(آیت) ” نمبر 75۔
قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے ۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں ۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔
ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے ۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو ۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے ۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے ۔
لہذا ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ اسلامی تصور کے مطابق ملک ووطن کی حیثیت کیا ہے ۔ یہاں ملک اور بلدہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے ۔ (الظالم اھلھا) جس کے لوگ ظالم ہیں ‘ یہ اسلام کے نزدیک دارالحرب ہے ۔ اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کمزور مسلمانوں اور ان کے بیوی بچوں کو چھڑانے کے لئے جنگ کریں اور یہ وطن مکہ ہے جو مہاجرین کا اصلی وطن تھا اور ان مہاجرین کو پرجوش دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس مالک کے خلاف جنگ کریں اور ضعیف مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ موقعہ پاتے ہی اس ظالم ملک سے نکل آئیں ۔
یہاں اس علاقے اور ملک کا مہاجرین کا وطن اصلی ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ اس میں اللہ کی شریعت بھی نافذ نہیں ہے ۔ وہ اسلامی نظام حیات کے تحت نہیں ہے جس میں مومنین کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر محض ان کے عقیدے کی وجہ سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں بلکہ خود ان اصلی باشندوں کے نقطہ نظر سے یہ ملک دارالحرب بن گیا ہے ۔ وہ اپنے اس اصل وطن کی مدافعت نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود اپنے اصل ملک کے خلاف اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے مومن بھائیوں کو نکال لیں ۔ غرض مسلمان کا جھنڈا وہ ہوتا ہے جو اس کے عقیدے کا جھنڈا ہوتا ہے اور ایک مسلمان صرف ایک جھنڈے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کا وطن جس کے لئے ہو لڑتا ہے وہ وطن ہے جس میں اسلامی نظام تربیت نافذ ہو ‘ اور اس کی وہ سرزمین جس کا وہ دفاع کرے گا وہ سرزمین ہے جو دارالاسلام ہے اور جس میں اسلامی شریعت اور اسلامی نظام جاری وساری ہو۔ اس کے علاوہ کسی وطن کے بارے میں جس قدر تصورات ہیں وہ غیر اسلامی اور جاہلی تصورات میں اور اسلام ان تصورات کو ہر گز نہیں پہچانتا ۔
اس ایک دوسرا ٹچ اس موضوع کو دیا جاتا ہے ہمتوں کو تازہ کرنے کا ایک اور موقع ہے ‘ عزائم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک نئی راہ میں روشنی کے قمقمے چمک اٹھتے ہیں ۔ مقاصد ‘ مفادات اور اقدار حیات کی ایک نئی تعریف (Definition) سامنے آتی ہے ۔ ہر ایک گروہ اپنی اقدار کے لئے کام کرتا ہوا نظر آتا ہے
چناچہ فرمایا :آیت 75 وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاج وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی ؟ ان پر ظلم ہو رہا ہے ‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو ؟ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی جہادوں پر بھی کردیتے ہیں جو کہ آج کل ہمارے ہاں جاری ہیں اور ان پر جہاد فی سبیل اللہ کا لیبل لگایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ہی قیاس مع الفارق ہے۔ واضح رہے کہ یہ خطاب ان اہل ایمان سے ہو رہا ہے جن کے ہاں اسلام قائم ہوچکا تھا۔ ہم اپنے ملک میں اسلام قائم کر نہیں سکتے۔ یہاں پر دین کے غلبہ و اقامت کی کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے ہاں کفر کا نظام چل رہا ہے۔ اس کے مخاطب اہل ایمان ہیں ‘ اور اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرو ‘ پہلے اپنے ملک کے اندر اسلام قائم کرو لہٰذا جہاد کرنا ہے تو یہاں کرو ‘ جانیں دینی ہیں تو یہاں دو۔ یہاں پر طاغوت کی حکومت ہے ‘ غیر اللہ کی حکومت ہے ‘ قرآن کے سوا کوئی اور قانون چل رہا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ المائدۃ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔۔ وہی تو ظالم ہیں۔۔ وہی تو فاسق ہیں۔“ چناچہ کافر ‘ ظالم اور فاسق تو ہم خود ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت درست کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ایک جمعیت قائم ہوگی۔ ہماری حکومت تو ان لوگوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہے جن کے خلاف یہاں جہاد کا نعرہ بلند ہو رہا ہے ‘ جس میں جانیں دی جا رہی ہیں۔ تو یہ آیت اپنی جگہ ہے۔ ہرچیز کو اس کے سیاق وسباق کے اندر رکھنا چاہیے۔
شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بےبس لوگو جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بےبال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بےکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ) 47۔ محمد :13) بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس انہی کمزوروں میں تھے اور روایت میں ہے کہ آپ نے (اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا) 4۔ النسآء :98) پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لئے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ شیطان کے دوستوں سے جو جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