(آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوء فان اللہ کان عفوا قدیرا (4 : 149) (لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ )
یوں اسلام کا منہاج تربیت نفس مومن اور جماعت مسلمہ کو ایک قدم اور بلند کردیتا ہے پہلا مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف انسان کیلئے بدگوئی کے ساتھ منہ کھولنا اچھا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں ایک استثنائی صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ مظلوم بدگوئی کرکے بدلہ بھی لے سکتا ہے اور حصول انصاف کو بھی ممکن بنا سکتا ہے ۔ دوسرے مرحلے پر اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ سب کے سب بھلائی کیلئے ہر وقت کوشاں رہیں اور جس شخص پر ظلم کیا گیا ہے اور وہ بدگوئی کرکے اپنا بدلہ لے سکتا ہے اسے بھی یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ معاف کر دے اور صرف نظر کرے تو یہ نہایت ہی اچھا فعل ہے۔ یہ نہایت ہی بلند اخلاقی ہے ‘ بشرطیکہ وہ انتقام پر قادر ہو اور وہ انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو ترجیح دے ۔ کیونکہ قدرت انتقام کے بغیر عفو کیا معنی ؟ گدا گر تواضع کند خوائے اوست۔
اگر عفو و درگزر کی نیکی کھل کر کریں تو معاشرہ میں عفو و درگزر کی رسم چلے گی اور نیکی پھیلے گی اور اگر وہ یہ نیکی خفیہ طور پر کریں گے تو بھی تزکیہ نفوس کا کام ہوگا ۔ بھلائی اگر اعلانیہ کی جائے تو بھی مفید ہے اور اگر خفیہ کی جائے تو بھی مفید ہے ۔ جب لوگوں کے درمیان عفو و درگزر عام ہوگا تو بدگوئی کرنے کے مواقع خود ہی کم ہوتے چلے جائیں گے بشرطیکہ یہ عفو و درگزر وہ شخص کرے جو انتقام پر قدرت رکھتا ہو ۔ لیکن اگر کسی شخص کی کمزوری اسے عفو پر مجبور کر رہی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ عفو و درگزر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناتے ہوئے ہونا چاہئے ۔ اللہ قدرت کے باوجود عفو سے کام لیتا ہے ۔ (آیت) ”(فان اللہ کان عفوا قدیرا) (4 : 149) (اللہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ وہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے)
اس کے بعد بات کا رخ اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ پہلے تمام اہل کتاب کے حوالے سے بات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد خصوصا یہودیوں کے بعض کارناموں کا تذکرہ ہوتا ہے اور آخر میں نصاری پر تنقید ہوتی ہے ۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں سخت بدگوئی کرتے تھے اور ان کی ذات کے بارے میں بہتان باندھتے تھے ۔ اس حصہ کلام میں ان کی ان بدگویوں کا ذکر بھی ہوتا ہے ۔ اس طرح یہودیوں پر کی جانے والی تنقید کا رابطہ دو سابقہ آیات سے بھی واضح ہوجاتا ہے جن میں بدگوئی کی ممانعت کی گئی ہے ۔
اہل کتاب اور یہود ونصاری پر یہ تنقید بھی اس معرکے کا حصہ ہے جو مدینہ میں جماعت مسلمہ کو اس کے دشمنوں کے ساتھ درپیش تھا جس کا ایک بہت بڑا حصہ اس سورة میں اور سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں تفصیلا بیان ہوا ہے ۔ اس معرکے کی تفصیلات قرآنی ترتیب کے مطابق ملاحظہ ہوں ۔
آیت 149 اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ جہاں تک تو خیر کا معاملہ ہے تم اسے بلند آواز سے کہو ‘ ظاہر کرو یا چھپاؤ برابر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خیر تو ہر حال میں خیر ہی ہے ‘ عیاں ہو یا خفیہ۔اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کردینا یقیناً نیکی کا ایک اونچا درجہ ہے۔ اس لیے یہاں ترغیب کے انداز میں مظلوم سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ تمہیں چھوٹ ہے ‘ تمہاری بدگوئی کی بھی تم پر کوئی گرفت نہیں ‘ لیکن زیادتی کی تلافی کا اس سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ بھی ہے ‘ تم اس بلند درجے کو حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ وہ یہ کہ تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کر دو۔ اس کے ساتھ اللہ کی قدرت کا ذکر بھی ہوا ہے کہ انسان تو بسا اوقات بدلہ لینے کی طاقت نہ ہونے کے باعث معاف کرنے پر مجبور بھی ہوجاتا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ‘ قدیر ہے ‘ وہ تو جب چاہے ‘ جیسے چاہے there then خطاکار کو فوراً سزا دے کر حساب چکاسکتا ہے۔ لیکن اتنی قدرت کے باوجود بھی وہ معاف فرما دیتا ہے۔ آئندہ آیات میں پھر وحدت الادیان جیسے اہم مضمون کا تذکرہ ہونے جا رہا ہے اور اس سلسلے میں یہاں تمام غلط نظریات کی جڑ کاٹی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ بات زیر بحث آچکی ہے کہ فلسفۂ وحدت ادیان کا ایک حصہ صحیح ہے۔ وہ یہ کہ اصل origin سب ادیان کی ایک ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ مختلف ادیان کی موجودہ شکلوں میں بھی یک رنگی اور ہم آہنگی ہے تو اس سے بڑی حماقت ‘ جہالت ‘ ضلالت اور گمراہی کوئی نہیں۔ یہاں پر اب کانٹے کی بات بتائی جا رہی ہے کہ دین میں جس چیز کی وجہ سے بنیادی خرابی پیدا ہوتی ہے وہ اصل میں کیا ہے۔ وہ غلطی یا خرابی ہے اللہ اور رسولوں میں تفریق ! ایک تفریق تو وہ ہے جو رسولوں کے درمیان کی جاتی ہے ‘ اور دوسری تفریق اللہ اور رسول ﷺ کو علیحدہ علیحدہ کردینے کی شکل میں سامنے آتی ہے ‘ اور یہ سب سے بڑی جہالت ہے۔ فتنۂ انکار حدیث اور انکار سنت اسی جہالت و گمراہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اہل قرآن سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ رسول ﷺ کا کام قرآن پہنچا دینا تھا ‘ سو انہوں نے پہنچا دیا ‘ اب اصل معاملہ ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ کی کتاب عر بی زبان میں ہے ‘ ہم اس کو خود سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ رسول ﷺ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو جو اس کی تشریح سمجھائی تھی اور اس زمانے کے لوگوں نے اسے قبول کیا تھا ‘ وہ اس زمانے کے لیے تھی۔ گویا رسول ﷺ کی تشریح کوئی دائمی چیز نہیں ‘ دائمی شے صرف قرآن ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کو جدا کردیا۔ یہاں اسی گمراہی کا ذکر آ رہا ہے۔