یہ بھی جماعت مسلمہ کی تربیت کی ایک اہل کڑی ہے جسے اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی پستیوں سے سربلند کیا ۔ شراب نوشی جاہلی معاشرے کی ایک عام اور بنیادی عادت تھی بلکہ قدیم اور جدید جاہلیتوں کی یہ امتیازی خصوصیت رہی ہے ۔ رومی معاشرہ جب اپنی ترقی کے انتہائی عروج پر تھا تو شراب نوشی اس کی ممتاز ترین خصوصیات میں سے ایک تھی ، اسی طرح فارس کے جاہلی معاشرے کی اہم خصوصیات میں سے شراب نوشی ایک اہم خصوصیت تھی ۔ آج امریکی اور یورپین تہذیب اور جاہلیت اپنے عروج پر ہیں اور شراب نوشی انکی ممتاز ترین صفت ہے ۔ افریقہ میں جو ترقی یافتہ معاشرے گزرے ہیں ان کی خصوصیات میں بھی یہ اہم خصوصیت رہی ہے ۔
سویڈن آج کے ترقی یافتہ جاہلی ممالک میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں اس کا حال یہ تھا کہ اس کا ہر خاندان اپنے لئے مخصوص شراب استعمال کرتا تھا ۔ اور ان میں سے ہر فرد اوسطا بیس لیٹر شراب پیتا تھا ۔ حکومت سویڈن کو ان اعداد سے تشویش لاحق ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ نشے کے خطرناک حد تک عادی بنتے جارہے تھے ۔ حکومت نے یہ پالیسی اختیار کی کہ شراب خرید کر اسے سٹور کیا جائے ۔ اور انفرادی استعمال کے اعداد و شمار کی حد کو کم کرنے کی سعی کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عام مقامات پر شراب نوشی کی ممانعت کردی ۔ لیکن حکومت نے جلدی اپنے اقدامات سے رجوع کرلیا ہے اور عائد شدہ پابندیوں میں تخفیف کردی گئی ۔ ہوٹلوں میں شراب نوشی کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر کوئی کھانا کھائے تو شراب پی سکتا ہے ۔ اس کے بعد پبلک مقامات میں سے بعض مقامات پر اجازت دے دی گئی اور یہ اجازت بھی نصف رات تک دی گئی ۔ نصف رات کے بعد نبیذ اور بیر کے استعمال کی اجازت دی گئی لیکن نوجوانوں کے اندر شراب نوشی کی عادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
امریکہ میں ایک دفعہ حکومت نے اس بری عادت کو ختم کرنے کا ارادہ کیا ۔ 1919 ء میں اس نے قانون تحریم شراب نوشی پاس کیا ۔ اس قانون کو خشکی کا قانون کہا گیا ۔ اس لئے کہ اس نے شراب نوشی کے ذریعے آبپاشی کو منع کردیا ۔ یہ قانون صرف 14 سال تک چل سکا اور حکومت نے اسے 1923 ء میں منسوخ کردیا ۔ اس قانون کی حمایت میں حکومت امریکہ نے ریڈیو ‘ سینما ‘ تقاریر اور نشرواشاعت اور پروپیگنڈے کے جدید ترین وسائل استعمال کئے ۔ صرف شراب نوشی کے خلاف نشرواشاعت پر حکومت نے اس وقت 60 ملین ڈالر خرچ کئے اور جو کتابیں ‘ رسالے اور پمفلٹ شائع کئے گئے وہ دسیوں بلین صفحات پر مشتمل تھے ۔ اس قانون کے پاس کرنے کی وجہ سے حکومت کو 250 بلین پونڈ کے اخراجات بشکل تاوان دینے پڑے ۔ تین سو افراد لقمہ اجل بنے ۔ 335 ‘ 32 ‘ 5 افراد قید ہوئے ‘ 61 ملین پونڈ جرمانے ہوئے ‘ چار بلین اور 400 ملین پونڈ مالیت کی جائیدادیں ضبط ہوئیں ۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود حکومت اس قانون کو منسوخ کرنے پر مجبور ہوئی اور اس نے پسپائی اختیار کی ۔
جاہلیت میں شراب نوشی ایک عادت تھی لیکن اسلام نے چند آیات نازل کر کے اس کا خاتمہ کردیا ۔ یہ ہے وہ فرق نفس انسانی اور انسانی معاشرے کے ساتھ اسلامی طرز عمل اور جاہلی طرز عمل اور طریقہ تربیت کا ۔ اور قدیم زمانے میں بھی یہ فرق تھا اور آج بھی یہ فرق اپنی جگہ قائم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں شراب نوشی کا کیا حال تھا ؟ اس کی حقیقی صورت حال اس شخص کو معلوم ہوگا جو دور جاہلیت کے اشعار کا قدرے گہرا مطالعہ کرے گا ۔ ادبی موضوعات میں سے شراب اہم ترین موضوع رہا ہے جیسا کہ جاہلی زندگی میں یہ ایک اہم خصوصیت تھی ، شراب اس قدر فروخت ہوتی تھی کہ تجارت کا لفظ عام تجارت کے بجائے شراب کی فروخت کے ساتھ مخصوص ہوگیا ۔ مشہور شاعر ولید کہتا ہے۔
قد بت سامرھا وغایۃ تاجر
وافیت اذ رفعت رعز مدامھا :
(حیش و عشرت کی کئی ایسی راتیں میں نے قصہ گوئی میں بسر کیں اور ان میں شراب ایسے تاجروں کے پاس پہنچی جنہوں نے اپنی کالونی پر نئے نئے جھنڈے لگائے تھے اور پرانی شراب کے دام بہت ہی چڑھ گئے) عمرو ابن قمیہ کہتا ہے ۔
اذا اسحب الربط والمروط الی
ادنی تجاری وانفض اللمما :
ّ (اس جوانی کے وقت کو یاد کرو جب ریشم کے قیمتی کپڑے پہن کر اپنے قریب ترین شراب فروش کے پاس پہنچ جاتا تھا اور اپنے سر کے لمبے لمبے بالوں کو سر کی حرکت کی وجہ سے جھاڑتا تھا نشہ ‘ شراب اور غرور کی وجہ سے)
مجالس شراب نوشی کا بیان اور شراب نوشی پر فخر کے مضامین سے جاہلیت کے اشعار بھرین ہوئے اور یہ ان کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ امراء القیس کہتے ہیں ۔
1۔ واصحبت ودعت الصباغیر اننی اراقب حلالت من العیش اربعا :
2۔ فمنھن قولی للندامی ترفقوا بداجون نشاجا من الخمر مترعا :
3۔ ومنھن رکض الخیل ترجم بالقنا یبادرون معربا امنا ان یفزعا :
(1) صبح ہوئی اور اس نے شراب کو الواداع کہہ دیا ‘ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو زندگی کی چار صفات کو بہت پسند کرتا ہوں ۔
(2) پہلی یہ کہ اپنے ہم پیالہ می خواروں کو یہ
(3) ان میں سے ایک یہ کہ میں گھوڑا ایڑھی لگاؤں اور تیر پھینکتے ہوئے نیل گایوں کے ایسے گلے پر جھپٹ کر خوفزدہ کر دون جو نہایت ہی امن و سکون سے چر رہا تھا ۔
اور طرفہ ابن العبد کہتے ہیں :
فلولا ثلاث ھن من عیسۃ الفتی
وجدک لم احفل متی قام عودی :
اگر تین چیزیں نہ ہوتیں جو ایک نوجوان کے لئے سامان عیش ہیں تو تیرے سر کی قسم میں اپنی پوری زندگی میں کسی محفل میں شریک نہ ہوتا ۔
فمنھن سبق العاذلات بشربۃ
کمیت متی ماتعل بالماتزبد :
ان میں سے ایک یہ ہے کہ شرمسار کنندہ عورتوں سے بھی آگے بڑھ کر کلیجی رنگ کا جام اٹھا لیتا ہوں جس میں اگر پانی ڈالا جائے تو کف آجائے ۔
وما زال تشرب الخمور ولذتی
وبذنی وانفاقی طریفی وتالدی :
میں ہمیشہ شراب نوشی اور لذت نوشی کا عادی ہو اور مسلسل اپنی جدت دولت اور تازہ جمع کردہ مال کو خرچ کرتا رہتا ہوں ۔
الی ان تحامثنی العشیرہ کلھا
یہاں تک کہ ہر قبیلہ میری دشمنی پر اتر آیا اور میں اس طرح اکیلا ہوگیا ہوں جس طرح خارش زدہ اونٹ علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔
اور اغشی کہتے ہیں :
فقد شرب الراح تعلمین
یوم المقام دیوما لظعن :
(میں شراب پیتا ہوں اور تمہیں خوب خبر ہے قیام کے دن بھی اور سفر کے دن بھی ۔
واشرب بالریف حی یقا
لی قد طال بالریف ما قد دجن :
اور میں سرسبزی اور شادابی میں بہت پیتا ہوں یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اب کے موسم بہار کی بارشوں میں بہت عوانت ہوگئی ہے ۔
مخسل لیثکری کہتے ہیں ۔
(1) لقد شربت من المدامۃ بالصغیر وبالکبیر :
(2) فاذا سکرت فانی رب الخورنق والسدیر :
(3) واذا اصحوت فاننی رب الشویۃ والبعیر :
(1) میں ہمیشہ شراب نوشی کرتا ہوں ‘ چھوٹوں کے ساتھ بھی اور بڑوں کے ساتھ بھی ۔ (یعنی ہر محفل میں)
(2) اگر میں بےہوش ہوجاؤں تو حورنق اور سدیر نامی قلعوں کا مالک ہوں ۔ (یعنی ان قلعوں میں دادعیش دیتا ہوں اور اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہوں)
(3) اور اگر میں ہوش میں ہوا تو پھر میں بکریوں اور اونٹوں کا مالک ہوں ۔ (یعنی بکریاں اور اونٹ ذبح کرتا ہوں اور چراتا ہوں) ۔
تحریم شراب کے مختلف مراحل میں جو واقعات پیش آئے اور ان واقعات کا تعلق جن لوگوں سے ہے ‘ مثلا حضرت عمر ؓ علی ؓ حمزہ ؓ عبدالرحمن ؓ ابن عوف اور ان جیسے دوسرے مشہور صحابہ ؓ اجمعین ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریم شراب سے قبل اس کا رواج کس قدر زیادہ تھا ‘ خصوصا دور جاہلیت میں بعض واقعات مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر کافی ہیں ۔
حضرت عمر ؓ اپنے قصہ اسلام میں بیان کرتے فرماتے ہیں : ” میں جاہلیت میں شراب نوشی کا عادی تھا میں نے سوچا کہ فلاں شراب فروش کے پاس جاؤں اور شراب پی لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ اسلام میں بھی حضرت عمر ؓ شراب استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے جوئے اور شراب کے بارے میں سوال کرتے ہیں ؟ کہہ دیں ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بڑا ہے ۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے دعا کی : ” اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما دے ۔ “ اور آپ نے شراب نوشی کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ شراب کی حرمت کا صریح حکم نازل ہوا :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (90) انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (91) (5 : 90۔ 91) (شراب جوا اور آستانے اور پانسے شیطان کے ناپاک اعمال ہیں ‘ لہذا ان سے اجتناب کرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پالو گے ‘ بیشک شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعے بغض وعداوت پیدا کردے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم اس سے باز آؤگے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا ہاں ہم باز آگئے باز آگئے اور اس کے بعد شراب نوشی سے رک گئے اور آیت (یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو) کے بارے میں دو روایات وارد ہیں جن میں مہاجرین میں سے حضرت علی ؓ اور عبدالرحمن بن عوف اور انصار میں سے سعد بن معاذ شریک واقعہ ہیں ۔
ابن ابی حاتم ‘ یونس ابن حبیب ‘ ابو داؤد ‘ مصعب ابن سعد وہ اپنے والد سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک انصاری نے دعوت طعام تیار کی ۔ اس نے کچھ لوگ مہاجرین کے اور کچھ انصار کے بلائے ۔ ہم نے کھایا پیا یہاں تک کہ ہم مدہوش ہوگئے ‘ پھر اپنے اپنے بارے میں مفاخر بیان کرتے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لی اور سعد کی ناک پر دے ماری ۔ چناچہ سعد مغروزالانف تھے ۔ یہ واقعہ شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری (4 : 43) یہ ایک طویل حدیث ہے جو امام مسلم نے شعبہ سے نقل کی ہے ۔
