سورہ نساء: آیت 123 - ليس بأمانيكم ولا أماني أهل... - اردو

آیت 123 کی تفسیر, سورہ نساء

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَآ أَمَانِىِّ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوٓءًا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

اردو ترجمہ

انجام کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حامی و مدد گار نہ پاسکے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laysa biamaniyyikum wala amaniyyi ahli alkitabi man yaAAmal sooan yujza bihi wala yajid lahu min dooni Allahi waliyyan wala naseeran

آیت 123 کی تفسیر

(آیت) ” 123 تا 125۔

یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔

چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔

بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی)

یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔

یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔

دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔

امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (4 : 123) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری)

ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور ﷺ کے پاس تھا

(آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (4 : 123) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا)

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور ﷺ بتائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا ﷺ نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی)

حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : حضور ﷺ مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی)

بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔

اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔

آیت 123 لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط۔تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں wishful thinkings کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ :مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون میں نرمی کا ایک پہلو موجود ہے ‘ لیکن اپنی جگہ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ بعض اوقات بدی کی جگہ پر نیکی اس کے منفی اثرات کو دھو دیتی ہے ‘ لیکن اس آیت کی رو سے برائی کا حساب تو ہو کر رہنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سے جس بدی کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے ‘ اس کا احتساب ہو کر رہے گا۔ اگر کسی کی نیکی نے اس کی بدی کو چھپا بھی لیا ‘ کسی نے غلطی کی اور پھر صدق دل سے توبہ کرلی تو اس کے سبب اس کی بدی کے اثرات جاتے رہے ‘ لیکن معاملہ account for ضرور ہوگا۔ توبہ کو دیکھا جائے گا ‘ کہ آیا توبہ واقعتا سچی تھی ؟ توبہ کرنے والا اپنے کیے پر نادم ہوا تھا ؟ واقعی اس نے عادت بد کو چھوڑ دیا تھا ؟ یا صرف زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِکی گردان ہو رہی تھی اور ساتھ نافرمانی اور حرام خوری بھی جوں کی توں چل رہی تھی۔ تو احتساب کے کٹہرے میں ہر شخص اور ہر معاملے کو لایا جائے گا اور کھرا کھوٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر جو مجرم پایا گیا ‘ اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔

