سورہ نمل: آیت 22 - فمكث غير بعيد فقال أحطت... - اردو

آیت 22 کی تفسیر, سورہ نمل

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍۭ بِنَبَإٍ يَقِينٍ

اردو ترجمہ

کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آ کر کہا "“میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Famakatha ghayra baAAeedin faqala ahattu bima lam tuhit bihi wajituka min sabain binabain yaqeenin

آیت 22 کی تفسیر

فمکث ……العظیم (63)

یہ ہد ہد بادشاہ کی دانشمندی اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں سے باخبر تھا۔ اس لئے ہد ہد نے پہلے ہی فقرے میں چونکا دینے والی خبر سے اپنی بات کا آغاز کیا تاکہ اس خبر کے بعد اس سے جواب طلبی کا موقع ہنہ رہے اور بادشاہ اس کی بات کو غور سے سنیں۔

احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبابنیا یقین (82 : 22) ” میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے بارے میں یقینی معلومات لے کر آیا ہوں۔ “ کون بادشاہ ایسا ہوگا اپنے کسی ملازم سے وہ باتیں نہ سنے جن کے بارے میں اسے علم نہیں۔

جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سننا شروع کیا تو اس نے تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ مملکت سبا جنوب یمن میں واقعہ تھی۔ ہد ہد کہتا ہے ہے کہ اس قوم پر عورت حکمرانی کرتی ہے۔

واوتبت من کل شی (82 : 32) ” اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے۔ “ یعنی اس کی مملکت عظیم اور مالدار ہے اور اس کے اندر خوشحالی اور تہذیب کے تماماسباب موجود ہیں۔ قوت اور پیداوار

ولھا عرش عظیم (82 : 32) ” اس کا تحت بڑا عظیم الشان ہے۔ “ یعنی جہاں ملکہ جلوس فرماتی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی مملکت بڑی ہے ، مالدار ہے ، خوشحال ہے اور اس کے اندر صنعت و حرفت کی ترقیات ہیں اور ان لوگوں کی نظریاتی حالت یہ ہے کہ

وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ (82 : 32) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ “ یہاں ہد ہد یہ تفصیل بھی بتاتا ہے کہ شیطان نے ان کے لئے ان کے ان برے اعمال کو مزید کردیا ہے۔ لہٰذا ان کو گمراہ کردیا ہے اور یہ لوگ اللہ وحدہ کی عبادت اور راہ ہدایت نہیں پاتے۔

الذی یخرج الخبء فی السموت والارض (82 : 52) ” وہ اللہ جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے “ خب کا مفہوم وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی ہو۔ یہ پوشیدہ چیز خواہ آسمانوں کی بارش ہو ، زمین کے اندر سے نباتات ہوں یا زمین و آسمان کے دوسرے اسرار و رموز ہوں۔ یعنی پردہ غیب کے پیچھے پائے جانے والے عجائب وغرائب جو اللہ نے پیدا کیا ، نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عجائب غرض وہ سب چیزیں جو ظاہر ہیں یا باطن ہیں۔

یہاں تک تو ہد ہد ایک ملزم کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ ابھی تک شاہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ چناچہ انتظامی لحاظ سے سخت گیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے وہ اپنی بات کے آخر میں ایک اشارہ کرتا ہے۔ کہ اللہ جو جبار وقہار ہے اور سب کا رب ہے ، صاحب عرش عظیم ہے۔ اس کیا قتدار اور انسانوں کے اقتدار کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کی اس برتری کے سامنے انسان کی بادشاہت کی کم مائیگی کے بارے میں سوچ لیں۔

اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (82 : 62) ” السجدۃ ” اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے اہل نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ یوں ہد ہد ملکہ سبا کی قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اشارہ کرتا ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہد ہد بھی بڑا عجیب پرندہ ہے۔ یہ نہایت ذہین سمجھدار اور مومن پرندہ ہے۔ اور اس نے نہایت ہی خوبصورت ، جامع اور مانع رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہ حالات کو خوب جانتا ہے اور حالات پر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ملکہ ہے ، یہ اس کی رعایا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ سورج پرست قوم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریزہ ناجائز نہیں ہے۔ وہ اللہ جس نے زمین و آسمان کی تمام ظاہری اور خفیہ چیزوں کو پیدا کیا ۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ ہر ہد ہد تو ایسا علم نہیں رکھتا لہٰذا یہ کوئی مخصوص معجزاتی ہد ہد ہے۔ عام ہد ہد سے علیحدہ۔

اب حضرت سلیمان یوں نہیں کرتے کہ ہد ہد کی رپورٹ کو آنکھیں بند کر کے قوبل کرلیں۔ وہ اس عظیم خبر پر اچھل نہیں پڑتے۔ چناچہ وہ ایک تجربہ کار حکمران کی طرح اس کو تصدیق کے لئے لیتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک عادل نبی اور رسول بھی ہیں۔

فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِءْتُکَ مِنْ سَبَاٍم بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ ” قوم سبا یمن کے علاقے میں آباد تھی اور اس وقت بلقیس نامی ایک ملکہ اس قوم پر حکمران تھی۔

ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔

آیت 22 - سورہ نمل: (فمكث غير بعيد فقال أحطت بما لم تحط به وجئتك من سبإ بنبإ يقين...) - اردو