(آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا (41) یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ (42) (4 : 41۔ 42)
” پھر سوچو کہ اس وقت یہ لوگ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی آپ کو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔ اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔
پہلی آیت میں بطور تمہید کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اس لئے قیامت میں مکمل عدالت ہوگی اور اللہ کے ترازو میں بال برابر بھی کھوٹ نہ ہوگا ۔ اور یہ کہ اللہ حسنات کو کئی گنا کر دے گا اور اس پر مستزاد اللہ کی جانب سے اہل ایمان پر فضل وکرم ہوگا ۔ اللہ کی رحمت ہوگی مگر ان لوگوں پر جو رحمت کے مستحق ہوں گے اور وہاں اللہ کا فضل بھی ہوگا مگر صرف ان لوگوں پر ہوگا جو اپنے ایمان کے ذریعے اللہ کے فضل کے امیدوار ہوں گے ۔
مگر ان دوسرے لوگوں کا حال کیا ہوگا جنہوں نے ایمان کی پونجی پیش نہیں کی اور انہوں نے عمل کا سرمایہ جمع نہیں کیا ۔ انہوں کفر اور بداعمالیاں جمع کیں ۔ اس دن پھر ان کا حال کیا ہوگا ؟ اس وقت جب ہم ہر قوم سے اس قوم کے خلاف ایک گواہ لائیں گے اور اسے محمد ﷺ تمہیں امت مسلمہ پر گواہ لائیں گے ۔
یہاں آکر قیامت کا منظر صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔ یہ ایک وسیع میدان ہے ۔ تمام امتیں جگہ جگہ موجود ہیں اور ہر امت کے اعمال پر ایک گواہ پیش ہوگا ۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ‘ فخر کیا ‘ غرور کیا ‘ بخل کیا ‘ بخل کے داعی رہے ۔ اللہ کے فضل کو چھپاتے رہے اور دکھاوا کرتے رہے اور کوئی کام رضائے الہی کے لئے نہ کرتے تھے ۔ یہ منظر کشی ایسی ہے کہ الفاظ کے اندر سے قریب سے قریب ہے کہ ہم انہیں دیکھ لیں ۔ وہ میدان میں کھڑے ہیں ‘ ہر امت کے رسول کو شہادت کے لئے بلایا جاتا ہے اور ہمارے رسول ﷺ کو بھی بلایا جاتا ہے اور یہ لوگ اپنے پورے کفر کے ساتھ ‘ اپنے تمام پوشیدہ اور ظاہری اعمال کے ساتھ ‘ اپنے پورے تکبر اور غرور کے ساتھ ‘ اپنی پوری کنجوسی اور دعوت بخل کے ساتھ اپنے خالق کی درگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ اس رازق کی عدالت میں ہوں گے جس کے فضل کو انہوں نے چھپایا اور اس کے دیئے ہوئے سے خرچ نہ کیا ۔ اب ان کے سامنے وہ دن (قیامت) ہے جس پر ان کا یقین نہ تھا ۔ پھر اسی رسول کی موجودگی میں انصاف ہوگا جس کا انہوں نے انکار کیا تھا ‘ پھر ان کا کیا حال ہوگا ؟
بیشک یہ لوگ عظیم شرمندگی اور ذلت سے دو چار ہوں گے ۔ شرمندگی اور ندامت سے انکے سرجھکے ہوں گے وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے کیونکہ انکار سے انہیں فائدہ ہی کیا ہوگا ۔
قرآن کریم کی عبارت ان مضامین کو محض ظاہری انداز میں بیان نہیں کرتی بلکہ اسے ایک نفسیاتی تصویر کشی کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے اوپر شرمندگی ‘ ذلت اور ندامت کے سائے صاف نظر آرہے ہیں ۔ ذرا الفاظ ملاحظہ کریں ۔
آیت 41 فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ یعنی اس نبی اور رسول کو گواہ بنا کر کھڑا کریں گے جس نے اس امت کو دعوت پہنچائی ہوگی۔ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ۔یعنی آپ ﷺ ‘ کو کھڑے ہو کر کہنا ہوگا کہ اے اللہ ! میں نے ان تک تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ہماری عدالتی اصطلاح میں اسے استغاثہ کا گواہ prosecution witness کہا جاتا ہے۔ گویا عدالت خداوندی میں نبی مکرم ﷺ استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے پیش ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ ‘ تیرا پیغام جو مجھ تک پہنچا تھا میں نے انہیں پہنچادیا تھا ‘ اب یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ چناچہ اپنی ہی قوم کے خلاف گواہی آگئی نا ؟ یہاں الفاظ نوٹ کر لیجیے : عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا اور عَلٰی ہمیشہ مخالفت کے لیے آتا ہے۔ ہم تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے شفاعت کی امید میں ہیں اور یہاں ہمارے خلاف مقدمہ قائم ہونے چلا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ دربار خداوندی میں ہمارے خلاف گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! میں نے تیرا دین ان کے سپرد کیا تھا ‘ اب اسے دنیا میں پھیلانا ان کا کام تھا ‘ لیکن انہوں نے خود دین کو چھوڑ دیا۔ سورة الفرقان میں الفاظ آئے ہیں : وَقَال الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا اور رسول ﷺ کہیں گے کہ پروردگار ‘ میری قوم نے اس قرآن کو ترک کردیا تھا“۔ سورة النساء کی آیت زیر مطالعہ کے بارے میں ایک واقعہ بھی ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے ارشاد فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ ! انہوں نے عرض کیا حضور آپ کو سناؤں ؟ آپ ﷺ پر تو نازل ہوا ہے۔ فرمایا : ہاں ‘ لیکن مجھے کسی دوسرے سے سن کر کچھ اور حظ حاصل ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ رض نے سورة النساء پڑھنی شروع کی۔ حضور ﷺ ‘ بھی سن رہے تھے ‘ باقی اور صحابہ رض ‘ بھی ہوں گے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رض ‘ گردن جھکائے پڑھتے جا رہے تھے۔ جب اس آیت پر پہنچے فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا : حَسْبُکَ ‘ حَسْبُکَ بس کرو ‘ بس کرو ! عبداللہ بن مسعود رض نے سر اٹھا کر دیکھا تو حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس وجہ سے کہ مجھے اپنی قوم کے خلاف گواہی دینی ہوگی۔