مصائب گناہوں کا کفارہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی، آیت کا مضمون یہ ہے کہ صرف اظہار کرنے اور دعویٰ کرنے سے صداقت و حقانیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ ایماندار وہ ہے جس کا دل صاف ہو اور عمل شاہد ہوں اور اللہ تعالیٰ کی دلیل اس کے ہاتھوں میں ہو، تمہاری خواہشیں اور زبانی دعوے کوئی وقعت نہیں رکھتے نہ اہل کتاب کی تمنائیں اور بلند باتیں، نجات کا مدار ہیں بلکہ وقار و نجات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی فرماں برداری اور رسولوں کی تابعداری میں ہے، برائی کرنے والے کسی نسبت کی وجہ سے اس برائی کے خمیازے سے چھوٹ جائیں ناممکن ہے بلکہ رتی رتی بھلائی اور برائی قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیں گے، یہ آیت صحابہ پر بہت گراں گذری تھی اور حضرت صدیق نے کہا تھا کہ حضور ﷺ اب نجات کیسے ہوگی ؟ جبکہ ایک ایک عمل کا بدلہ ضروری ہے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے بخشے ابوبکر یہ سزا وہی ہے جو کبھی تیری بیماری کی صورت میں ہوتی ہے کبھی تکلیف کی صورت میں کبھی صدمے اور غم و رنج کی صورت میں اور کبھی بلا و مصیبت کی شکل میں (مسند احمد) اور روایت میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا ہر برائی کرنے والا دنیا میں بدلہ پالے گا۔ ابن مردویہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے غلام سے فرمایا دیکھو جس جگہ حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دی گئی ہے وہاں تم نہ چلنا، غلام بھول گیا، اب حضرت عبداللہ کی نظر ابن زبیر پر پڑی تو فرمانے لگے واللہ جہاں تک میری معلومات ہیں میری گواہی ہے کہ تو روزے دار اور نمازی اور رشتے ناتے جوڑے والا تھا مجھے اللہ سے امید ہے کہ جو لغزشیں تجھ سے ہوگئیں ان کا بدلہ دنیا میں ہی مکمل ہو اب تجھے اللہ کوئی عذاب نہیں دے گا پھر حضرت مجاہد کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے میں نے حضرت ابوبکر سے سنا ہے وہ فرماتے تھے رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا جو شخص برائی کرتا ہے اس کا بدلہ دنیا میں ہی پالیتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے حضرت ابن زبیر کو سولی پر دیکھ کر فرمایا اے ابو حبیب اللہ تجھ پر رحم کرے میں نے تیرے والد کی زبان سے یہ حدیث سنی ہے، ابن مردویہ غم ناک ہوگئے انہیں یہ معلوم ہونے لگا کہ گویا ہر ہر عمل کا بدلہ ہی ملنا جب ٹھہرا تو نجات مشکل ہوجائے گی آپ نے فرمایا سنو صدیق تم اور تمہارے ساتھی یعنی مومن تو دنیا میں ہی بدلہ دے دئیے جاؤ گے اور ان مصیبتوں کے باعث تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے قیامت کے دن پاک صاف اٹھو گے ہاں اور لوگ کی برائیاں جمع ہوتی جاتی ہیں اور قیامت کے دن انہیں سزا دی جائے گی، یہ حدیث ترمذی نے بھی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہے اور دوسرا راوی مولی بن سباع مجہول ہے اور بھی بہت سے طریق سے اس روایت کا ماحصل مروی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے، حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ آیت سب سے زیادہ ہم پر بھاری پڑتی ہے تو آپ نے فرمایا مومن کا یہ بدلہ وہی ہے جو مختلف قسم کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی صورت میں اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہاں تک کہ مومن اپنی نقدی جیب میں رکھ لے پھر ضرورت کے وقت تلاش کرے تھوڑی دیر نہ ملے پھر جیب میں ہاتھ ڈالنے سے نکل آئے تو اتنی دیر میں جو اسے صدمہ ہوا اس سے بھی اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور یہ بھی اس کی برائیوں کا بدلہ ہوجاتا ہے یونہی مصائب دنیا اسے کندن بنا دیتے ہیں کہ قیامت کا کوئی بوجھ اس پر نہیں رہتا جس طرح سونا بھٹی میں تپا کر نکال لیا جائے اس طرح دنیا میں پاک صاف ہو کر اللہ کے پاس جاتا ہے، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا مومن کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ موت کی سختی کا بھی، مسند احمد میں ہے جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور انہیں دور کرنے والے بکثرت نیک اعمال ہوتے ہیں تو اللہ اس پر کوئی غم ڈال دیتا ہے جس سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، سعید بن منصور لائے ہیں کہ جب صحابہ پر اس آیت کا مضمون گراں گذرا تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو اور ملے جلے رہو مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہ کا کفارہ ہے یہاں تک کہ کانٹے کا لگنا بھی اس سے کم تکلیف بھی روایت میں ہے کہ جب صحابہ رو رہے تھے اور رنج میں تھے اس وقت حضور ﷺ نے ان سے یہ فرمایا، ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ ہماری ان بیماریوں میں ہمیں کیا ملتا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں " اسے سن کر حضرت کعب بن عجزہ نے دعا مانگی کہ یا اللہ مرتے دم تک مجھ سے بخار جدا نہ ہو لیکن حج وعمرہ جہاد اور نماز با جماعت سے محروم نہ ہوں ان کی یہ دعا قبول ہوئی جب ان کے جسم پر ہاتھ لگایا جاتا تو بخار چڑھا رہتا، ؓ (مسند) حضور ﷺ سے ایک مرتبہ کہا گیا کہ کیا ہر برائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں، اسی جیسا اور اسی جتنا لیکن ہر بھلائی کا بدلہ دس گنا کرکے دیا جائیگا پس اس پر افسوس ہے جس کی اکائیاں دہائیوں سے بڑھ جائیں، (ابن مردویہ) حضرت حسن فرماتے ہیں اس سے مراد کافر ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَهَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ) 24۔ سبأ :17) ابن عباس اور سعید بن جبیر فرماتے ہیں یہاں برائی سے مراد شرک ہے۔ یہ شخص اللہ کے سوا اپنا کوئی ولی اور مددگار نہ پائے گا، ہاں یہ اور بات ہے کہ توبہ کرلے، امام ابن جریر فرماتے ہیں ٹھیک بات یہی ہے کہ ہر برائی کو یہ آیت شامل ہے جیسے کہ احادیث گذر چکیں واللہ اعلم۔ بدعملیوں کی سزا کا ذکر کرکے اب نیک اعمال کی جزا کا بیان فرما رہا ہے بدی کی سزا یا تو دنیا میں ہی ہوجاتی ہے اور بندے کے لئے یہی اچھا یا آخرت میں ہوتی ہے اللہ اس سے محفوظ رکھے، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دونوں جہان کی عافیت عطا فرمائے اور مہربانی اور درگذر کرے اور اپنی پکڑ اور ناراضگی سے بچالے، اعمال صالحہ کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور اپنے احسان و کرم و رحم سے انہیں قبول کرتا ہے کسی مرد عورت کے کسی نیک عمل کو وہ ضائع نہیں کرتا ہاں یہ شرط ہے کہ وہ ایماندار ہو، ان نیک لوگوں کو وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا اور ان کی حسنات میں کوئی کمی نہیں آنے دے گا، فتیل کہتے ہیں اس گٹھلی کے درمیان جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے اس کو مگر یہ دونوں تو کھجور کے بیج میں ہوتے ہیں اور قطمیر کہتے ہیں اس بیج کے اوپر کے لفافے کو اور یہ تینوں لفظ اس موقعہ پر قرآن میں آئے ہیں۔ پھر فرمایا اس سے اچھے دین والا کون ہے ؟ جو نیک نیتی کے ساتھ اس کے فرمان کے مطابق اس کے احکام بجا لائے اور ہو بھی وہ محسن یعنی شریعت کا پابند دین حق اور ہدایت پر چلنے والا رسول کی حدیث پر عمل کرنے والا ہر نیک عمل کی قبولیت کے لئے یہ دونوں باتیں شرط ہیں یعنی خلوص اور وحی کے مطابق ہونا، خلوص سے یہ مطلب کہ فقط اللہ کی رضامندی مطلوب ہو اور ٹھیک ہونا یہ ہے کہ شرعیت کی ماتحتی میں ہو، پس ظاہر تو قرآن حدیث کے موافق ہونے سے ٹھیک ہوجاتا ہے اور باطن نیک نیتی سے سنور جاتا ہے، اگر ان دو باتوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل فاسد ہوتا ہے، اخلاص نہ ہونے سے منافقت آجاتی ہے لوگوں کی رضا جوئی اور انہیں کھانا مقصود ہوجاتا ہے اور عمل قابل قبول نہیں رہتا سنت کے موافق نہ ہونے سے ضلالت و جہالت کا مجموعہ ہوجاتا ہے اور اس سے بھی عمل پایہ قبولیت سے گر جاتا ہے اور چونکہ مومن کا عمل ریاکاری اور شرعیت کے مخالفت سے بچا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کا عمل سب سے اچھا عمل ہوجاتا ہے جو اللہ کو پسند آتا ہے اور اس کی جزا کا بلکہ اور گناہوں کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے۔ اعزاز خلیل کیوں اور کیسے ملا ؟ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کرو یعنی آنحضرت ﷺ کی اور آپ کے قدم بہ قدم چلنے والوں کی بھی قیامت تک ہوں، جیسے اور آیت میں ہے (آیت ان اولی الناس بابراھیم الخ،) یعنی ابراہیم ؑ سے قریب تر وہ لوگ ہیں جو ان کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے اور نبی ہوئے۔ دوسری آیت میں فرمایا (ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔ النحل :123) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کر جو مشرک نہ تھے، حنیف کہتے ہیں قصداً شرک سے بیزار اور پوری طرح حق کی طرف متوجہ ہونے والا جسے کوئی روکنے والا روک نہ سکے اور کوئی ہٹانے والا ہٹا نہ سکے۔ پھر حضرت خلیل اللہ کی اتباع کی تاکید اور ترغیب کے لئے ان کا وصف بیان کیا کہ وہ اللہ کے دوست ہیں، یعنی بندہ ترقی کرکے جس اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکتا ہے اس تک وہ پہنچ گئے خلت کے درجے سے کوئی بڑا درجہ نہیں محبت کا یہ اعلیٰ تر مقام ہے اور یہاں تک حضرت ابراہیم عروج کر گئے ہیں اس کی وجہ کی کامل اطاعت ہے جیسے فرمان ہے (وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ) 53۔ النجم :37) یعنی ابراہیم کو جو حکم ملا وہ اسے بخوشی بجالائے، کبھی اللہ کی مرضی سے منہ نہ موڑا، کبھی عبادت سے نہ اکتائے کوئی چیز انہیں عبادت الہیہ سے مانع نہ ہوئی اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ للنَّاسِ اِمَامًا ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ) 2۔ البقرۃ :124) جب جب جس جس طرح اللہ عزاسمہ نے ان کی آزمائش لی وہ پورے اترے جو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہوں نے کر دکھایا۔ فرمان ہے کہ ابراہیم مکمل یکسوئی سے توحید کے رنگ میں شرک سے بچتا ہوا ہمارا تابع فرمان بنا رہا۔ حضرت معاذ نے یمن میں صبح کی نماز میں جب یہ آیت پڑھی تو ایک شخص نے کہا لقدقررت عین ام ابراہیم ابراہیم کی ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیل اللہ لقب کی یہ وجہ ہوئی کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر آپ اپنے ایک دوست کے پاس مصر میں یا موصل میں گئے تاکہ وہاں سے کچھ اناج غلہ لے آئیں یہاں کچھ نہ ملا خالی ہاتھ لوٹے جب اپنی بستی کے قریب پہنچے تو خیال آیا آؤ اس ریت کے تودے میں سے اپنی بوریاں بھر کرلے چلو تاکہ گھر والوں کو قدرے تسکین ہوجائے چناچہ بھر لیں اور جانوروں پر لاد کے لے چلے، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ ریت سچ مچ آٹا بن گئی آپ تو گھر پہنچ کر لیٹ رہے تھکے ہارے تو تھے ہی آنکھ لگ گئی گھر والوں نے بوریاں کھولیں اور انہیں بہترین آٹے سے بھرا ہوا پایا آٹا گوندھا روٹیاں پکائیں جب یہ جاگے اور گھر میں سب کو خوش خوش پایا اور روٹیاں بھی تیار دیکھیں تو تعجب سے پوچھنے لگے آٹا کہاں سے آیا ؟ جو تم نے روٹیاں پکائیں انہوں نے کہا آپ ہی تو اپنے دوست کے ہاں سے لائے ہیں اب آپ سمجھ گئے اور فرمایا ہاں یہ میں اپنے دوست اللہ عزوجل سے لایا ہوں پس اللہ نے بھی آپ کو اپنا دوست بنا لیا اور خلیل اللہ نام رکھ دیا، لیکن اس کی صحت اور اس واقعہ میں ذرا تامل ہے، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی روایت ہو جسے ہم سچا نہیں کہہ سکتے گو جھٹلا بھی نہیں سکتے حقیقت یہ ہے کہ آپ کو یہ لقب اس لئے ملا کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت حد درجہ کی تھی کامل اطاعت شعاری اور فرمانبرداری تھی اپنی عبادتوں سے اللہ تعالیٰ کو خوش کرلیا تھا، نبی ﷺ نے بھی اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا، لوگو اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو خلیل اور ولی دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر بن ابو قحافہ کو بناتا بلکہ تمہارے ساتھی اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں، (بخاری مسلم) اور روایت میں ہے اللہ اعلیٰ واکرم نے جس طرح ابراہیم کو خلیل بنا لیا تھا اسی طرح مجھے بھی اپنا خلیل کرلیا ہے، ایک مرتبہ اصحاب رسول آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے آپس میں ذکر تذکرے کر رہے تھے ایک کہہ رہا تھا تعجب ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا دوسرے نے کہا اس سے بھی بڑھ کر مہربانی یہ کہ حضرت موسیٰ سے خود باتیں کیں اور انہیں کلیم بنایا، ایک نے کہا اور عیسیٰ تو روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہے، ایک نے کہا آدم صفی اللہ اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں، حضور ﷺ جب