورت میں حضرت سلیمان علیہالسلام کے قصے کی سب سورتوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات دی گئی ہیں ، یعنی جہاں جہاں حضرت سلیمان کا تذکرہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں ان کے حالات زندگی میں سے قصہ ہد ہد اور ملکہ سبا کی تفصیلات ہیں۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علہی السلام یہ اعلان فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو خصوصی طور پر پرندوں کی باتیں سکھانی ہیں اور ہر چیز عطا کی ہے اور اللہ نے ان پر جو فضل و کرم کیا ہے وہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک منظر آتا ہے جس میں حضرت سلیمان اپنے لائو لشکر سمیت چلتے نظر آتے ہیں۔ اس عظیم لشکر میں جن ، انس اور پرندے سب شامل ہیں۔ جب یہ لشکر چلتا ہے تو ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی قوم کو خبردار کرتی ہے کہ ایک عظیم لشکر جرار اس علاقے کا رخ کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو بچائو۔ حضرت سلیمان یہ الفاظ سنتے ہیں اور اس پر بھی رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس بات کو پاتے ہیں کہ نعمت تو باتلا ہے ۔ اس لئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو اس ابتلا میں مجھے شکر اور کامیابی کی توفیق عطا فرما۔

یہ قصہ اس سورت میں کیوں لایا گیا ہے۔ سورت کے آغاز میں بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور پھر اسی سورت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر موضوعات پر کلام رتا ہے جن کے بارے میں ان کے اندر اختلاف رائے ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں اور حضرت موسیٰ ، حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے قصص تاریخ بنی اسرائیل کی اہم کڑیاں ہیں۔

یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی جو کڑی پیش کی گئی ہے اس کی اس سورت کے مضمون سے مناسبت کیا ہے۔ یہ کڑی کئی پہلوئوں کے اعتبار سے مناسبت رکھتی ہے۔

اس سورت کا مرکزی مضمون علم ہے جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرے میں کہا ہے۔ اور حضرت دائود و سلیمان کے قصے میں سب سے پہلا اشارہ ہی اسطرف ہے۔

” یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان بیشتر باتوں کی تفصیلات بیان کرتا ہے جس میں وہ مختلف الرائے ہیں۔ “

وقد اتینا دائود و سلیمان علماً (82 : 51) ” ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ “ اور پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کڑی میں منطق الطیر کے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ کی نعمت کا اعتراف کیا ہے۔

وقال یایھا الناس علمنا منطق اطیر (82 : 61) ” لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں ۔ “ اور اس قصے کے درمیان ہد ہد اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرتے ہوئے یہ کہتا ہے۔

احطت بمالم تحظ ……یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو تیرے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ “ اور پھر اس قصے میں ہے کہ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا ، اس نے کہا کہ میں ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکتے لاتا ہوں۔

سورت کے افتتاح میں تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک کتاب مبین ہے اور اس کو مشرکین مکہ کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ لیکن وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک خط کا ذکر ہے جو ملکہ سبا کے نام لکھا گیا۔ لیکن وہ جبم علوم کرلیتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سچائی کی دعوت دیتے ہیں تو وہ اور اس کی قوم اسے جلد ہی قبول کر کے مطیع فرمان ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جان و انس اور پرندوں کی قوتیں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دیگئی ہیں اور یہ اللہ ہی ہے جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ قوتیں عطا کی ہیں۔ وہی ہے اقتدار اعلیٰ کا مالک ۔

پھر اس سورت میں انسانوں پر اللہ کے انعامات کا بھی ذکر ہے۔ اس کائنات میں اس کے جو نشانات ہیں ان کا بھی ذکر ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور شکر نعمت بجا نہیں لاتے۔ اس قصے میں بھی ایک بندہ شکر گزار کا ذکر ہے ، جو اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے یہ توفیق دے کہ میں تیری انعامات کا شکر بجا لائوں۔ جو اللہ کی آیات پر غور کرتے ہیں اور ان سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے اور نہ وہ اللہ کے انعامات کی وجہ سے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ نہ قوت کی وجہ سے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس قصے کی مضمون سورت کے ساتھ کئی ربط اور مناسبتیں ہیں اور سورت کے موضوع اور قصے کے اندر جا بجا واضح اشارات موجود ہیں۔

حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کی کہانی کو جس طرح قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہ اس بات کا نمونہ ہے کہ قرآن مجید قصص کو کس طرح لاتا ہے اور اس کا قصص کا فنی انداز بیان کیسا ہوتا ہے۔ اس قصے میں تگ و دو ، جذبات و تاثرات ، مختلف مناظر اور مشاہد پائے جاتے ہیں۔ پھر مختلف مناظر کے درمیان گیپ جن میں غیر ضروری حصوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اور اس کے دوسرے فنی کمالات ہیں۔

اب ذرا آیات کی تفصیلات

درس نمبر 271 تشریح آیات

51……تا……44

ولقد اتینا دائود ……المومنین (51)

