(آیت) ” افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (4 : 82)
” کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔
اس بیان اور ہدایت کے اندر انسانیت کے لئے انتہائی عزوشرف کا مقام پوشیدہ ہے ۔ اس میں انسان کے ادراک پر مکمل بھروسہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کی شخصیت کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے ۔ نیز اس میں عدالت عقل میں فیصلہ لے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی ایک ایسے مظہر میں جس کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے زیادہ دشوار نہیں ہے ۔
قرآن کے اندر پائی جانے والی مکمل ‘ جامع اور بےقید ہم آہنگی ایک ایسا مظہر ہے جو اس شخص کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا جو اس کتاب پر تدبر کرے ۔ اس مظہر کی سطح اور اس کا دائرہ مختلف لوگوں کی فہم کے مطابق وسیع اور تنگ ہو سکتا ہے ۔ مختلف نسلوں اور مختلف قسم کے ذہین لوگوں کے نتائج فکر مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہر عقل اور ہر نسل اور ہر دور کے لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق اس سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے اور یہ کمی بیشی لوگوں کے فہم ان کی عقل اور ان کے علم و ثقافت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف لوگوں کا نتیجہ فکر ان کے تجربے صلاحیت اور تقوی کے مطابق محدود یا لامحدود ہو سکتا ہے ۔
یہ وجہ ہے کہ ہر شخص اس آیت کا مخاطب ہے ‘ ہر نسل اس کی مخاطب ہے ‘ اور درست منہاج فکر و تدبر کے مطابق وہ اس مظہر کا ادراک کرسکتا ہے ۔ یعنی یہ وصف کہ قرآن کے اندر خلاف بیانی نہیں ہے اور اس کے اندر مکمل ہم آہنگی اور تناسق پایا جاتا ہے ۔ البتہ جس طرح ہم نے کہا یہ فہم انسان کی صلاحیت اس کے علمی مقام تجربے اور تقوی کے حدود کے اندر رہتا ہے ۔ یہ گروہ ‘ جسے اس وقت کی موجودہ نسل کی صورت میں مخاطب کیا گیا تھا ‘ ایک ایسے کلام سے مخاطب کیا جارہا تھا جسے وہ خوب سمجھتا تھا ۔ اور اپنے فہم وادراک کے ذریعے وہ اسے عمل میں لاتا تھا ‘ جس قدر اس کی طاقت کے حدود میں ہوتا تھا ۔
یہ مظہر اور یہ صفت یعنی مکمل اتحاد فکر اور ہم آہنگی کی صفت کا اظہار سب سے پہلے قرآن کریم کے انداز تعبیر میں ہوتا ہے ۔ قرآن کی طرز ادا اور فنی طریقہ اظہار مدعا کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ انسانی کلام ہمارے سامنے ہیں ‘ بڑے سے بڑے ادب پاروں میں نشیب و فراز بھی ہوتے ہیں ‘ ہم آہنگی بھی ہوتی ہے اور لغزش کلام بھی ہوتی ہے ۔ ایک حصہ اگر پر زور ہوتا ہے تو دوسرے میں جھول ہوتی ہے ۔ ایک میں اگر فکری تخلیق ہے تو دوسرے حصہ میں پیش پا افتادہ ہوتا ہے ‘ ایک حصہ اگر رواں ہوتا ہے تو دوسرا نہایت ہی گنجلک ہوتا ہے ۔ ایک اگر نہایت ہی روشن ہے تو دوسرا حصہ تاریک ہے غرض کلام کی فصاحت وبلاغت اور نقص کے سلسلے میں جو اوصاف ہوتے ہیں ان کے اعتبار سے انسانی کلام میں نشیب و فراز ہوتا ہے ۔ نقائص کلام میں سے اہم نقص کلام کے اندر روانی اور ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس میں بات جلدی جلدی ایک معیار سے گرتی ہے یا گرے ہوئے معیار سے اوپر کو اٹھتی ہے ۔ ہر انسانی کلام کے اندر یہ مظہر قدم قدم پر سامنے آتا ہے ‘ کسی ایک ادیب کے اگر ادبی کردار کو لیں ‘ یا اس کے انکار کو لیں ‘ یا کسی ایک ہی ادیب کے فن پاروں کو لیں یا کسی ایک سیاست دان کی پالیسیوں کو لیں یا کسی ایک جرنیل کی جنگی چالوں ‘ یا کسی ایک شخص کی صنعت کاری کو لیں ‘ اس میں معیار کا یہ تفاوت قدم قدم پر نظر آئے گا ۔ معیار تعبیر کے اندر زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔
قرآن کریم کے اندر یہ صفت نہایت ہی واضح ہیں اور پوری طرح منعکس ہے ‘ یعنی کلام میں پختگی اور ہم آہنگی ۔ پورے قرآن کے اندر یہ صفت ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ ہم یہاں جو بات کر رہے ہیں وہ صرف لفظی اور تعبیر کی ہم آہنگی کے ذاویے سے ہے ۔ اس پوری کتاب کے اندر کلام اور اسلوب اظہار کا ایک ہی میعار ہے ‘ اسی وجہ سے یہ کتاب معجزانہ شان لئے ہوئے ہے ۔ یہ کتاب جن موضوعات پر کلام کرتی ہے ‘ مضمون کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ضرور ہوتے ہیں لیکن فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے اس کا معیار ایک ہی رہتا ہے ۔ اسلوب ادا میں اس کا کمال قائم رہتا ہے ۔ اور کسی جگہ کلام اپنی معیاری سطح سے گرنے نہیں پاتا ۔ کسی جگہ اس کی حالت ایسی نہیں ہوتی جس طرح انسانی کلام کی حالت ہوتی ہے کہ کبھی میعار کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ یہ کتاب اللہ کی شان کاریگری لئے ہوئے ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے کہنے والا متغیر نہیں ہے اور وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف متغیر نہیں ہوتا ۔ اور نہ اس پر ایک حال کے بعد دوسرا حال طاری ہوتا ہے ۔ (دیکھئے ‘ التصویر الفنی فی القرآن)
اس کے فنی اسلوب کے بعد پھر یہ عدم اختلاف کی صفت اور مکمل ہم آہنگی اور عام وحدت فکر اس نظام کے اندر بھی پائی جاتی ہے جس کا اظہار وبیان قرآن کریم کی ان عبارات کے اندر کیا گیا ہے اور جس کا مفہوم ان ہم آہنگ عبارتوں کی اندر بیان ہوا ہے ۔ یعنی وہ نظام فکر جس کی اوپر نفس انسانی کی تربیت کی گئی ہے یا انسانی معاشرے کی تربیت کی گئی ہے ۔ نیز اس نظام زندگی کے تمام اجزاء اور اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح ایک فرد کی زندگی کی تمام سرگرمیوں اور پھر ایک معاشرے کے اندر فرد کی تمام سرگرمیوں اور نسلا بعد نسل ایک فرد اور معاشرے کی زندگی کے اندر جو تغیر وتبدل ہوتا ہے اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل توافق اور توازن پایا جاتا ہے ۔ پھر انسان کی قوت مدرکہ کے لئے ایک منہاج اور تقویم ہے ‘ جس کے کئی پہلو ہیں اور انسان کے فہم وادراک کی کئی قوتیں اور عمل ادراک میں کام آنے والی مختلف قوتیں ۔ پھر خود حضرت انسان کی ذات اور اس کے تمام معاشروں ‘ تمام نسلوں اور تمام سطحوں کے اندر بھی ایک مکمل ہم آہنگی رکھی گئی ہے ۔ انسان اور اس کائنات کے اندر بھی مکمل آہنگی ہے جس کے اندر یہ انسان زندگی بسر کرتا ہے ۔ پھر انسان کی دنیاوی زندگی اور آخروی زندگی کے اندر بھی مکمل توافق اور ہم آہنگی ہے ۔ پھر اس کتاب نے اس انسان اور اس پوری کائنات کے اندر اس کی زندگی بسر کرنے میں بھی پوری ہم آہنگی رکھی ہے ۔
جب ایک انسان اور اللہ کی کاریگری کے اندر باعتبار اسلوب کلام اور لفظی تعبیر فرق ہے تو فکری نظریاتی اور قانون سازی کی میدانوں میں بھی ‘ ظاہر ہے کہ انسانی کام اور ربانی کام کے اندر نہایت ہی واضح فرق و امتیاز ہوگا ۔ تمام انسانی نظریات ‘ تمام انسانی مذاہب ومکاتب کے اوپر انسانی چھاپ بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ اور نقطہ نظر کے اندر جزئی اور انفرادی پن واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ ان تمام پہلوؤں کے اندر وقتی حالات اور مشکلات سے انسان متاثر نظر آتا ہے ۔ اور انسان اس بات کا ادراک نہیں کرسکتا کہ اس کے نظریے ‘ اس کے مذھب ومکتب کے اندر اور اس کے منصوبوں کے اندر کوئی نہ کوئی تناقض موجود ہوتا ہے جو اس نظام فکر وعمل کے اندر کشمکش شروع کردیتا ہے اور یہ کشمکش یا تو بہت جلد شروع ہوجاتی ہے یا کچھ عرصے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ پھر یہ انسانی مکاتب فکر وعمل انسان کی بعض خصوصیات کو بالکل دبا دیتے ہیں جبکہ خود انسان کو ان کا نہ علم ہوتا ہے اور نہ انسان انہیں پیش نظر رکھ سکتا ہے ۔ یہ پھر بعض شخصیات کے اندر ایسے اوصاف ہوتے ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ ہی نہیں سکتا ۔ خود انسانی ادراک کے اندر ہزاروں کمزوریاں اپنی جگہ ہوتی ہیں اور جس کا دائرہ عمل نہایت ہی محدود ہوتا ہے ۔ چونکہ انسانی ادراک کا دائرہ محدود ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبے سے آگے نہیں دیکھ سکتا بلکہ وہ خود اپنے موجود منصوبے کے (مالہ وما علیہ) سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس قرآنی منصوبہ چونکہ علیم وخبیر کا بنایا ہوا ہوتا ہے اس لئے قرآنی مندرجات ومفہومات ان تمام نقائص سے پاک ہوتے ہیں ۔ یہ مفہومات اور منصوبے مستقل ہوتے ہیں اور پوری کائنات کے اندر مروج نوامیس فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ نوامیس فطرت مستقل اور ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل حرکت میں بھی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قرآنی نظریات بیک وقت متحرک بھی ہوتے ہیں ۔ اور ثابت بھی ہوتے ہیں۔
ان آفاق وحدود کے اندر قرآن کریم کی اس صفت پر غور وفکر سے بعض اوقات انسانی ادراک اس کے پورے آفاق کو نہیں پا سکتا اور نہ ہی بعض اوقات ایک پوری نسل اس کا مکمل ادراک کرسکتی ہے بلکہ تمام نسلوں کے ادراک میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوگا ۔ اس لئے کہ قرآن کریم سے ہر نسل اپنا حصہ پاتی ہے اور آنے والی ترقی یافتہ نسلوں کے لئے بھی کچھ نہ کچھ آفاق رہتے ہیں ۔ بہر حال اس صفت کے ادراک میں مختلف درجات کے اعلی انسانوں سے کچھ نہ کچھ ضرور باقی رہ جاتا ہے جس طرح دوسری چیزوں کے اندر کسی نہ کسی حد تک اختلاف موجود ہوتا ہے ۔ اور اس باقی آفاق سے اگلی نسلیں بھی اپنا حصہ حاصل کرتی رہتی ہیں اس لئے کہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں میں فرق ہے ۔ اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں نہ کوئی اختلاف ہوتا ہے اور نہ تفاوت اور فرق ۔ اس میں مکمل اتحاد اور تناسق ہوتا ہے ۔ ہاں لوگوں کی فہم وادراک کے حدود میں ضرور فرق ہوتا ہے اور بعض لوگ اس تناسق کو بہت ہی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بعض ذرا کم سمجھتے ہیں ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے التصور الاسلامی خصائصہ ومقوماتہ ۔ نحو مجتمع اسلامی ‘ الاسلام ومشکلات الحضارہ اور ھذ الدین وغیرہ)
لیکن جس قدر ایک عام انسان سمجھ سکتا ہے یا ایک گروہ سمجھ سکتا ہے یا ایک متعین نسل سمجھ سکتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کے فہم وادراک کے سامنے ‘ جس قدر ان کو حاصل ہے ‘ قرآن کریم کو پیش کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور اگر غیر اللہ کا کلام ہوتا تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلافات پاتے ۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک مختصر سا توقف کریں اور یہ متعین کرلیں کہ اس مخصوص معاملے میں یا پورے دین کے معاملے میں انسانی ادراک کی حدود کار کیا ہیں ؟ کوئی انسان اس بات سے غرے میں مبتلا نہ ہوجائے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ خود انسانی ادراک کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کیا ہے اس لئے گویا انسانی ادراک کوئی بہت ہی بڑی شئی ہے ۔ انسانی غور وفکر اور ادراک کو بھی اپنی محفوظ حدود کے اندر رہنا چاہئے کہیں وہ اپنے محدود محفوظ دائرے سے باہر بھول بھلیاں میں پھنس نہ جائے ۔