باہر تشریف لائے سلام کیا اور یہ باتیں سنیں تو فرمایا بیشک تمہارا قول صحیح ہے، ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور عیسیٰ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں اور آدم صفی اللہ ہیں اور اسی طرح محمد ﷺ ہیں، مگر میں حقیقت بیان کرتا ہوں کچھ فخر کے طور پر نہیں کہتا کہ میں حبیب اللہ ہو، میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے شفاعت قبول کیا جانے والا ہوں اور سب سے پہلے جنت کے دروازے پر دستک دینے والا ہوں اللہ میرے لئے جنت کو کھول دے گا اور مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ مومن فقراء ہوں گے قیامت کے دن تمام اگلوں پچھلوں سے زیادہ اکرام و عزت والا ہوں یہ بطور فخر کے نہیں بلکہ بطور سچائی کو معلوم کرانے کیلئے میں تم سے کہہ رہا ہوں، یہ حدیث اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض کے شاہد موجود ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو کہ خلت صرف حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے تھا اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین (مستدرک حاکم) اسی طرح کی روایت حضرت انس بن مالک اور بہت سے صحابہ تابعین اور سلف وخلف سے مروی ہے، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ابراہیم ؑ کی عادت تھی کہ مہانوں کیساتھ کھائیں۔ ایک دن آپ مہمان کی جستجو میں نکلے لیکن کوئی نہ ملا واپس آئے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے پوچھا اے اللہ کے بندے تجھے میرے گھر میں آنے کی اجازت کس نے دی ؟ اس نے کہا اس مکان کے حقیقی مالک نے، پوچھا تم کون ہو ؟ کہا میں ملک الموت ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ میں اسے یہ بشارت سنا دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا خلیل بنا لیا ہے، یہ سن کر حضرت نے کہا پھر تو مجھے ضرور بتائیے کہ وہ بزرگ کون ہیں ؟ اللہ عزوجل کی قسم اگر وہ زمین کے کسی دور کے گوشے میں بھی ہوں گے میں ضرور جاکر ان سے ملاقات کروں گا پھر اپنی باقی زندگی ان کے قدموں میں ہی گزاروں گا یہ سن کر حضرت ملک الموت نے کہ وہ شخص خود آپ ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کیا سچ مچ میں ہی ہوں ؟ فرشتے نے کہا ہاں آپ ہی ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ آپ مجھے یہ بھی بتائیں گے کہ کس بنا پر کن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ؟ فرشتے نے فرمایا اس لئے کہ تم ہر ایک کو دیتے رہتے ہو اور خود کسی سے کچھ طلب نہیں کرتے اور روایت میں ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ کو خلیل اللہ کے ممتاز اور مبارک لقب سے اللہ نے ملقب کیا تب سے تو ان کے دل میں اس قدر خوف رب اور ہیبت رب سما گئی کہ ان کے دل کا اچھلنا دور سے اس طرح سنا جاتا تھا جس طرح فضا میں پرند کے پرواز کی آواز۔ صحیح حدیث میں جناب رسول آخر الزمان ﷺ کی نسبت بھی وارد ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کا خوف آپ پر غالب آجاتا تھا تو آپ کے رونے کی آواز جسے آپ ضبط کرتے جاتے تھے اس طرح دور و نزدیک والوں کو سنائی دیتی تھی جیسے کسی ہنڈیا کے کھولنے کی آواز ہو۔ پھر فرمایا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت میں اور اس کی غلامی میں اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ جس طرح جب جو تصرف ان میں وہ کرنا چاہتا ہے بغیر کسی روک ٹوک کے بلامشورہ غیرے اور بغیر کسی کی شراکت اور مدد کے کر گذرتا ہے کوئی نہیں جو اس کے ارادے سے اسے باز رکھ سکے کوئی نہیں جو اس کے حکم میں حائل ہو سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی کو بدل سکے وہ عظمتوں اور قدرتوں والا وہ عدل وحکمت والا وہ لطف و رحم والا واحد وصمد اللہ ہے۔ اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو گھیرے ہوئے ہے، مخفی سے مخفی اور چھوٹی سے چھوٹی اور دور سے دور والی چیز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، ہماری نگاہوں سے جو پوشیدہ نہیں، ہماری نگاہوں سے جو پوشیدہ ہیں اس کے علم میں سب ظاہر ہیں۔

آیت 123 - سورہ نساء: (ليس بأمانيكم ولا أماني أهل الكتاب ۗ من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا...) - اردو