سورہ نمل: آیت 91 - إنما أمرت أن أعبد رب... - اردو

آیت 91 کی تفسیر, سورہ نمل

إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اردو ترجمہ

(اے محمدؐ، اِن سے کہو) "مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama omirtu an aAAbuda rabba hathihi albaldati allathee harramaha walahu kullu shayin waomirtu an akoona mina almuslimeena

آیت 91 کی تفسیر

اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔

انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93)

” “۔

اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و سیادت قائم تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس اللہ کو وحدہ لاشریک نہ سمجھتے تھے جس نے اس شہر اور کعبہ کو احترام دے کر ان کو عزت بخشی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ یہاں ان کے نظریہ کو اس طرح درست فرماتے ہیں جس طرح نظریہ کو درست کرنا چاہئے۔ وہ اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کی الوہیت کا پورا تصور یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس شہر کا مالک ہے اور اس شہر کے علاوہ بھی ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی سرتسلیم خم کردینے والا بندہ ، مسلم بن جاؤں۔ اس طرح کہ اس تسلیم و رضا میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ایسا ہی مسلم وہ گروہ ہے جس پر پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کا مدار رہا ہے۔ جو پورے موحد اور پوری طرح سر تسلیم خم کرنے والے رہے ہیں۔ یہ تو تھے دعوت اسلامی کے بنیادی عناصر۔ رہا اس دعوت کا وسیلہ اور اس کا ذریعہ تو وہ تلاوت قرآن ہے۔

وان اتلو القران (27: 92) ” اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں “۔ قرآن دراصل دعوت اسلامی کی کتاب اول بنے۔ یہ ہمارا دستور ہے اور ہماری کامیابی اور فلاح کا وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے جہاد فرمائیں بمقابلہ کفار۔ انسانی عقل اور انسانی روح کی تربیت کے لیے اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ یہ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ یہ انسانی شعور کے تمام طریقوں کو آزماتا ہے۔ اس کے اندر ایسی قوت ہے کہ وہ خشک دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کردیتا ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ کو اس قدر جھنجھوڑتا ہے کہ انہیں بےقرار کردیتا ہے۔ دعوت اسلامی کے لیے تو قرآن کافی و شافی ہے۔ اس کے ساتھ جہاد و قتال کو تو محض اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو فتنوں اور دشمنوں کے شر سے بچایا جاسکے۔ اور پوری دنیا میں قرآن کی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اور جہاد کو دوسرا مقصد ایسی قوت کا حصول ہے جس کے ذریعے شریعت نے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔ رہی دعوت اسلامی تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ صرف کتاب اللہ ہے۔ وان اتلو۔۔۔۔۔ (27: 92) ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کروں “۔

فمن اھتدی فانما یھتدی ۔۔۔۔۔۔۔ من المنذرین (27: 92) ” اب جو ہدایت اختیار کرے گا ، وہ اپنے بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں بس خبردار کردینے والا ہوں “۔ اس آیت میں انفرادی ذمہ داری کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت و ضلالت کی راہ اپنانے میں ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔ اس انفرادی ذمہ داری کے اصول کے اندر یہ اصول کار فرما ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان بہت ہی محترم ہے۔ اور اسلام احترام آدمیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانوں کی طرح ہانک کر اسلام کے دائرے میں جبراً داخل نہیں کرتا ۔ اسلام دعوت اسلامی کو قرآن کی شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دعوت لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہے اسلام کا گہرا ، عمدہ اور عمیق طریق کار۔ یہ انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں سے لیتا ہے جس طرح قرآن نے انسانی نفوس کی تربیت کے لیے نہایت ہی فطری منہاج اپنایا ہے۔

وقل الحمدللہ (27: 93) ” ان سے کہو تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “۔ اللہ کے کمالات اور کاری گریوں سے پہلے اللہ کی تعریف۔

سیریکم ایتہ فتعرفونھا (27: 93) ” عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے “۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، اللہ کے بندے ہر دن انفس و آفاق میں اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھتے ہیں اور اللہ نے اس کائنات میں جو اسرار و رموز ودیعت کیے ہیں ، آئے دن ان کے بارے میں انکشافات ہوتے رہے ہیں۔

وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔ یہ وہ آخری ضرب ہے جو انسانی عقل و خرو کی تاروں پر اس سورت کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ نہایت ہی میٹھے ، خوبصورت اشاراتی اور پھر نہایت ہی دو ٹوک اور خوفناک انداز بیان میں۔ اس کے بعد لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب وہ جو چاہیں کریں لیکن ان کو اس تنبیہہ کے ساتھ آزاد چھوڑا جاتا ہے۔

وما ربک بغافل عما تعلمون (27: 93) ” اور تیرا رب بیخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو “۔

آیت 91 اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَہَا ”ان آخری آیات کا انداز ایک اعلان کا سا ہے۔ اگرچہ اس اعلان کا آغاز لفظ ”قُلْ“ سے نہیں ہو رہا لیکن انداز یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کردیجیے۔ آپ ان پر واضح کردیجیے کہ میں کسی بت ‘ کسی دیوی یا کسی دیوتا کی پرستش کی بجائے صرف اس رب کی بندگی کرتا ہوں اور اسی کی بندگی کرتا رہوں گا جس نے بیت اللہ کو حرم ٹھہرایا ہے اور اس شہر کی سر زمین کو محترم قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کر رکھا ہے۔ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن فرمایا کہ یہ شہر اسی وقت سے باحرمت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت دینے سے حرمت والا ہی رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی چیز کسی کی اٹھای جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لئے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ وللہ الحمد۔ پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کرکے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہر چیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کا مبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤگے تو اپنا بھلاکروگے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کرکے سبکدوش ہوگیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کرلیا۔ جیسے فرمان ہے تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اور فرمایا تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ اللہ کے لئے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبر ی میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہوجاؤ۔ جیسے فرمایا آیت (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 53؀) 41۔ فصلت :53) یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اسکا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے دیکھو لوگو ! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ عمربن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کرجاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے شعر (اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب)یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے سورة نمل کی تفسیر ختم ہوئی۔

آیت 91 - سورہ نمل: (إنما أمرت أن أعبد رب هذه البلدة الذي حرمها وله كل شيء ۖ وأمرت أن أكون من المسلمين...) - اردو