سورہ نساء: آیت 95 - لا يستوي القاعدون من المؤمنين... - اردو

آیت 95 کی تفسیر, سورہ نساء

لَّا يَسْتَوِى ٱلْقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ وَٱلْمُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا

اردو ترجمہ

مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اُس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La yastawee alqaAAidoona mina almumineena ghayru olee alddarari waalmujahidoona fee sabeeli Allahi biamwalihim waanfusihim faddala Allahu almujahideena biamwalihim waanfusihim AAala alqaAAideena darajatan wakullan waAAada Allahu alhusna wafaddala Allahu almujahideena AAala alqaAAideena ajran AAatheeman

آیت 95 کی تفسیر

درس نمبر 38 ایک نظر میں :

یہ سبق درس سابق اور اس سین بھی پہلے ایک سبق کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ پیوستہ ہے ۔ گویا یہ ان دونوں اسباق کا تکملہ ہے ۔ اگر بین الاقوامی معاملات اور قانون بین الاقوام کا پہلو پیش نظر نہ ہوتا ‘ جس طرح اسلام نے پہلی بار اس شعبے میں قانون سازی کی تو ہم ان تینوں درسوں کو ایک درس شمار کرتے ۔ کیونکہ ان کا موضوع اور مضمون ایک ہی ہے ۔ اس سبق کا اساسی مضمون یہ ہے کہ تمام مسلمان ہجرت کرکے دارالاسلام میں جمع ہوجائیں ۔ ابھی تک جو لوگ دارالحرب اور دارالکفر میں رہ گئے ہیں وہ فورا ہجرت کریں اور دارالاسلام میں پہنچ کر جان ومال سے جہاد کریں اور مکہ میں انہیں نسبتا جو آرام ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں انہیں جو سہولتیں حاصل ہیں ‘ انہیں چھوڑ دیں ۔ اور یہی مقصد اس سبق کے افتتاحی کلمات میں ہے جن میں کہا گیا ہے :

(آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنی وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95)

(مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی را ہمیں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ‘ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ‘ مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے)

مدینہ میں تو کوئی بیٹھنے والا نہ تھا ۔ مدینہ میں جہاد سے رکھنے والے یا تو منافقین تھے یا وہ لوگ تھے جو روڑے اٹکاتے تھے اور دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے درس سابق میں بات کی ہے ۔

ہاں اس آیت کے متصلا بعد دوسری آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے جو ابھی تک دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہجرت کرکے مدینہ منتقل ہونے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں اور ایسے ہی حالات میں وہ فوت ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔

اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اور یہ اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ گھر سے نکل پڑتے ہیں بشرطیکہ وہ یہ ہجرت خالصۃ اللہ کے لئے کرتے ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انکے وہ تمام خدشات دور کردیئے ہیں جو یہ اقدام کرنے سے پہلے انکو لاحق ہوتے ہیں ‘ نیز اس وقت جو خطرات درپیش تھے اور جو خوفناک حالات تھے ان حالات میں ہمت کرنا مشکل اور تشویش کا باعث تھا ۔

ہجرت اور جہاد پر بات مزید آگے بڑھتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دارالہجرت میں مسلمانوں کا باہم معاملہ کیا ہوگا اور دارالہجرت سے باہر دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا تعلق ہوگا ۔ خصوصا ان مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا جو ہجرت نہیں کرتے ۔

اس سبق میں حالت خوف میں نماز کی کیفیات کا بھی ذکر ہے ۔ مثلاہجرت کے سفر کے دوران نماز اور میدان جنگ میں نماز ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں بھی اس کی معافی نہیں ہے ۔ نیز مسلمانوں کے اندر ایسی حالت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ معمولی غفلت اور لاپرواہی سے دشمن سخت فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔

آخر میں یہ سبق نہایت ہی موثر ٹچ دیتا ہے اور مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ابھارتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ تم کو نہایت ہی المناک مصائب کا سامنا ہے لیکن دشمنوں کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے اور ان کے نصب العین اور تمہارے نصب العین اور ان کی امیدوں اور تمہاری امیدوں میں فرق ہے ۔

(آیت) ” (ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون وترجون من اللہ مالا یرجون “۔ (4 : 104) (اس گروہ کے تعاقب میں کمزورینہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں)