ابن ابی حاتم ‘ ابن عمار عبدالرحمن ابن عبداللہ دشت کی ابو جعفر ‘ عطاء ابو عبدالرحمن ؓ اجمعین کی سند سے حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن ابن عوف ؓ نے ہمارے لئے کھانا تیار کیا ۔ اس نے ہمیں دعوت دی اور شراب پلائی ‘ شراب نے ہمیں لے لیا ‘ اور نماز کا وقت ہوگیا ۔ لوگوں نے فلاں کو آگے کیا ۔ اس نے پڑھا ۔ (یایھا الکافرون ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون) اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی ۔ (یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ پڑ تھے ہو اسے سمجھو “۔ ) میں سمجھتا ہوں کہ دور جاہلیت میں شراب نوشی کی کثرت اور وسیع استعمال کے ثبوت کے لئے اس سے زیادہ روایات کے بیان کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ روایات کافی ہیں ۔ شراب نوشی اور جوئے بازی کا رواج نہایت ہی وسیع تھا اور دور جاہلیت کی عادات وتقالید میں سے یہ دونوں عادتیں نہایت ہی ممتاز تھیں ۔
سوال یہ ہے کہ ربانی نظام حیات نے اس ممتاز اور نہایت ہی گہری صفت اور عادت کا علاج کس طرح کیا اور اس مصیبت کا دفعیہ کس طرح ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے کوئی سنجیدہ استوار ‘ صالح اور دانشمند معاشرہ اٹھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ اس قدیم اور بری لت کو اسلام نے کس طرح یکلخت ختم کردیا جس کے بعد پہلو قومی اجتماعی عادات سے وابستہ تھے اور حض پہلو قومی وذاتی اقتصادیات سے وابستہ تھے ۔
قرآن کریم نے اس بری عادت کو صرف چند آیات کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ نہایت نرمی ‘ نہایت ہمدردی کے ساتھ اور نہایت ہی تدریج کے ساتھ ۔ بغیر اس کے کہ کوئی جنگ لڑی جائے ‘ بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی معرکہ آرائی کرنا پڑے اور بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی معرکہ آرائی کرنا پڑے اور بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی بڑی قربانی دی جائے یا خونریزی کی جائے ۔ اس سلسلے میں اگر کوئی قربانی دی گئی تو صرف یہ تھی کہ شراب کے مٹکے اور جام وسبو ٹوٹ گئے یا شراب کے وہ گھونٹ جو پینے والوں کے منہ میں تھے اور انہوں نے تھوک دیئے تھے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ بعض لوگوں نے جب آیت تحریم شراب کے بارے میں سنا اور وہ شراب پی رہے تھے انہوں نے وہ گھونٹ بھی نہ پیا جو ان کے منہ میں تھا ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔
مکہ جہاں اسلامی حکومت نہ تھی ‘ اور نہ مسلمانوں کو اقتدار حاصل تھا ‘ وہاں شراب کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کی طرف ایک سرسری اشارہ کیا گیا تھا ۔ یہ اشارہ سیاق کلام کے اندر ضمنی طور پر کیا گیا تھا لیکن صرف اشارہ ہی تھا مثلا سورت نحل میں آیا تھا ۔
(آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 76) ” اور پھلوں میں سے کھجوریں اور انگور جس سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو ‘ جو وہ کھجوروں اور انگوروں سے بناتے تھے ‘ رزق حسن کے بالمقابل بیان کیا ۔ گویا شراب رزق حسن نہ تھی ‘ یا رزق حسن سے کوئی علیحدہ شے تھی ۔ یہ دور سے ایک اشارہ تھا ۔ اور اس کے ذریعہ ایک بات ایک نوخیز مسلمان کے شعور کے اندر غیر محسوس طور پر بٹھا دی گئی ۔ لیکن شراب نوشی کی عادت ایک انفرادی بدعملی نہ تھی بلکہ یہ تو اس سے زیادہ برا اور گہرا معاشرتی جرم تھا اور عادت بد تھی جبکہ اس کا تعلق اقتصادی امور سے بھی تھا ۔ اس لئے اس کا قلع قمع ایسے بالواسطہ اشارات کے ذریعے نہ کیا جاسکتا تھا ۔
مدینہ طیبہ میں جہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی اور اسلام کی پشت پر اقتدار بھی تھا تب بھی اسلام نے شراب کی حرمت کے احکام محض قانون کے ڈنڈے کے ذریعے بشکل فرمان حکومت نافذ نہیں کیے ۔ اس میں سب سے زیادہ کام قرآن کی قوت تاثیر نے کیا یہ کاروائی نہایت ہی نرمی اور محبت کے انداز میں شروع کی گئی اور انسانی نفسیات کے گہرے مطالعے کی اساس پر شروع کی گئی ۔ نیز اجتماعی امور کے بعد بصیرت افروز حقیقی تقاضوں کے مطابق کی گئی ۔ سب سے پہلے اس سلسلے میں سورة بقرہ کی یہ آیت آتی ہے :
(آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں لیکن ان کا گناہ انکے نفع سے بہت بڑا ہے) یہ ایک سوال کا جواب تھا جس کے ذریعے شراب اور جوئے کے خلاف مسلمانوں کے ضمیر اور شعور کو بیدار کرنا شروع کیا گیا ۔
یہ پہلی گھنٹی تھی جو اسلامی معاشرے میں شراب نوشی کے خلاف سنی گئی ۔ اسلامی احساس اور اسلامی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا ہوا ۔ اور اسلامی فہم اور ادراک کو شراب نوشی اور جوئے کے خلاف بیدار کیا گیا ۔ یہ بتایا گیا کہ اسلام میں حلت اور حرمت کا مدار گناہ اور ثواب پر ہے ۔ اگر اس کے منافع کے مقابلے میں نقصان بہت زیادہ ہے اور گناہ بہت بڑا ہے تو اب راستہ یہی ہے کہ اسے حرام ہونا چاہئے ۔
لیکن یہ معاملہ نہایت ہی گہرا تھا ‘ حضرت عمر ؓ جیسے لوگ شراب کے عادی تھے ‘ اس آیت کے نزول پر آپ نے دعا کی : ” اے اللہ شراب کے بارے میں ہمیں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ “ یہ دعا حضرت عمر ؓ کی طرف سے تھی اور اس سے اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ شراب نوشی عربوں کے رگ وپے میں کس قدر سرایت کرگئی تھی ۔ اس کے بعد وہ واقعات پیش آئے جن کا ذکر ہم نے اوپر کردیا ہے اور اس نے بعد میں یہ آیت آئی ۔
(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو) اور یہ بصیرت افروز اور حکیمانہ نظام زندگی اپنا کام کرتا رہا ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ۔ یہ ایک درمیانی مرحلہ تھا ‘ پہلے تو اس فعل شنیع کے خلاف نفرت پیدا کی گئی کہ یہ ایک گناہ اور ناپاک عمل ہے ‘ لیکن اب ایک محدود پابندی عائد کردی گی اور نشے کے اوقات کے اندر تحدید کردی گئی ۔ اس لئے کہ نماز کے اوقات ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہوتے ہیں ۔ اور یہ پورے دن پر پھیلے ہوئے ہیں اور دو نمازوں کے درمیان اس قدر طویل وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور اس کا نشہ ٹوٹ جائے اور وہ نماز باجماعت پڑھ سکے اور اس حال میں واپس آجائے کہ وہ نماز میں جو کچھ پڑھے اسے اس کا اچھی طرح علم و شعور ہو ۔ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ شراب نوشی کے لئے خاص اوقات ہوتے ہیں یعنی صبح وشام ۔ صبح ہوتے ہی نماز کا وقت ہوتا ہے اور شام کے وقت بھی تین نمازوں کے اوقات جمع ہوتے ہیں ۔ اس لئے ایک مسلمان کے ضمیر کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ شراب پئے یا نماز پڑھے ۔ اور نماز چونکہ ان کے نزدیک دین کا مرکزی ستون بن چکی تھی ‘ اس لئے وہ نماز کے حق میں ہی فیصلہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود حضرت عمر ؓ نے شافی و کافی بیان کی ضرورت محسوس کی ۔
وقت اسی طرح آگے بڑھتا رہا ۔ کچھ مزید واقعات در پیش ہوئے اور وقت آگیا کہ شراب نوشی کو قطعا حرام کردیا جائے ۔ یہ قرآنی نظام حیات کے عین مطابق کیا گیا اور نہایت ہی موزوں موقعہ پر شراب نوشی کی عادت پر یہ فیصلہ کن وار کیا گیا ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (90) انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (91) (5 : 90۔ 91) (بےشک شراب اور جوا اور آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے اجتناب کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ‘ شیطان صرف تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ )
(آیت) ” وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم مغفرۃ واجر عظیم “۔ (5 : 9) ” تمام مسلمان اس چیزوں سے باز آگئے ۔ شراب کے مشکزے انڈیل دیئے گئے اور ہر جگہ شراب کے خم توڑ دیئے گئے ۔ یہ کام صرف آیت سنتے ہی عمل میں لایا گیا اور جن لوگوں کے منہ میں شراب کے گھونٹ تھے وہ بھی انہوں نے تھوک دیئے ‘ عین اس وقت جب وہ شراب پی رہے تھے اور ان کے منہ کے ساتھ پیالہ تھا ۔ یہ تھی قرآن کریم کی فتح و کامرانی اور اسلامی نظام زندگی کی کامیابی ۔ نہ کوئی جبر ہوا اور نہ کوئی تشدد۔
لیکن یہ کام کیونکر ہوگیا ؟ یہ معجزہ کس طرح رونما ہوا ‘ جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ کے اندر نہیں ملتی ۔ قانون سازی ‘ ضابطہ بندی اور حکومت کے اقدامات کے اندر اس کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ کسی زمانے میں بھی اور کسی دور میں بھی ۔ بہرحال یہ معجزہ رونما ہوا ‘ اس لئے کہ ربانی نظام حیات نے انسانی نفس کا علاج کیا ‘ اپنے مخصوص انداز میں ‘ نفس انسانی پر ربانی اقتدار نافذ کیا ۔ اس پر خدا ترسی کا نگران بٹھایا اور اللہ کا خوف ایک ایسا خوف ہوتا ہے کہ جس کے دل میں بیٹھ گیا وہ کسی وقت کسی جگہ ایک لمحے کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوسکتا ۔ یہ ربانی نظام تربیت انسان کو بحیثیت مجموعی لیتا ہے اور اس کی تربیت نہایت ہی فطری انداز میں کرتا ہے ۔
شراب نوشی کی حرمت کی وجہ سے ان کی اجتماعی زندگی کے اندر جو خلا پیدا ہوگیا تھا ‘ اسلام نے اس خلا کو بعض اونچے مقاصد عطا کر کے پر کردیا اور ان کو اپنے خالی اوقات میں شراب کی مدہوشی اور جاہلانہ فخر ومباہات کے اظہار کے مواقع ہی نہ چھوڑے اور محافل میں کبر و غرور کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہنے دی ۔
وہ بلند مقاصد کیا تھے ؟ مثلا یہ کہ اسلام نے اس گم کردہ راہ اور دھتکاری ہوئی انسانیت کو جاہلیت کے بےآب وگیاہ صحراء اور اس کی تپتی ہوئی دوپہر اور اس کے تاریک ترین اندھیروں اور اس کی حقارت آمیز غلامی اور تنگ راہوں کی گھٹن سے نکالا اور اسے اسلام کے تروتازہ گلستان ‘ اس کی گھنی چھاؤں اس کے روشن دنوں ‘ اور اس کی عزت مآب آزادیوں اور دنیا اور آخرت کی وسعتوں کے اندر داخل کردیا ۔