قرآن کریم کی ان ہدایات کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی ان کی حدود کو اچھی طرح سمجھا گیا ہے ۔ از منہ قدیمہ اور دور جدید دونوں میں ایسے اسلامی اہل فکر رہے ہیں جنہوں نے عقل و قیاس کو شریعت کے مساوی درجہ دیا ہے بلکہ یہ لوگ عقل وادراک کو شریعت کا پاسبان بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فہم وادراک کا یہ آلہ بہرحال انسانی قوت مدرکہ ہے اگرچہ اپنی جگہ یہ نہایت ہی اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کے مسئلے کو بارگاہ عقل و تدبر میں پیش کیا ہے لیکن عقل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ یہ قرآن اور اس کے اندر وضع کردہ پورے کا پورا دین من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ قرآن کے اندر ایسے اوصاف ومظاہر ہیں جنہیں عقل بشری بڑی سہولت سے سمجھ سکتی ہے ۔ اور وہ مظاہر اور علامات اس بات کے ادراک کے لئے کافی ہیں کہ یہ دین من جانب اللہ ہے ۔ جب یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے تو اس ادراک کا منطقی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ اد دین کے اندر جو احکام ہیں انہیں انسان تسلیم کرے چاہے ان کی حکمت انسان کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو ‘ اس لئے کہ جب ہم نے یہ بات تسلیم کرلی کہ یہ دین اور قرآن من جانب اللہ ہے تو یہ بات ازخود تسلیم ہوجاتی ہے کہ اس کے اندر حکمت موجود ہے پھر یہ بات اہم نہیں رہتی کہ حالات حاضرہ کے اندر لوگوں کی مصلحت اس دین سے پوری ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ۔ جب دین اللہ کی طرف سے ہے تو گویا مصلحت اس کے اندر موجود اور متحقق ہے ۔ ا نسانی عقل شریعت کے مساوی نہیں ہوتی چہ جائیکہ کہ وہ شریعت پر حاکم اور مقتدر ہوجائے ۔ اس لئے کہ خود شریعت کی حکمتوں کا ادراک ہر عقل نہایت ہی محدود پیمانے پر کر پاتی ہے ۔ اور یہ بات محال ہے کہ عقل شریعت کے تمام زاویوں اور تمام مصلحتوں کا احاطہ کرسکے ۔ نہ ایک لحظہ میں نہ پوری انسانی تاریخ میں ۔ جبکہ اللہ کی شریعت کی نظر ایک ایک لمحے کی مصلحتوں پر بھی ہوتی ہے اور زمان ومکان کے مصالح پر بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ شریعت کا کوئی ثابت شدہ حکم صرف انسانی عقل و قیاس کے حوالے کردیا جائے ۔ اس سلسلے میں عقل انسانی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ نصوص شرعیہ کے ادراک اور ان نصوص کی دلالت اور مفہومات کے اخذ پر غور کرے ۔ یہ اجازت عقل کو نہیں دی جاسکتی کہ وہ احکام کی مصلحتوں پر بھی کلام کرے ۔ اس لئے کہ جب اللہ کی جانب سے کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اس میں لازما کوئی مصلحت ہوتی ہے تب ہی تو وہ آتی ہے ۔ عقل کا کام تو ان مسائل میں ہوتا ہے جن میں کوئی نص نہ ہو ‘ جدید مسائل ہوں ۔ ایسے مسائل کے بارے میں جو طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اس کے بارے میں ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں کہ ایسے مسائل کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دیا جائے گا ۔ اور یہی وہ دائرہ کار ہے جو حقیقی اجتہاد کے لئے کھلا چھوڑا گیا ہے جبکہ نصوص قرآنی کا فہم وادراک بہر حال ہر وقت عقل ہی کے ذریعے ہوگا ۔ جب کسی نص کا مفہوم سمجھ لیا جائے تو بس اب وہاں توقف ہی بہتر ہوتا ہے اور عقل کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ فیصلہ دے کہ آیا اس مفہوم میں مصلحت ہے یا نہیں ہے ۔ عقل انسانی کا اصل دائرہ کار کائنات کے قوانین قدرت ہیں اور یہ نہایت ہی وسیع دائرہ کار ہے۔
ہمیں چاہئے کہ ہم عقل انسانی کو اسی قدر مقام ومنزلت دیں جو اسے اللہ نے دیا ہے اور جو اس کے لئے مناسب ہے اور اس دائرے کے اندر اسے رکھا جائے جو اللہ نے عقل کے لئے رکھا ہے ۔ اس دائرے کے حدود سے تجاوز نہ کیا جائے تاکہ وہ بھول بھلیاں میں جا کر پھنس نہ جائے اور اسے کوئی رہبر کامل نہ ملے ۔ اور اگر کوئی رہبر ملے بھی تو وہ ایسے راستوں پر پڑجائے جن کا اسے خود علم نہ ہو ۔ یہ صورت حال ایک ایسے انسان کے لئے زیادہ خطرناک ہے جو صراط مستقیم کا متلاشی ہو۔