اس تصویر کشی کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے راستے علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ دونوں کے منہاج علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ ہر دکھ اور ہر تکلیف مسلمانوں کے لئے آسان ہوجاتی ہے ۔ مسلمانوں کے دلوں سے سستی اور تھکاوٹ کا احساس ہی ختم ہوجاتا ہے اس لئے کہ آخر مخالف کیمپ کو بھی تو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ان کو اللہ کی جانب سے وہ امید نہیں ہے جو مسلمانوں کو ہے ۔ اس سبق میں جن موضوعات پر بات ہوئی ہے اور جو اسلوب تربیت اپنایا گیا ہے اس کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کی تکوین وتشکیل کے اندر جو تغیرات ہو رہے تھے اور جماعت کی عملی تشکیل میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں اور جو نظریاتی اور عملی رکاوٹیں تھیں ان سے تحریک اسلامی کس طرح نمٹ رہی تھی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو خدشات پیدا ہو رہے تھے اور جس طرح وہ کمزوری کا باعث بن رہے تھے یا سوسائٹی اور افراد جماعت کے نفوس کے اندر جاہلیت کے جو آثار باقی تھے اور وہ جس طرح مشکلات کا باعث بن رہے تھے نیز تحریک اسلامی کی راہ میں آنے والی نئی نئی مشکلات اور مصیبتوں کے باعث ذات انسانی کے قدرتی طور پر متاثر ہوجانے کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہو رہے تھے اور ان مشکلات کے باوجود جو لوگ وفاداری بشرط استواری پر اپنے آپ کو قائم رکھے ہوئے تھے ‘ ایسے تمام مناظر ومشاہد کی تصویر کشی اس سبق میں کی گئی ہے ۔ ان تمام مسائل کو قرآن کے حکیمانہ منہاج نے لیا ہے اور انسانی ضمیر کو آمادہ کیا ہے اور جوش دلایا ہے کہ وہ ان مشکلات سے عہدہ بر آ ہو ۔

یہ تمام باتیں اصل صورت حال کا صحیح نقشہ کھینچ کر بتائی گئی ہیں اور ان کا اظہار حوصلہ افزائی اور جوش دلانے کے موثر انداز سے بھی ہوتا ہے اور اس علاج سے بھی ہوتا ہے جو فطری خدشات اور عملی مشکلات کے حل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے ۔ نیز عین میدان کار زار میں نماز پر جم جانے کے عمل سے بھی اس کا اندازہ اچھی طرح ہوجاتا ہے جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عین نماز کے وقت بھی وہ دشمن پر نظررکھیں پھر مہاجرین کو ثواب دراین کی ضمانت دی گئی ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ان کیلئے اجر اور کافروں کے لئے سخت درد ناک عذاب کے اعلان کے ذریعے ان تمام آلام ومشکلات کی تصویر سامنے آتی ہے ۔

اس سبق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی نفس کے ساتھ اس کی کمزوری کی حالت میں اور اس کی قوت کی حالت میں سک طرح برتاؤ فرماتا ہے ۔ نیز ایک انسانی جماعت کی تشکیل اور تربیت کس طرح کی جاتی ہے اور اس اسٹیج پر اس کے ساتھ معاملہ کس طرح کیا جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک ہی آیت میں متعدد خطوط سامنے آتے ہیں ۔ چند لفظوں میں جماعت کے دلوں کے اندر اس کی قوت اور برتری کا احساس اور شعور بھر دیا جاتا ہے اور اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنا دشمن حقیر نظر آنے لگتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے خطرے کے مقابلے میں احتیاط ‘ بیداری اور ہر وقت تیاری کا حکم بھی دیا جاتا ہے جبکہ اسی آیت میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کردی جاتی ہے جہاں کمزوری ہے ۔ اور مقامات کمزوری کے بارے میں شدید اور نہایت ہی سخت ہدایات بھی دی جاتی ہیں ۔

یہ ایک عجیب منہاج ہے ‘ نہایت ہی مکمل اور انسانی نفسیات کے عین مناسب ۔ نفس انسانی کی لوح پر نئے خطوط کھینچے جاتے ہیں اور مختلف نقاط کے درمیان نئے وتر قائم ہوتے ہیں اور یہ تمام تاریں زمزمہ آرا ہیں اور ہر تارمضراب ربانی کی ضرب پر فورا حرکت میں آتی ہے ۔

واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام موجودہ سوسائٹیوں سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی اپنے منہاج تربیت کے اعتبار سے اور اپنی اجتماعی تنظیم کے اعتبار سے بہت بڑی فوقیت رکھتی ہے اور اس تفوق کا مشاہدہ اس وقت کی پوری انسانیت بچشم سر کر رہی تھی اور یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ نوخیز سوسائٹی ان مشکل حالات میں ایک طرف تو اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا علاج کر رہی ہے اور دوسری جانب اپنے اردگرپھیلی ہوئی جاہلی سوسائٹیوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ وہ بتدریج ان پر غالب ہوتی جارہی ہے اور یہ غلبہ محض جنگی غلبہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی غلبہ ہے جس طرح جو ان تہذیب بوڑھی اور ازکار رفتہ تہذیبوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ ایک نیا نظام ہے جو پرانے نظاموں پر غالب ہو رہا ہے ۔ زندگی کا ایک نیا ماڈل دنیا کے سامنے شو روم میں سجایا گیا ہے ایک جدید دور اور ایک جدید انسان پیدا ہو رہا ہے ۔ اس قدر تبصرے کے بعد اب آیات ونصوص کا سامنا کریں۔