اسلام نے عربوں کی زندگی کے اس خلاء کو تروتازہ ایمان سے بھر دیا ۔ عربوں کے دل میں ایک تازہ اور نوخیز شعور پیدا ہوا جو انکے لئے نہایت ہی پیارا تھا ۔ اس سے انہیں شراب نوشی کی آغوش میں پناہ لینے کی ضرورت ہی نہ رہی کہ وہ جھوٹے تخیلات میں گم ہو کر سکون پائیں ‘ ان کے قلوب مشعل ایمان کے ساتھ ملاء اعلی کی روشن دنیا کی طرف محو پرواز ہوں اور اللہ جل شانہ کے نور میں اور اللہ کے وصال اور اس کی معرفت میں زندگی بسر کر رہے ہوں ۔ وصال باری تعالیٰ سے لذت آشنا ہوں اور اس لذت کی وجہ سے وہ اپنے منہ کے اندر موجود جرعہ شراب کو بھی زمین پر پھینک رہے ہوں ۔ اور اس کے نشے اور مزے کو نظر انداز کر رہے ہوں ‘ اور آخر کار اس کے جوش اور اس کے سکون دونوں سے نفرت کر رہے ہوں۔
اسلام نے ایک مسلمان کی شخصیت کو جاہلیت کی دبیز تہوں سے نکال دیا ۔ اس کے لئے ایسی راہیں کھول دیں جو اسلام کی کنجی کے بغیر کھل ہی نہ سکتی تھیں ۔ وہ اس کے میلانات اور رجحانات کے ساتھ چلا اور اسلام کے طریقوں اور راہوں پر چل کر پسندیدہ روشن اختیار کی ۔ نور پھیلاتے ہوئے ‘ حیات نو عطا کرتے ہوئے ‘ نظافت اور پاکیزگی پھیلاتے ہوئے ‘ ہمت اور بیداری پیدا کرتے ہوئے ‘ بھلائی کے لئے آگے بڑھتے ہوئے اور اللہ کے ساتھ عہد اور شرائط ایمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔
شراب جوئے کی طرح ہے اور یہ دونوں لہو ولعب کے جدید مظاہر ومشاہد کی طرح ہیں ۔ مثلا جمناسٹک کے جنونی طور طریقے ‘ اور ان کے سٹیڈیم اور دوسرے اخراجات ‘ دوڑوں کے مقابلے ‘ سینما اور مرد وزن کے درمیان اختلاط ‘ بیلوں کے مقابلے اور لہو ولعب کے وہ تمام نئے انداز جو جدید جاہلیت کے لوازمات ہیں ۔ جسے صنعتی جاہلیت کہنا زیادہ مناسب ہے ۔
یہ تمام مظاہر دراصل روحانی خلا کے مظاہر ہیں ۔ یہ ایمان کی کمی کو پورا کرنے کی سعی لاحاصل ہے ۔ بلند مقاصد اور بلند نصب العین کو پیش نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہے ۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ تہذیب جدید ایک مفلس اور تہی دامن تہذیب ہے اور اس جدید کلچر کے اندر انسان کی تمام ضروریات کا سازوسامان موجود نہیں ہے اور یہ روحانی خلا اور یہ بلند مقاصد کی تہی دامنی ہی ہے جس کی وجہ سے لوگ جوئے اور شراب کی گود میں پناہ لیتے ہیں ۔ اس خلا کو جوئے ‘ شراب اور دوسرے لہو ولعب سے بھرنے کی سعی کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ مغربی کلچر اس خلا کو ہر قسم کے لہو ولعب اور غیر فطری سرگرمیوں سے بھر رہا ہے ۔ جیسا کہ اوپر ہم نے تفصیلا بتایا ۔ یہ دو امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسان بیشمار نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتا ہے اور اخلاقی بےراہ روی اختیار کرتا ہے ۔
یہ چند الفاظ تھے جن کے نتیجے میں شراب کے قلع قمع کرنے کا معجزہ صادر ہوا ۔ یہ تو ایک نظام حیات تھا ‘ یہ ایک منہاج تھا اور یہ منہاج ان کلمات کے اندر بیان ہوا تھا اور یہ منہاج اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا تھا ۔ یہ انسانوں کا بنایا ہوا نہ تھا اور یہ وہ نکتہ امتیاز ہے ۔ ان نظامہائے زندگی کے درمیان جو لوگوں کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جو اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسانی نظام کامیاب نہیں ہوتے ۔
یہ محض کلام اور طریقہ اظہار مقصد کا مسئلہ نہیں ہے ۔ اظہار مافی الضمیر کے لئے تو بیشمار اسلوب ہیں ۔ بعض فلاسفہ بہت ہی اچھا لکھتے ہیں ٗ شعرا میں سے فلاں بہت ہی اچھا شعر کہتا ہے یا مفکرین میں سے فلاں بہت ہی اعلی درجے کا قلمکار ہے ۔ یہ فلاں بادشاہ ادب ہے اور ایسا لکھتا ہے کہ وہ صاحب طرز ہے ‘ صاحب نظریات ہے اور فلسفے کی ایک نئی شاخ کا بانی ہے ۔ لیکن لوگوں کے ضمیر پر اس کے الفاظ کا اثر نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کلام پر اللہ کی جانب سے کوئی قوت القا نہیں ہوتی ۔ (آیت ) ” ما انزل اللہ بہ من سلطن “۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے جو اسے قوت اور گرفت عطا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر انسانی منہاج حیات ضعیف ‘ جہالت پر مبنی ‘ نقائص سے بھرپور اور بنانے والے انسان کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے ۔
معلوم نہیں کہ اس حقیقت کو وہ لوگ کب پاسکیں گے جو لوگوں کی زندگیوں کے لئے خود نظام تجویز کرتے ہیں جو اللہ علیم وخبیر کے نظام سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے ۔ اور وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جو حکیم وخبیر نے نہیں بنائے اور وہ لوگوں کے لئے ایسے نشانات نصب کرتے ہیں جو خالق ارض وسما نے نصب نہیں کئے ۔
معلوم نہیں کب یہ لوگ عقل کے ناخن لیں گے ۔ وہ اپنے اس کبر و غرور سے کب باز آئیں گے ؟ اب ہم اس آیت کریمہ کے متن کی طرف آتے ہیں :
(آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا الا عابری حتی تغتسلوا “۔ (4 : 43)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہئے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو ‘ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو ‘ الا یہ کہ راستے سے گزرتے ہو “۔
آیت میں اہل ایمان کو جس طرح شراب نوشی کی حالت میں نماز سے روکا گیا ہے ‘ اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز سے روکا گیا ہے الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو ۔ جنابت کی حالت میں غسل ضروری ہے ۔ لفظ (عابری سبیل) کے مفہوم میں مختلف اقوال ہیں ۔ اسی طرح نماز کے قریب مت جاؤ کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔
ایک قول یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں مسجد میں نہیں جانا چاہئے نہ مسجد میں ٹھہرنا چاہئے یہاں تک کہ ایک شخص غسل کرے ۔ الا یہ کہ کوئی مسجد سے محض گزر رہا ہو ۔ بعض لوگوں کے دروازے مسجد نبوی میں کھلتے تھے ‘ اور ان کے گھر کے آنے اور جانے کا راستہ مسجد ہی سے ہو کر گزرتا تھا ‘ ایسے لوگوں کو مسجد سے حالت جنابت میں صرف گزرنے کی اجازت دے دی گئی تھی مگر ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نماز تو بہرحال ممنوع تھی ‘ جب تک غسل نہ کرتے ۔
ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد نماز ہے ۔ یعنی یہ ممانعت کی گئی ہے کہ حالت جنابت میں نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو ‘ ہاں اگر تم مسافر ہو تو پھر بغیر غسل کے تم مسجد میں جا کر نماز ادا کرسکتے ہو مگر تیمم کے بعد ‘ جو غسل کے قائم مقام ہوگا جس طرح پانی نہ ہونے کی شکل میں وضو کی جگہ تیمم جائز ہوتا ہے ۔
پہلا قول زیادہ ظاہر اور قریب الفہم ہے۔ اس لئے کہ دوسرے قول کے مطابق جو تفسیر بیان ہوئی اس میں بیان شدہ صورت کو خود اگلی آیت میں واضح کیا گیا ہے ۔ اگر (عابری سبیل) کی تفسیر یہ کی جائے کہ اس سے مراد مسافر ہیں تو اس صورت میں تکرار لازم ہوگا اور ایک ہی آیت میں تکرار بلاضرورت ہوگا ۔
(آیت) ” وان کنتم مرضی او علی سفر او جآء احد منکم من الغائط اولمستم النسآء فلم تجدوا مآء فتیمموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم ان اللہ کان عفوا غفورا (4 : 43)
” اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو ‘ یا سفر میں ہو ‘ یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے ‘ یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو ‘ اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو ‘ بیشک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے ۔ ‘
اس آیت میں مسافر کی حالت کے بارے میں احکام بیان ہوئے ہیں کہ جب کسی کو حاجت غسل لاحق ہوجائے ‘ یا وضو کی ضرورت لاحق ہوجائے ‘ اور وہ نماز ادا کرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کوئی مریض ہو ‘ اور اسے وضو کی یا غسل کی ضرورت پیش آجائے یا کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو اور اسے وضو کی ضرورت ہو ‘ یا اس نے عورتوں سے لمس کیا ہو ۔۔۔۔۔ ان سب صورتوں میں اگر پانی نہ ملے تو وہ پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھے ۔
الغائط کا مفہوم ہے ۔ ‘ نشیبی جگہ ۔ چونکہ دیہاتی لوگ قضائے حاجت کے لئے نشیبی جگہ کو جاتے ہیں ‘ اس لئے فعل قضائے حاجت کی تعبیر مکان فعل سے کردی گئی ۔ اور (آیت) ” لمستم النسآئ “۔ کی تفسیر میں بھی کئی اقوال ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مباشرت ہے ‘ جس کی وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے ۔ دوسرا قولیہ ہے کہ اس سے حقیقی لمس مراد ہے یعنی چھونا ۔ یعنی مرد کے جسم کا کوئی حصہ عورت کے جسم سے مس کرے ۔ بعض فقہی مذاہب کے مطابق اس سے وضو لازم آتا ہے ۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ ناقض وضو نہیں ہے ‘ اس کی تفصیلات تو کتب فقہ میں پائی جاتی ہیں ۔ ہم یہاں اجمالا بعض نتائج کا ذکر کرتے ہیں ۔
(الف) لمس سے مطلقا وضو واجب ہے ۔
ّ (ب) لمس سے اس وقت وضو واجب ہوگا جس لامس کے جسم میں اشتہاء پیدا ہوجائے اور اس طرح یہ بھی شرط ہے کہ جس عورت کے ساتھ لمس ہو وہ بھی شہوت انگیزی کے قابل ہو۔
(ج) لمس سے وضو اس وقت واجب ہوگا جب لامس یہ محسوس کرے کہ اس لمس کی وجہ سے اس کا نفس متحرک ہوگیا ہے ۔
(د) لمس سے مطلقا وضو واجب نہیں ہے اور نہ ہی بیوی سے معانقہ کرنے یا بوسہ لینے سے وضو واجب ہوگا ۔
ان اقوال میں سے ہر قول کے قائلین نے نبی ﷺ کے اقوال اور افعال سے استدلال کیا ہے جس طرح فقہی مسائل کے استدلال میں بالعموم کیا جاتا ہے ۔ میرے خیال میں (آیت) ” لمستم النسآء “۔ سے بطور کنایہ وہ فعل مراد ہے جس سے غسل لازم آتا ہے اس لئے ان اختلاف کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں ہے جو وضو کے سلسلے میں کتب فقہ میں مذکور ہیں ۔
