(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔
یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔
پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔
(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)
(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا)
اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔
دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔
(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔
تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔
بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن)
اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔
آیت 110 وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اس سلسلے میں سیدھی روش یہی ہے کہ غلطی یا خطا ہوگئی ہے تو اس کا اعتراف کرلو ‘ اس جرم کی جو دنیوی سزا ہے وہ بھگت لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ اس طرح آخرت کی سزا سے چھٹکارا مل جائے گا۔
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں، بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آجاتا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کردی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی، ایک عورت نے حضرت عبداللہ بن مفضل سے سوال کیا کہ عورت نے بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے اسے بلایا اور (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) پڑھ کر سنائی تو اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور واپس لوٹ گئی، حضور ﷺ فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے پھر وہ وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت اور (وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ) 3۔ آل عمران :135) کی تلاوت کی۔ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند ابوبکر میں کردیا ہے اور کچھ بیان سورة آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے، حضرت ابو درداء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے اٹھ کر اپنے کسی کام کے لئے کبھی جاتے اور واپس تشریف لانے کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے ہوئے اٹھے ڈولچی پانی کی ساتھ لے چلے میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے واپس آئے اور فرمانے لگے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھے یہ پیغام دے گیا، پھر آپ نے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) پڑھی اور فرمایا میں اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے راستے میں ہی لوٹ آیا ہوں اس سے پہلے چونکہ (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) یعنی ہر برائی کرنے والے کو اس کی برائی کا بدلہ ملے گا اتر چکی تھی اس لئے صحابہ بہت پریشان تھے، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کسی نے زنا کیا ہو ؟ چوری کی ہو ؟ پھر وہ استفغار کرے تو اسے بھی اللہ بخش دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کہا ہاں میں نے سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ہاں گو ابو دراداء کی ناک خاک آلود ہو، پس حضرت ابو درداء جب یہ حدیث بیان کرتے اپنی ناک پر مار کر بتاتے۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حدیث غریب ہے۔ پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی بوجھ بٹائی نہ ہوگا، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے۔ پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کرکے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے لبید کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظلم تھے، آیت گوشان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے۔ اس کے بعد کی (آیت ولولا الخ،) کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی لبید بن عروہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی حضور ﷺ کے سامنے برات اور ان کی پاکدامنی کا اظہار کرکے حضور ﷺ کو اصلیت سے دور رکھنے کا سارا کام پورا کرلیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی عصمت کا حقیقی نگہبان ہے آپ کو اس خطرناک موقعہ پر خائنوں کی طرف داری سے بچا لیا اور اصلی واقعہ صاف کردیا۔ کتاب سے مراد قرآن اور حکم سے مراد سنت ہے۔ نزول وحی سے پہلے آپ جو نہ جانتے تھے ان کا علم پروردگار نے آپ کو بذریعہ وحی کردیا جیسے اور آیت میں ہے وکذلک اوجینا الیک روحا من امرنا سے پوری سوت تک اور آیت میں ہے (وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ) 28۔ القصص :86) اسی لئے یہاں بھی فرمایا۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں جو آپ کے شامل حال ہے۔