”(یہ اشارہ ہے کہ اب قصے کا آغاز ہونے والا ہے اور یہ افتتاحی کلمات ہیں۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس قصے کے بڑے کرداروں کو ہم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا تھا اور سب سے بڑا اعزاز تو علم ہوتا ہے جو حضرت دائود اور سلیمان (علیہم السلام) کو دیا گیا ۔ حضرت دائود کو جو علوم دیئے گئے تھے قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ یہ کہ زبور کی آیات کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا فن ان کو دیا گیا تھا ، وہ اس فن میں اس قدر ماہر تھے کہ جب وہ زبور کی آیات پڑھتے تھے تو یہ پوری کائنات انکے ساتھ گنگناتی تھی۔ پہاڑ کی گونج اور پرندوں کی چہچہاہٹ ان کے ساتھ زبور کو گاتے کیونکہ آپ کی آواز بےحد میٹھی تھی۔ وہ سوز دل سے پڑھتے تھے اور اپنے رب کے ساتھ مناجات میں وہ غرق ہوجاتے تھے۔ پھر ان کو اللہ نے جنگی ساز و سامان کی بنیادی ٹیکنالوجی دی تھی۔ وہ اچھی زر ہیں بناتے تھے ، دھاتوں کو پھگلانے میں مہارت رکھتے تھے اور ان سے ہر قسم کی چیزیں بناتے تھے اور وہ ایک بہترین جج تھے اور اس کام میں حضرت سلیمان ان کے مشیر خاص تھے۔

رہے سلیمان (علیہ السلام) تو اس سورت میں وہ پوری تفصیلات دی گئی ہیں جو اللہ نے انکو سکھائیں یعنی پرندوں کی بولیاں اور جس طرح دوسری سورتوں میں ذکر ہے کہ وہ ایک بہترین جج تھے اور ان کے لئے ہوائوں کو بھی مسخر کردیا گیا تھا اور اس قصے کا آغاز بھی اسی اشاریے سے ہوتا ہے۔

ولقد اتینا دائودو سلیمان علماً (82 : 51) ” یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا۔ “ لیکن آیت ختم ہونے سے پ ہے حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہم السلام) کی جان سے یہ بات آجاتی ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں اور علم کی نعمت کی ان کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے اس معاملے میں ان کو اپنے مومن بندوں کی ایک بڑی تعداد کے مقابلے میں ترجیح دی ہے۔ یوں وہ علم کی قدر و قیمت اور پھر اس عظیم احسان کا اعتراف کرتے ہیں۔

یہاں اس علم کی نوعیت اور تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اللہ کے ہاں مطلق علم ایک فضل الٰہی ہے۔ عام علم کو اللہ کی نعمت بتانا مقصود ہے۔ ہر قسم کا اور ہر نوع علم مطلوب مومن ہے۔ پھر ہر عالم کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کرے۔ اور اللہ کا شکر اور اس کی حمد بیان کرتا رہے اور یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ یہ علم میرے لئے نافع ہو۔ یہ نہ ہو کہ علم انسان کو اللہ سے دور کر دے ، اللہ کو بھلانے کا سبب بنے حالانکہ علم دینے الا اللہ ہے۔

وہ علم جو قلب انسانی کو اللہ سے دور کرے ، وہ فاسد علم ہے۔ وہ اپنے مقصد اور اپنے ہدف سے دور اور ایک طرف ہوگیا ہوتا ہے۔ ایسا علم صاحب علم کے لئے فلاح و نجات اور سعادت مندی کا باعث نہیں ہوتا اور نہ ایسا علم انسانوں کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ ایسا علم انسانوں کے لئے مصیبت ، بدبختی ، خوف ، قلق ، بےچینی اور بالاخر ہلاکت کا سبب بنتا ہے ۔ کیونکہ یہ علم اپنے مصدر و منبع سے کٹ گیا ہے ، اس کی سمت غلط ہے اور اس نے اللہ تک پہنچنے کی راہ گم کردی ہے۔

اس وقت انسانیت علم کے ایک اعلیٰ مرتبے تک پہنچ چکی ہے۔ خصوصاً ایٹم کے توڑنے کے بعد۔ اور پھر اسے مختلف مفید کاموں میں استعمال کرنے کے بعد۔ لیکن جن لوگوں کے ہاتھ یہ ایٹمی علم آیا اور جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہ تھا۔ ان کے ہاتھوں انسانیت نے کس قدر کڑوا پھل چنا اور کھایا۔ یہ اس لئے کہ ان لوگوں کے دل میں خدا کا خوف خدا کی تعریف اور خدا کی طرف توجہ نہ تھی۔ چناچہ اس علم نے اور ایسے علماء نے ہیرو شیما کا رنامہ سر انجام دیا۔ ناگاسا کی کی تباہی مچائی اور ان واقعات کے بعد اب شرق و غرب کے تمام انسان رات دن اس کرہ ارض اور تمام انسانیت کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس تمہید کے بعد کہ حضرت دائود سلیمان دونوں کو ہم نے علم سے نوازا اور انہوں نے اللہ کو حمد اور تعریف کی کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور علم کی قدر و قیمت کو محسوس کیا۔ اب صرف حضرت سلیان (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔

وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ”وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔

آیت 15 - سورہ نمل: (ولقد آتينا داوود وسليمان علما ۖ وقالا الحمد لله الذي فضلنا على كثير من عباده المؤمنين...) - اردو