ان تمام حالات میں ‘ چاہے غسل واجب ہو یا وضو واجب ہو اور پانی دستیاب ہو یا پانی دستیاب نہ ہو لیکن اس کا استعمال موجب مضرت ہو اور انسان کے لئے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو وضو کرنے یا غسل کرنے کے بجائے انسان کے لئے تیمم جائز ہے ۔ اور تیمم کا ذکر آیت کے الفاظ (آیت) ” فتیمموا صعیدا طیبا “۔ (4 : 43) (پس پاک مٹی سے تیمم کرو) میں آتا ہے ۔ تیمم کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں یعنی پاک مٹی کا ارادہ کرلو ۔ صعید ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو مٹی کی قسم سے ہو مثلا مٹی ، پتھر ‘ دیوار ‘ اگرچہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ یا فرش اور دوسری چیزوں پر جن پر غبار ہو اور جب ہاتھ مارا جائے تو غبار اڑ رہا ہو۔
تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں سے پاک مٹی کو تھپکی دے ‘ پھر ہاتھوں کو جھاڑ دے اور چہرے پر مل دے ۔ پھر دوسری تھپکی دے ‘ ہاتھوں کو جھاڑ دے اور ان کو دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کر دے ۔ اور یا صرف ایک ہی تھپکی سے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو مسح کر دے ۔ (مطابق اختلاف فقہائ) اس سے زیادہ مزید فقہی اختلافات کے لئے یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ اس لئے کہ تیمم شروع ہی لوگوں کی آسانی کے لئے ہوا ہے اور یہ آسانی پیدا کرنے کی واضح مثال ہے ۔
(آیت) ” ان اللہ کان عفوا غفورا “۔ (4 : 43) (بےشک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور معاف کرنے والا ہے) اس اختتامیہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے ۔ وہ ضعیف پر رحمدلی فرماتا ہے ‘ قصوروں کو معاف فرماتا ہے ‘ اور کوتاہیوں کو بخش دیتا ہے ۔
اس سے پہلے کہ ہم اس آیت پر کلام ختم کریں یہاں چند امور پر نظر دوڑانا ضروری ہے ۔ آیت نہایت ہی مختصر ہے لیکن اس پر غور ضروری ہے ۔ مثلا تیمم کی حکمت پر غور ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں کس قدر نرمی فرمائی ہے ۔
بعض لوگ اسلامی شریعت کی حکمت اور اسلامی عبادات کے اسرار پر جب کلام کرتے ہیں تو وہ اس قدر آگے چلے جاتے ہیں اور احکام کے علل اور حکم بیان کرتے وقت یہ تاثر دیتے ہی کہ گویا انہوں نے شریعت کے تمام رازوں کا استقصا کرلیا ہے اور اب ان احکام اور عبادات کے پیچھے مزید کسی حکمت کی تلاش کی ضرورت نہیں ہے ۔ قرآنی آیات ‘ شرعی احکام اور اسلامی عبادات پر کلام کرنے کا یہ انداز نہایت ہی غیر صحت مندانہ ہے ۔ ہاں یہ اور بات کہ کسی شرعی حکم کی علت اور حکمت خود منصوص ہو اور اس کی صراحت خود شارع نے کردی ہو ۔ مناسب یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہ ہے وہ بات جسے ہم بطور حکمت حکم یا بطور علت حکم سمجھ سکے ہیں ۔ ایسے مزید اسرار بھی ہو سکتے ہیں کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہم پر ان کو منکشف نہ کیا ۔ صرف اسی طرح ہم عقل انسانی کو اپنے صحیح مقام تک محدود رکھ سکتے ہیں شرعی نصوص کے حوالے سے بغیر افراط اور تفریط کے اور اپنے دائرے اور حدود کے اندر رہتے ہوئے ۔
میں یہ کہوں گا کہ بعض اہل اسلام لوگوں کے سامنے آیات و احادیث پیش کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی متعین حکمت بھی بیان کرتے ہیں ‘ ان لوگوں میں بعض مخلصین بھی شامل ہیں یہ حکمت انسانی علم یا دور جدید کے سائنسی اکتشافات پر مبنی ہوتی ہے ۔ یہ بات بذات خود کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس حکمت کو اپنے حدود کے اندر رہنا چاہئے ۔ وہ حدود یہ ہیں جس کی طرف گزشتہ سطور میں ہم نے اشارہ کیا ہے ۔
اکثر اوقات اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے کہ نماز سے پہلے وضو اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ یہ صفائی کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہ مقصد بھی پیش نظر ہو سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ وضو سے مقصود صرف صفائی ہی ہے اور کچھ نہیں تو یہ نہج کلام غیر صحت مندانہ ہوگا اور ویسے بھی یہ کوئی صحیح طرز استدلال نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اب ایسا وقت بھی آگیا ہے کہ بعض نام نہاد دانشور یہ کہنے لگے ہیں کہ صفائی حاصل کرنے کا یہ نہایت ہی ابتدائی تصور اور طریقہ تھا ‘ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آج کل صحت وصفائی کے دوسرے ذرائع بہت ہی عام ہیں ۔ آج لوگ صفائی وصحت کو اپنے روز مرہ کے پر ورگرام کا حصہ بنا رہے ہیں ۔ اگر وضو کا مقصد صرف حصول صفائی ہے تو اب وضو کی ضرورت کیا ہے بلکہ اب تو نماز کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
اکثر لوگ نماز کی حکمت کے سلسلے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ ورزش کی حرکات ہیں جس سے پورا جسم حرکت کرتا ہے بعض لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ نماز کی وجہ سے انسان کی زندگی منظم ہوجاتی ہے اور وہ ایک منظم زندگی گزارنے کا عادی ہوجاتا ہے کیوں کہ نماز مقررہ وقت پر ادا ہوتی ہے اور اس کے اندر مقررہ انداز میں رکوع اور سجود ہوتے ہیں ۔ اس میں صفیں اور امامت ہوتی ہے ۔ یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ نماز کے ذریعے انسان خدا تک پہنچتا ہے اور اللہ کے ساتھ راز ونیاز کی باتیں ہوتی ہیں ۔ یہ تمام حکمتیں مقصود ہو سکتی ہیں لیکن ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے کونسی حکمت مراد ہے یا یہی حکمت مقصود ہے ؟ اگر ہم کوئی بات متعین کرکے کہیں تو یہ انداز غیر صحت مندانہ ہوگا اس لئے کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ نماز کی ورزشی حرکات کی اب کیا ضرورت ہے ۔ اب تو ورزش ایک فن بن چکی ہے اور ہر شخص اس پر عمل کرسکتا ہے ۔
اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اب محض زندگی کو منظم کرنے کے لئے ہمیں نماز کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ نماز سے بھی زیادہ فوجی نظام کے ذریعے زندگی کو منظم اور باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے ۔
بعض لوگ تو ایسے پیدا ہوگئے جنہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ تعلق باللہ کے لئے بھی نماز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اتصال باللہ بذریعہ تنہائی اور مراقبہ بھی ممکن ہے اور اب نماز جیسی ورزشی حرکات کی ضرورت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ جسمانی حرکات بعض اوقات روحانی تصور اور مراقبے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں ۔
ان خطوط پر اگر ہم ہر عبادت اور ہر حکم کے اسرار و رموز متعین کرتے جائیں اور ہر حکم کی علت اپنے فہم وادراک سے متعین کرنے لگیں یا جدید سائنسی اکتشافات کے اندر حکمتوں کی تلاش کریں اور پھر یہ اعلان کریں کہ یہی وہ حکمت ہے جو اس حکم کے اندر پنہاں ہے یا اس حکم کا یہی سبب اور علت ہے تو یقینا ہم صحت مند لائن سے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں کے لئے راہ کھول دیں گے جو نام نہاد دانشور ہیں ‘ اور پھر خود ہماری یہ قرار دادیں اور فیصلے ‘ ضروری نہیں ہے کہ درست ہوں ۔ ان میں غلطی بھی ممکن ہے خصوصا جب ہم ان حکمتوں کو سائنسی اکتشافات سے مربوط کردیں ‘ اس لئے کہ سائنسی علوم ونظریات آئے دن بدلتے رہتے ہیں اور ہر وقت یہ نظریات تصحیح اور تبدیلی کے قابل ہوتے ہیں اور ان میں ترمیم وتنسیخ کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔
یہاں زیر بحث موضوع تیمم ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو اور غسل کی حکمت صرف نظافت ہی نہیں ہے ۔ اگر یہی بات ہوتی تو ان دونوں کی جگہ تیمم نہ لیتا ۔ کیونکہ اس سے کوئی صفائی حاصل نہیں ہوتی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم نظافت کے علاوہ بھی وضو اور غسل کی کوئی حکمت تلاش کریں جو وضو اور غسل کی طرح تیمم میں بھی ہو۔
ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم خود اس غلطی کا ارتکاب کریں جس کی نشاندہی ہم خود کر رہے ہیں ۔ لیکن ہم یہ کہیں گے کہ ہو سکتا ہے کہ حکمت یہ ہو کہ انسان اپنے آپ کو نفسیاتی اعتبار سے نماز کے لئے تیار سمجھے ۔ اور یہ تیاری کسی سنگل پر مبنی ہو اور اس سگنل کے ذریعہ انسان اپنی روز مرہ کی حرکات و سکنات کو ترک کرکے اللہ کے دربار میں حاضری اور ملاقات کی فضا میں داخل ہوجائے اور وضو ‘ غسل اور تیمم اس داخلہ کے لئے سگنل ہوں اور اگر وضو اور غسل نہ ہو تو تیمم ہی سگنل ہوجائے ۔
اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ کے کامل اور ہر چیز پر حاوی علم ہی میں ہے ‘ جو انسان کی اندورنی پوشیدہ باتوں پر بھی محیط ہے ۔ انسان کے طور طریقوں اور خفیہ راہوں سے وہی باخبر ہے ‘ جو لطیف وخبیر ہے ۔ ہمارا فرض تو یہ ہے کہ ہم اللہ کے احکام کی اطاعت نہایت ہی ادب واحترام سے کریں جو نہایت ہی برتر اور بالا ہے اور عظیم اور بزرگ ہے ۔
یہاں ہمارے لئے دوسرا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں نماز کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اسلام ہر قسم کے عذر اور رکاوٹ کو دور کرنے کی سعی کرتا ہے ۔ تیمم اس سلسلے کی ایک واضح مثال ہے کہ وضو اور غسل کی جگہ اس کی اجازت دی گئی جبکہ مشکلات ہوں ۔ یہ ایک واضح مثال ہے جس سے معلوم ہوتا کہ اسلام کہ ہر معاملے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ مثلا اگر پانی نہ ہو یا بیماری ہو یا پانی کم ہو اور پینے کی ضروریات سے زیادہ نہ ہو ۔ سفر میں بعض اقوال کے مطابق پانی موجود ہونے کے باوجود تیمم جائز ہے ۔