آیت 82 اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط یہ قرآن پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ‘ لیکن اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔ نمازیں تو وہ پڑھتے تھے۔ اس وقت جو بھی منافق تھا اسے نماز تو پڑھنی پڑتی تھی ‘ ورنہ اس کو مسلمان نہ مانا جاتا۔ آج تو مسلمان مانے جانے کے لیے نماز ضروری نہیں ہے ‘ اس وقت تو ضروری تھی۔ بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تو پہلی صف میں ہوتا تھا اور جمعہ کے روز تو خاص طور پر خطبے سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کرتا تھا کہ لوگو ان کی بات توجہ سے سنو ‘ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا اپنی چودھراہٹ کے اظہار کے لیے یہ انداز اختیار کرتا۔ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے ‘ قرآن سنتے تھے ‘ لیکن قرآن پر تدبر نہیں کرتے تھے۔ قرآن ان کے سروں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ یا ان کے ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتا تھا۔ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا ۔اس پر غور کرو ‘ یہ بہت مربوط کلام ہے۔ اس کا پورا فلسفہ منطقی طور پر بہت مربوط ہے ‘ اس کے اندر کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح وبلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لئے کہ حکم وحمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چناچہ اور جگہ فرمایا (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا) 47۔ محمد :24) یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے ہیں، پھر فرماتا ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔ چناچہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہے ہیں ہم اس پر ایمان لائے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بدنیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کر کے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی عمرو بن شعیب سے مروی ہے عن ابیہ عن جدہ والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی رسول اللہ ﷺ اسے سن کر سخت غضبناک ہو کر باہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہوگئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کرسکو اس کے جاننے والے کے لئے چھوڑ دو۔ دوسری آیت میں ہے کہ صحابہ تقدیر کے بارے میں مباحثہ کر رہے تھے، راہی کہتے ہیں کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپ نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا (مسند احمد)۔ پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بےتحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو، صحیح مسلم شریف میں ہے جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے، یہاں پر ہم حضرت عمر ؓ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچا کہحضور ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے ؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چناچہ فاروق اعظم نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ پھر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پس حضرت عمر ؓ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔ علمی اصطلاح میں استنباط کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں " استنبط الرجل " پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے ایسے موقعوں پر محاورۃ معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چناچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