یہ باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے اور اسی سورت میں صلوۃ الخوف کی کیفیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ‘ خصوصا میدان جنگ میں ‘ یہ بات بڑی سہولت سے معلوم ہوجاتی ہے کہ اسلامی نظام حیات نماز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے ۔ مسلمان نماز سے کسی صورت میں بھی اور کسی وجہ سے بھی جدا نہیں ہو سکتا ۔ مرض میں بھی نماز کی ادائیگی کے لئے یہ سہولت پیدا کی گئی ہے کہ بیٹھ کر پڑھا جائے ۔ بصورت معذوری ایک پہلو پر لیٹ کر بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اگر حرکت ممکن ہی نہ ہو تو آنکھوں کے اشارے سے بھی نماز ادا ہو سکتی ہے ۔
یہ خدا اور بندے کے درمیان ایک رابطہ ہے ۔ ایک ایسا رابطہ کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ کسی طرح بھی ایک مومن کا خدا کے ساتھ یہ رابطہ ٹوٹ جائے اس لئے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ خود بندے کو اس رابطے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تو دونوں جہانوں سے مستغنی ہے ۔ لوگوں کی نماز و عبادت سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ فائدہ اگر ہے تو بندے کا ہے کہ وہ نماز سے سلجھ جاتا ہے ۔ یہ بھی بندوں کا فائدہ ہے کہ وہ اللہ سے رابطہ قائم کرلیں اور اپنی مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں ۔ ان کو دلی خوشی نصیب ہو ‘ ان کے جسم اور شخصیت میں نورانیت پیدا ہو ‘ ان کو یہ شعور اور احساس ہو کہ وہ اللہ کی حفاظت میں ہیں ‘ اس کے قریب ہیں ‘ اس کی نگہبانی میں ہیں اور وہ ایسی راہ پر ہیں جو ان کی فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی فطرت کا سبب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی علم ہے کہ ان کے لئے اور ان کی فطرت کے لئے کیا کیا مفید ہے اور کیا کیا غیر مفید ہے ؟ اس لئے کہ وہ خالق اور صانع ہے اور اپنی مصنوعات اور مخلوقات سے وہ اور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خبر دار ہے ۔ وہ نہایت ہی باریک بین اور بصیر ہے ۔
اس آیت کی بعض دیگر تعبیرات میں بھی ہمارے لئے ایک سبق ہے ۔ اگرچہ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے لیکن اس میں بہترین انداز تعبیر کے ساتھ معانی کا سیل رواں نظر آتا ہے قضائے حاجت کے عمل کے لئے (آیت) ” او جآء احدمنکم من الغائط “۔ (4 : 43) (تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) کے الفاظ آئے ہیں ۔ یہ نہ کہا کہ تم نے یہ فعل کیا ہو ‘ صرف یہ کہا کہ تم نشیبی جگہ سے واپس آئے ہو ۔ اشارہ وکنایہ اس طرف ہے کہ تم قضائے حاجت سے آئے ہو ۔ اس میں بھی مخاطبوں سے نہیں کہا کہ تم آئے ہو بلکہ تم میں سے کوئی شخص آیا ہو (آیت) ” او جآء احدمنکم من الغائط “۔ (4 : 43) کہا ہے ۔ یہ نہیں کہا (جئتم من الغآئط) قرآن کے الفاظ زیادہ ادیبانہ اور مہذبانہ ہیں اور ان میں کنایہ لطیف ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے درمیان اسی طرح کی سلجھی ہوئی گفتگو کرنا چاہئے ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
آیت 43 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ سورۃ البقرۃ آیت 219 میں شراب اور جوئے کے بارے میں محض اظہار ناراضگی فرمایا گیا تھا کہ اِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا ط ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے۔ اب اگلے قدم کے طور پر شراب کے اندر جو خباثت ‘ شناعت اور برائی کا پہلو ہے اسے ایک مرتبہ اور اجاگر کیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا کرو۔ جب تک نشہ اتر نہ جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو۔ چونکہ شراب کی حرمت کا حکم ابھی نہیں آیا تھا لہٰذا بعض اوقات لوگ نشے کی حالت ہی میں نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے اور کچھ کا کچھ پڑھ جاتے۔ ایسے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں کہ کسی نے نشے میں نماز پڑھائی اور لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ کے بجائے اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَپڑھ دیا۔ اس پر خاص طور پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ کے الفاظ قابل غور ہیں کہ جب تک کہ تم شعور کے ساتھ سمجھ نہ رہے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ! اس میں ایک اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ بےسمجھے نماز مت پڑھا کرو ! یعنی ایک تو مدہوشی کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آ رہا اور غلط سلط پڑھ رہے ہیں تو اس سے روکا جا رہا ہے ‘ اور ایک سمجھتے ہی نہیں کہ نماز میں کیا پڑھ رہے ہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کہہ کیا رہے ہو۔ اب جنہیں قرآن مجید کے معنی نہیں آتے ‘ نماز کے معنی نہیں آتے ‘ انہیں کیا پتا کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہے ہیں ! وَلاَ جُنُبًا الاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْاط الاّ یہ کہ راستے سے گزرتے ہوئے۔اگر تم نے اپنی بیویوں سے مباشرت کی ہو یا احتلام وغیرہ کی شکل ہوگئی ہو تب بھی تم نماز کے قریب مت جاؤ جب تک کہ غسل نہ کرلو۔ اِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ“ کے بارے میں بہت سے قول ہیں۔ بعض فقہاء اور مفسرین نے اس کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ حالت جنابت میں مسجد میں نہ جانا چاہیے ‘ اِلا یہ کہ کسی کام کے لیے مسجد میں سے گزرنا ہو ‘ جبکہ بعض نے اس سے مراد سفر لیا ہے۔وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْآٰی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ آدمی کو تیز بخار ہے یا کوئی اور تکلیف ہے جس میں غسل کرنا مضر ثابت ہوسکتا ہے تو تیمم کی اجازت ہے۔ اسی طرح کوئی شخص سفر میں ہے اور اسے پانی دستیاب نہیں ہے تو وہ تیمم کرلے۔اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآءِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا یعنی وہ تمام صورتیں جن میں غسل یا وضو واجب ہے ‘ ان میں اگر بیماری غسل سے مانع ہو ‘ حالت سفر میں نہانا ممکن نہ ہو ‘ قضائے حاجت یا عورتوں سے مباشرت کے بعد پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کرلیا جائے۔ فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا حضرت عائشہ رض سے لیلۃ القدر کی جو دعا مروی ہے اس میں یہی لفظ آیا ہے : اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ اے اللہ ‘ تو معاف فرمانے والا ہے ‘ معافی کو پسند کرتا ہے ‘ پس تو مجھے معاف فرما دے !“سورۃ النساء کی ان تینتالیس آیات میں وہی سورة البقرۃ کا انداز ہے کہ شریعت کے احکام مختلف گوشوں میں ‘ مختلف پہلوؤں سے بیان ہوئے۔ عبادات کے ضمن میں تیمم کا ذکر آگیا ‘ وراثت کا قانون پوری تفصیل سے بیان ہوگیا اور معاشرے میں جنسی بےراہ روی کی روک تھام کے لیے احکام آگئے ‘ تاکہ ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں آئے جہاں ایک مستحکم خاندانی نظام ہو۔ اب یہاں ایک مختصر سا خطاب اہل کتاب کے بارے میں آ رہا ہے۔
بتدریج حرمت شراب اور پس منظر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت کو محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جائے تو جائز ہے نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورة بقرہ کی (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلِ الْعَفْوَ ۭ كَذٰلِكَ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :219) کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے جب وہ آیت حضرت عمر ؓ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے دعا مانگی کہ اے اللہ شراب کے بارے میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانے کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے وقت اس کا پینا لوگوں نے چھوڑ دیا اسے سن کر بھی جناب فاروق ؓ نے یہی دعا مانگی تو (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 90 اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ 91) 5۔ المائدہ :9091) تک نازل ہوئی جس میں شراب سے بچنے کا حکم صاف موجود ہے اسے سن کر فاروق اعظم ؓ نے فرمایا ہم باز آئے۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے کہ جب سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہوئی اس قوت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے، ابن ماجہ شریف میں ہے حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، ایک انصاری نے بہت سے لوگوں کی دعوت کی ہم سب نے خوب کھایا پیا پھر شرابیں پیں اور مخمور ہوگئے پھر آپس میں فخر جتانے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر حضرت سعد کو ماری جس سے ناک پر زخم آیا اور اس کا نشان باقی رہ گیا اس وقت تک شراب کو اسلام نے حرام نہیں کیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی پوری مروی ہے ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے دعوت کی سب نے کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہوگئے اتنے میں نماز کا وقت آگیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے نماز میں سورة (آیت قل یا ایھا الکافرون) میں اس طرح پڑھا (آیت ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون) اس پر یہ آیت اتری اور نشے کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ابن جریر کی روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ حضرت عبدالرحمن اور تیسرے ایک اور صاحب نے شراب پی اور حضرت عبدالرحمن نماز میں امام بنائے گئے اور قرآن کی قرأت خلط ملط کردی اس پر یہ آیت اتری۔ ابو داؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیے تھا نہ پڑھ سکے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ایک روایت میں مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے امامت کرائی اور اس طرح پڑھا (آیت " قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین،) پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کردیا گیا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت سے پہلے لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے پس اس آیت سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا (ابن جریر) حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس کے نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے رک گئے پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے بالکل تائب ہوگئے پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہوئی حضرت ضحاک ؒ فرماتے ہیں اس سے شراب کا نشہ مراد نہیں بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں ٹھیک یہی ہے کہ مراد اس سے شراب کا نشہ ہے اور یہاں خطاب ان سے کیا گیا ہے جو نشہ میں ہیں لیکن اتنے نشہ میں بھی نہیں کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے حکم میں ہے، بہت سے اصولی حضرات کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے نشہ والوں کی طرف نہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے اس لئے کہ خطاب کا تکلیف کی سمجھنا شرط ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو الفاظ یہ ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے کہ نشے کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں اس لئے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کرسکے حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے واللہ اعلم پس یہ حکم بھی اسی طرح ہوگا جس طرح یہ حکم ہے کہ ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے رہو کہ جب تمہیں موت آئے تو اسلام پر دم نکلے یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ یہاں تک کہ تم معلوم کرسکو جو تم کہہ رہے ہو یہ نشہ کی حد سے یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے گا نہ ہی اسے عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہوسکتا ہے، مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم میں سے اگر کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے جب تک کہ وہ جاننے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے اور اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ اپنے لئے استغفار کرے لیکن اس کی زبان سے اس کے خلاف نکلے۔ آداب مسجد اور مسائل تیمم پھر فرمان ہے کہ جنبی نماز کے قریب نہ جائے جب تک غسل نہ کرلے ہاں بطور گزر جانے کے مسجد میں گزرنا جائز ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے ہاں مسجد کے ایک طرف سے نکل جانے میں کوئی حرج نہیں مسجد میں بیٹھے نہیں اور بھی بہت سے صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے حضرت یزید بن ابو حبیب فرماتے ہیں بعض انصار جو مسجد کے گرد رہتے تھے اور جنبی ہوتے تھے گھر میں پانی نہیں ہوتا تھا اور گھر کے دروازے مسجد سے متصل تھے انہیں اجازت مل گئی کہ مسجد سے اسی حالت میں گزر سکتے ہیں۔ بخاری شریف کی ایک حدیث سے بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے مسجد میں تھے چناچہ حضور ﷺ نے اپنے آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے دروازے پڑتے ہیں سب کو بند کردو حضرت ابوبکر ؓ کا دروازہ رہنے دو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشین حضرت ابوبکر ؓ ہوں گے تو انہیں ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے جانے کی ضرورت رہے گی تاکہ مسلمانوں کے اہم امور کا فیصلہ کرسکیں اس لئے آپ نے سب کے دروازے بند کرنے اور صدیق اکبر ؓ کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایت فرمائی، بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے حضرت ابوبکر ؓ کے حضرت علی ؓ کا نام ہے وہ بالکل غلط ہے صحیح یہی ہے جو صحیح میں ہے اس آیت سے اکثر ائمہ نے دلیل پکڑی ہے کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرم ہے ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے ہیں ان دونوں کے گزرنا بھی جائز نہیں ممکن ہے مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے بوریا اٹھا دو تو ام المومنین نے عرض کیا حضور ﷺ میں حیض سے ہوں آپ نے فرمایا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ مسجد میں آ جاسکتی ہے اور نفاس والی کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے کے جا آسکتی ہیں۔ ابو داؤد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ میں حائض اور جنبی کے لئے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ امام ابو مسلم خطابی ؒ فرماتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے کیونکہ " افلت " اس کا راوی مجہول ہے۔ لیکن ابن ماجہ میں یہ روایت ہے اس میں افلت کی وجہ معدوم ذہلی ہیں۔ پہلی حدیث بروایت حضرت عائشہ ؓ اور دوسری بروایت حضرت ام سلمہ ؓ ہے لیکن ٹھیک نام حضرت عائشہ ؓ کا ہی ہے۔ ایک اور حدیث ترمذی میں ہے جس میں ہے کہ اے علی اس مسجد میں جنبی ہونا میرے اور تیرے سوا کسی کو حلال نہیں یہ حدیث بالکل ضعیف ہیں واللہ اعلم۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے نماز نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے ملنے تک پڑھ سکتا ہے۔ ابن عباس سعید بن جبیر اور ضحاک سے بھی یہی مروی ہے، حضرت مجاہد حسن حکم زید اور عبدالرحمن سے بھی اس کے مثل مروی ہے، عبداللہ بن کثیر ؒ فرماتے ہیں ہم سنا کرتے تھے کہ یہ آیت سفر کے حکم میں ہے، اس حدیث سے بھی مسئلہ کی شہادت ہوسکتی ہے کہ حضور ﷺ بہتر ہے (سنن اور احمد) امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں اولیٰ قول ان ہی لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں اس سے مراد صرف گزر جانا ہے کیونکہ جس مسافر کو جنب کی حالت میں پانی نہ ملے اس کا حکم تو آگے صاف بیان ہوا ہے پس اگر یہی مطلب یہاں بھی لیا جائے تو پھر دوسرے جملہ میں اسے لوٹانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی پس معنی آیت کے اب یہ ہوئے کہ ایمان والو نماز کے لئے مسجد میں نہ جاؤ جب کہ تم نشے میں ہو جب تک تم اپنی بات کو آپ نہ سمجھنے لگو اسی طرح جنب کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے عابر کے معنی آنے جانے یعنی گزر جانے والے ہیں اس کا مصدر عبراً اور عبورًا آتا ہے جب کوئی نہر سے گزرے تو عرب کہتے ہیں عبرفلان النھر فلاں شخص نے نہر سے عبور کرلیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو عبرالاسفار کہتے ہیں۔ امام ابن جیریر جس قول کی تائید کرتے ہیں یہی قول جمہور کا ہے اور آیت سے ظاہر بھی یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت نماز سے منع فرما رہا ہے جو مقصود نماز کے خلاف ہے اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے کو روکتا ہے جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے خلاف ہے واللہ اعلم۔ پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کرلو امام ابو حنیفہ، امام مالک اور شافعی اسی دلیل کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے جب تک غسل نہ کرلے یا اگر پانی نہ ملے یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کرلے۔ حضرت امام احمدرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب جنبی نے وضو کرلیا تو اسے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے چناچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے واللہ اعلم۔ پھر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے کیونکہ آیت میں عموم ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں ایک انصاری بیمار تھے نہ تو کھڑے ہو کر وضو کرسکتے تھے نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں پانی دے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے، دوسری حالت میں تیمم کے جواز کی وجہ سفر ہے خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔ غائط نرم زمین کو یہاں سے کنایہ کیا گیا ہے پاخانہ پیشاب سے لا مستم کی دوسری قرأت لمستم ہے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ مراد جماع ہے جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33۔ الاحزاب :49) یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر مجامعت سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو ان کے ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ (آیت من قبل ان تمسوھن) ہے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اولا مستم النساء سے مراد مجامعت ہے۔ حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ حضرت مجاہد ؓ حضرت طاؤس ؓ حضرت حسن ؓ حضرت عبید بن عمیر حضرت سعید بن جبیر ؓ حضرت شعبی ؒ حضرت قتادہ ؒ حضرت مقاتل ؒ بن حیان سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے کہا یہ جماع نہیں اور چند عرب نے کہا جماع ہے، میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا ذکر کیا آپ نے پوچھا تم کن کے ساتھ تھے میں نے کہا موالی کے فرمایا موالی مغلوب ہوگئے لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کنایہ کیا ہے، بعض اور حضرات نے اس سے مراد مطلق چھونا لیا ہے۔ خواہ جسم کے کسی حصہ کو عورت کے کسی حصہ سے ملایا جائے تو وضو کرنا پڑے گا۔ لمس سے مراد چھونا ہے۔ اور اس سے بھی وضو کرنا پڑے گا۔ فرماتے ہیں مباشرت سے ہاتھ لگانے سے بوسہ لینے سے وضو کرنا پڑے گا۔ لمس سے مراد چھونا ہے، ابن عمر ؓ بھی عورت کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کے قائل تھے اور اسے لمس میں داخل جانتے تھے عبیدہ، ابو عثمان ثابت ابراہیم زید بھی کہتے ہیں کہ لمس سے مراد جماع کے علاوہ ہے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے ہاتھ لگانا ملامست ہے اس سے وضو کرنا پڑے گا (موطامالک) دار قطنی میں خود عمر ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن دوسری روایت آپ سے اس کے خلاف بھی پائی جاتی ہے آپ باوضو تھے آپ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے تھے واللہ اعلم۔ مطلق چھونے سے وضو کے قائل امام شافعی ؒ اور ان کے ساتھی امام مالک ؒ ہیں اور مشہور امام احمد بن حنبل سے بھی یہی روایت ہے۔ اس قول کے قائل کہتے ہیں کہ یہاں دو قرأتیں ہیں لا مستم اور لمستم اور لمس کا اطلاق ہاتھ لگانے پر بھی قرآن کریم میں آیا ہے چناچہ ارشاد ہے (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ) 6۔ الانعام :7) ظاہر ہے کہ یہاں ہاتھ لگانا ہی مراد ہے اسی طرح حضرت ماعز بن مالک ؓ کو رسول اللہ کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے بوسہ لیا ہوگا ہاتھ لگایا ہوگا وہاں بھی لفظ لمست ہے۔ اور صرف ہاتھ لگانے کے معنی میں ہی اور حدیث میں ہے (حدیث والیدز ناھا اللمس ہاتھ کا " زنا " چھونا اور ہاتھ لگانا ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں بہت کم دن ایسے گزرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آ کر بوسہ نہ لیتے ہوں یا ہاتھ نہ لگاتے ہوں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے بیع ملامست سے منع فرمایا یہ بھی ہاتھ لگانے کے بیع ہے پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے ہاتھ سے چھونے پر بھی بولا جاتا ہے شاعر کہتا ہے ولمست کفی کفہ اطلب الغنی میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملا میں تونگری چاہتا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص سرکار محمد میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ حضور ﷺ اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایک جنبیہ عورت کے ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں سوائے جماع کے تو (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ) 11۔ ہود :114) نازل ہوتی ہے اور حضور ﷺ فرماتے ہیں وضو کر کے نماز ادا کرلے اس پر حضرت معاذ ؓ پوچھتے ہیں کیا یہ اسی کے لئے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لئے کام ہے آپ جواب دیتے ہیں تمام ایمان والوں کے لئے ہے، امام ترمذی ؒ اسے زائدہ کی حدیث سے یہ کہتے ہیں کہ اسے وضو کا حکم اسی لئے دیا کہ اس نے عورت کو چھوا تھا جماع نہیں کیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اولاً تو یہ منقطع ہے ابن ابی لیلی اور معاذ کے درمیان ملاقات کا ثبوت نہیں دوسرے یہ کہ ہوسکتا ہے اسے وضو کا حکم فرض نماز کی ادائیگی کے لئے دیا ہو جیسے کہ حضرت صدیق ؓ والی حدیث ہے کہ جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ پوری حدیث سورة آل عمران میں (ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ) 3۔ آل عمران :135) کی تفسیر میں گزر چکی ہے، امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں سے اولیٰ قول ان کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد اس سے جماع نہ کہ اور۔ کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آچکا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھی، حضرت مائی عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں آنحضرت رسول مقبول ﷺ وضو کرتے بوسہ لیتے پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔ حضرت حبیب ؒ فرماتے ہیں مائی عائشہ ؓ نے فرمایا حضور ﷺ اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے نماز کو جاتے میں نے کہا وہ آپ ہی ہوں گی تو آپ مسکرا دیں، اس کی سند میں کلام ہے لیکن دوسری سندوں سے بغیر وضو کیے ثابت ہے کہ اوپر کے راوی یعنی حضرت صدیقہ ؓ سے سننے والے حضرت عروہ بن زبیر ؒ ہیں اور روایت میں ہے کہ وضو کے بعد حضور ﷺ میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کی، حضرت ام المومنین ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے پھر نہ تو روزہ جاتا نہ نیا وضو کرتے (ابن جریر) حضرت زینت بنت خزیمہ فرماتی ہیں حضور ﷺ بوسہ لینے کے بعد وضو نہ کرتے اور نماز پڑھتے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو، اس سے اکثر فقہا نے استدلال کیا ہے کہ پانی نہ پانے والے کے لئے تیمم کی اجازت پانی کی تلاش کے بعد ہے۔ کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے اور لوگوں کے ساتھ اس نے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو آپ نے اس سے پوچھا تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی ؟ کیا تو مسلمان نہیں ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہوگیا اور پانی نہ ملا آپ نے فرمایا پھر اس صورت میں تجھے مٹی کافی تھی۔ تیمم کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں تیممک اللہ بحفظہ یعنی اللہ اپنی حفاظت کے ساتھ تیرا قصد کرے، امراء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، صعید کے معنی میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے اوپر کو چڑھے پس اس میں مٹی ریت درخت پتھر گھاس بھی داخل ہوجائیں گے۔ امام مالک ؒ کا قول یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ ؒ کا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے مگر یہ قول ہے حضرت امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور ان کے تمام ساتھیوں کا ہے اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے یہ الفاظ ہیں (فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا) 18۔ الکہف :40) یعنی ہوجائے وہ مٹی پھسلتی دوسری دلیل صحیح مسلم شریف کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیں تمام لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں ہماری صفیں مثل فرشتوں کی صفوں کے ترتیب دی گئیں ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنائی گئی اور زمین کی مٹی ہمارے لئے پاک اور پاک کرنے والی بنائی گئی جبکہ ہم پانی نہ پائیں اور ایک سند سے بجائے تربت کے ترابت کا لفظ مروی ہے۔ پس اس حدیث میں احسان کے جتاتے وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے قائم مقام کام آنے والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کردیتے۔ یہاں یہ لفظ طیب اسی کے معنی میں آیا ہے۔ مراد حلال ہے اور کہا گیا ہے کہ مراد پاک ہے جیسے حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے گو دس سال تک پانی نہ پائے پھر جب پانی ملے تو اسے اپنے جسم سے بہائے یہ اس کے لئے بہتر ہے، امام ترمذی ؒ اسے حسن صحیح کہتے ہیں حافظ ابو الحسن قطان ؒ بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ پاک مٹی کھیت کی زمین کی مٹی ہے بلکہ تفسیر ابن مردویہ میں تو اسے مرفوعاً وارد کیا ہے پھر فرمان ہے کہ اسے اپنے چہرے پر اور ہاتھ پر ملنا کافی ہے اور اس پر اجماع ہے، لیکن کیفیت تیمم میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ جدید مذہب شافعی یہ ہے کہ دو دفعہ کر کے منہ اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کرنا واجب ہے اس لئے کہ یدین کا اطلاق بغلوں تک اور کہنیوں تک ہوتا ہے جیسے آیت وضو میں اور اسی لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور مراد صرف ہتھیلیاں ہی ہوتی ہیں جیسے کہ چور کی حد کے بارے میں فرمایا (وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 5۔ المائدہ :38) کہتے ہیں یہاں تیمم کے حکم میں ہاتھ کا ذکر مطلق ہے اور وضو کے حکم سے مشروط ہے اس لئے اس مطلق کو اس مشروط پر محمول کیا جائے گا کیونکہ طہوریت جامع موجود ہے اور بعض لوگ اس کی دلیل میں دار قطنی والی روایت پیش کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا تیمم کی دو ضربیں ہیں ایک مرتبہ ہاتھ مار کر منہ پر ملنا اور ایک مرتبہ ہاتھ مار کر دونوں کہنیوں تک ملنا، لیکن یہ حدیث صحیح نہیں اس لئے کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے حدیث ثابت نہیں۔ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ ایک دیوار پر مارے اور منہ پر ملے پھر دوبارہ ہاتھ مار کر اپنی دونوں بازوؤں پر ملے۔ لیکن اس کی اسناد میں محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہیں انہیں بعض حافظان حدیث نے ضعیف کہا ہے، اور یہی حدیث بعض ثقہ راویوں نے بھی روایت کی ہے لیکن وہ مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا فعل بتاتے ہیں امام بخاری ؒ امام شافعی ؒ کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پیشاب کر رہے ہیں میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا فارغ ہو کر آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر مار کر منہ پر ملے پھر میرے سلام کا جواب دیا (ابن جریر) یہ تو تھا امام شافعی ؒ کا جدید مذہب۔ آپ کا خیال یہ ہے کہ ضربیں تو تیمم میں دو ہیں لیکن دوسری ضرب میں ہاتھوں کو پہنچوں تک ملنا چاہیے، تیسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب یعنی ایک ہی مرتبہ دونوں ہاتھوں کا مٹی پر مار لینا کافی ان گرد آلود ہاتھوں کو منہ پر پھیر لے اور دونوں پر پہنچے تک مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آیا کہ میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہ ملا تو مجھے کیا کرنا چاہیے آپ نے فرمایا نماز نہ پڑھنی چاہیے دربار میں حضرت عمار ؓ بھی موجود تھے فرمانے لگے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے اور ہم جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز ادا کرلی جب میں واپس پلٹے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو میں نے اس واقعہ کا بیان حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا مجھے اتنا کافی تھا پھر حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماردی اور اپنے منہ کو ملا اور ہتھیلیوں کو ملا۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیمم میں ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنا جو چہرے کے لئے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے لئے ہے، مسند احمد میں ہے حضرت شقیق ؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ ؓ اور حضرت ابو موسیٰ رض اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بیٹھا ہوا تھا حضرت ابو لیلیٰ ؒ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ اگر کوئی شخص پانی نہ پائے تو نماز نہ پڑھے اس پر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کیا تمہیں یاد نہیں جبکہ مجھے اور آپ کو رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے بارے میں بھیجا تھا وہاں میں جنبی ہوگیا اور مٹی میں لوٹ پوٹ لیا واپس آ کر حضور ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ہنس دئیے اور فرمایا اپنے چہرے پر ایک بار ہاتھ پھیر لئے اور ضرب ایک ہی رہی، تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا لیکن حضرت عمر ؓ نے اس پر قناعت نہیں کی یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا پھر تم اس آیت کا کیا کرو گے جو سورة نساء میں ہے کہ پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اس کا جواب حضرت عبداللہ ؓ نہ دے سکے اور فرمانے لگے سنو ہم نے لوگوں کو تیمم کی رخصت دیدی تو بہت ممکن ہے کہ پانی جب انہیں ٹھنڈا معلوم ہوگا تو وہ تیمم کرنے لگیں گے سورة مائدہ میں فرمان ہے (فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ) 5۔ المائدہ :6) اسے اپنے چہرے اور ہاتھ پر ملو۔ اس سے حضرت امام شافعی ؒ نے دلیل پکڑی ہے کہ تیمم کا پاک مٹی سے ہونا اور اس کا بھی غبار آلود ہونا جس سے ہاتھوں پر غبار لگے اور وہ منہ اور ہاتھ پر ملا جائے ضروری ہے جیسے کہ حضرت ابو جہم رض اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث میں گزرا ہے۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ کو استنجا کرتے ہوئے دیکھا اور سلام کیا اس میں یہ بھی ہے کہ فارغ ہو کر ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنی لکڑی سے کھرچ کر پھر ہاتھ مار کر تیمم کیا۔ پھر فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے دین میں تنگی اور سختی کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک صاف کرنا چاہتا ہے اسی لئے پانی نہ پانے کے وقت مٹی کے ساتھ تیمم کرلینے کو مباح قرار دے کر تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تاکہ تم شکر کرو۔ پس یہ امت اس نعمت کے ساتھ مخصوص ہے جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، مہینے بھر کی راہ تک میری مدد رعب سے کی گئی ہے، میرے لئے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے میرے جس امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہ وہیں پڑھ لے اس کی مسجد اور اس کا وضو وہیں اس کے پاس موجود ہے، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کیے گئے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا اور صحیح مسلم کے حوالے سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ تمام لوگوں پر ہمیں تین فضیلتیں عنایت کی گئی ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں ہمارے لئے زمین مسجد بنائی گئی اور اپنے ہاتھ پر مسح کر۔ پانی نہ ملنے کے وقت اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اس کی عفو و در گزر شان ہے کہ اس نے تمہارے لئے پانی نہ ملنے کے وقت تیمم کو مشروع کر کے نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اگر یہ رخصت نہ ہوتی تو تم ایک گونہ مشکل میں پڑجاتے کیونکہ اس آیت کریمہ میں نماز کو ناقص حالت میں ادا کرنا منع کیا گیا ہے مثلاً نشے کی حالات میں ہو یا جنابت کی حالت میں ہو یا بےوضو ہو تو جب تک اپنی باتیں خود سمجھنے جتنا ہوش اور باقاعدہ غسل اور شرعی طریق پر وضو نہ ہو نماز نہیں پڑھ سکتے لیکن بیماری کی حالت میں اور پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور وضو کے قائم مقام تیمم کردیا، پس اللہ تعالیٰ اس احسان پر ہم اس کے شکر گزار ہیں الحمدا للہ۔ تیمم کی رخصت نازل ہونے کا واقعہ بھی سن لیجئے ہم اس واقعہ کو سورة نساء کی اس آیت کی تفسیر میں اسی لئے بیان کرتے ہیں کہ سورة مائدہ میں جو تیمم کی آیت ہے وہ نازل ہوئی یہ اس کے بعد کی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ واضح ہے کہ یہ آیت شراب کی حرمت سے پہلے نازل ہوئی تھی اور شراب جنگ احد کے کچھ عرصہ کے بعد نبی ﷺ بنو نصیر کے یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے حرام ہوئی اور سورة مائدہ قرآن میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سے ہے بالخصوص اس سورت کا ابتدائی حصہ لہذا مناسب یہی ہے کہ تیمم کا شان نزول یہیں بیان کیا جائے۔ اللہ نیک توفیق دے اسی کا بھروسہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے حضرت اسماء ؓ سے ایک ہار مل گیا لیکن نماز کا وقت اس کی تلاش میں فوت ہوگیا اور ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ انہوں نے بےوضو نماز ادا کی اور آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ کر اس کی شکایت کی اس پر تیمم کا حکم نازل ہوا، حضرت اسید بن حضیر ؓ کہنے لگے اے ام المومنین عائشہ ؓ آپ کو جزائے خیر دے اللہ کی قسم جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے اس کا انجام ہم مسلمانوں کے لئے خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ بخاری میں ہے حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ہم اپنے کسی سفر میں تھے بیداء میں یا ذات الجیش میں میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گرپڑا جس کے ڈھونڈنے کے لئے حضور ﷺ مع قافلہ ٹھہر گئے اب نہ تو ہمارے پاس پانی تھا نہ وہاں میدان میں کہیں پانی تھا لوگ میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ﷺ کے پاس میری شکایتیں کرنے لگے کہ دیکھو ہم ان کی وجہ سے کیسی مصیبت میں پڑگئے چناچہ میرے والد صاحب میرے پاس آئے اس وقت رسول اللہ ﷺ میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے تھے آتے ہی مجھے کہنے لگے تو نے حضور ﷺ کو اور لوگوں کو روک دیا اب نہ تو ان کے پاس پانی ہے نہ یہاں اور کہیں پانی نظر آتا ہے الغرض مجھے خوب ڈانٹا ڈپٹا اور اللہ جانے کیا کیا کہا اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کچو کے بھی مارتے رہے لیکن میں نے ذرا سی بھی جنبش نہ کی کہ ایسا نہ ہو کہ حضور ﷺ کے آرام میں خلل واقع ہو ساری رات گزر گئی صبح کو لوگ جاگے لیکن پانی نہ تھا اللہ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور سب نے تیمم کیا حضرت اسید بن حضیر ؓ کہنے لگے اے ابوبکر ؓ کے گھرانے والو یہ کچھ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں، اب جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر یہ سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہی ہار مل گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اہلیہ حضرت عائشہ ؓ کے ہمراہ ذات الجیش سے گزرے۔ ام المومنین ؓ کا یمنی خر مہروں کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرپڑا تھا اور گم ہوگیا تھا اس کی تلاش میں یہاں ٹھہر گئے ساری رات آپ کے ہم سفر مسلمانوں نے اور آپ نے یہیں گزاری صبح اٹھے تو پانی بالکل نہی تھا پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر پاک مٹی سے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی رخصت کی آیت اتاری اور مسلمانوں نے حضور کے ساتھ کھڑے ہو کر زمین پر اپنے ہاتھ مارے اور جو مٹی ان سے لت پت ہوئی اسے جھاڑے بغیر اپنے چہرے پر اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور ہاتھوں کے نیچے سے بغل تک مل لی۔ ابن جریر کی روایت میں ہے کہ اس سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عائشہ ؓ پر سخت غصہ ہو کر گئے تھے لیکن تیمم کی رخصت کے حکم کو سن کر خوشی خوشی اپنی صاحبزادی صاحبہ ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے تم بڑی مبارک ہو مسلمانوں کو اتنی بڑی رخصت ملی پھر مسلمانوں نے زمین پر ایک ضرب سے چہرے ملے اور دوسری ضرب سے کہنیوں اور بغلوں تک ہاتھ لے گئے ابن مردویہ میں روایت ہے حضرت اسلع بن شریک ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کو چلا رہا تھا۔ جس پر حضور ﷺ سوار تھے جاڑوں کا موسم تھا رات کا وقت تھا سخت سردی پڑ رہی تھی اور میں جنبی ہوگیا ادھر حضور ﷺ نے کوچ کا ارادہ کیا تو میں نے اپنی اس حالت میں حضور ﷺ کی اونٹنی کو چلانا پسند نہ کیا ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ اگر سرد پانی سے نہاؤں گا تو مرجاؤں گا یا بیمار پڑجاؤں گا تو میں نے چپکے سے ایک انصاری کو کہا کہ آپ اونٹنی کی نکیل تھام لیجئے چناچہ وہ چلاتے رہے اور میں نے آگ سلگا کر پانی گرم کر کے غسل کیا پھر دوڑ بھاگ کر قافلہ میں پہنچ گیا آپ نے مجھے فرمایا اسلع کیا بات ہے ؟ اونٹنی کی چال کیسے بگڑی ہوئی ہے ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اسے نہیں چلا رہا تھا بلکہ فلاں انصاری صاحب چلا رہے تھے آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ تو میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا اس پر اللہ عزوجل نے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا) 4۔ النسآء :43) تک نازل فرمائی یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے۔