آیت 95 لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً ط دَرَجَۃً کی تنکیر تفخیم کے لیے ہے ‘ یعنی بہت بڑا درجہ۔ یہاں قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کی بات ہو رہی ہے کہ جو کسی معقول عذر کے بغیر قتال کے لیے نہیں نکلتاوہ اس کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا جو قتال کر رہا ہے۔ اگر کوئی اندھا ہے ‘ دیکھنے سے معذور ہے یا کوئی لنگڑا ہے ‘ چل نہیں سکتا ‘ ایسے معذور قسم کے لوگ اگر قتال کے لیے نہ نکلیں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن ایسے لوگ جن کو کوئی ایسا عذر نہیں ہے ‘ پھر بھی وہ بیٹھے رہیں ‘ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ درجے میں مجاہدین کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اور یہ بھی نوٹ کرلیجئے کہ یہ ایسے قتال کی بات ہو رہی ہے جس کی حیثیت اختیاری optional ہو ‘ لازمی قرار نہ دیا گیا ہو۔ جب اسلامی ریاست کی طرف سے قتال کے لیے نفیر عام ہوجائے تو معذورین کے سوا سب کے لیے نکلنا لازم ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ قتال کے لیے پہلی دفعہ نفیر عام غزوۂ تبوک سن 9 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے قتال کے بارے میں صرف ترغیب persuasion تھی کہ نکلو اللہ کی راہ میں ‘ حکم نہیں تھا۔ لہٰذا کوئی جواب طلبی بھی نہیں تھی۔ کوئی چلا گیا ‘ کوئی نہیں گیا ‘ کوئی گرفت نہیں تھی۔ لیکن غزوہ ‘ تبوک کے لیے نفیر عام ہوئی تھی ‘ باقاعدہ ایک حکم تھا ‘ لہٰذا جو لوگ نہیں نکلے ان سے وضاحت طلب کی گئی ‘ ان کا مؤاخذہ کیا گیا اور ان کو سزائیں بھی دی گئیں۔ تو یہاں چونکہ اختیاری قتال کی بات ہو رہی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا رہا کہ ان کو پکڑو اور سزا دو ‘ بلکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے مجاہدین اللہ کی نظر میں بہت افضل ہیں۔ اس سے پہلے ایسے قتال کے لیے اسی سورة آیت 84 میں وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ کا حکم ہے ‘ یعنی مومنین کو قتال پر اکسائیے ‘ ترغیب دیجئے ‘ آمادہ کیجئے۔ لیکن یہاں واضح انداز میں بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے اور نہ کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ وَکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ط۔چونکہ ابھی قتال فرض نہیں تھا ‘ نفیر عام نہیں تھی ‘ سب کا نکلنا لازم نہیں کیا گیا تھا ‘ اس لیے فرمایا گیا کہ تمام مؤمنین کو ان کے اعمال کے مطابق اچھا اجر دیا جائے گا۔ قتال کے لیے نہ نکلنے والوں نے اگر اتنی ہمت نہیں کی اور وہ کمتر مقام پر قانع ہوگئے ہیں تو ٹھیک ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلے میں ان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔

مجاہد اور عوام میں فرق صحیح بخاری میں ہے کہ جب اس آیت کے ابتدائی الفاظ اترے کہ گھروں میں بیٹھ رہنے والے جہاد کرنے والے مومن برابر نہیں، تو آپ اسے حضرت زید کو بلوا کر لکھوا رہے تھے اس وقت حضرت ابن ام مکتوم نابینا آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو نابینا ہوں معذور ہوں اس پر الفاظ غیر اولی الضرر نازل ہوئے یعنی وہ بیٹھ رہنے والے جو بےعذر ہوں ان کا ذکر ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت زید اپنے ساتھ قلم دوات اور شانہ لے کر آئے تھے اور حدیث میں ہے کہ ام مکتوم نے فرمایا تھا یا رسول اللہ ﷺ اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد میں شامل ہوتا اس پر وہ آیت اتری اس وقت حضور ﷺ کی ران حضرت زید کی ران پر تھی ان پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ ران ٹوٹ جائے۔ وہ حدیث میں ہے کہ جس وقت ان آیات کی وحی اتری اور اس کے بعد طمانیت آپ پر نازل ہوئی میں آپ کے پہلو میں تھا اللہ کی قسم مجھ پر رسول ﷺ کی ران کا ایسا بوجھ پڑا کہ میں نے اس سے زیادہ بوجھل چیز زندگی بھر کوئی اٹھائی پھر وحی ہٹ جانے کے بعد آپ نے عظیما تک آیت لکھوائی اور میں نے اسے شانے کی ہڈی پر لکھ لیا اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابھی تو ابن ام مکتوم کے الفاظ ختم بھی نہ ہوئے تھے جو آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، حضرت زید فرماتے ہیں وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعد میں اترے ہوئے الفاظ کو میں نے ان کی جگہ پر اپنی تحریر میں بعد میں بڑھایا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مراد بدر کی لڑائی میں جانے والے اور اس میں حاضر نہ ہونے والے ہیں، غزوہ بدر کے موقعہ پر حضرت عبداللہ بن جعش اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آکر حضور سے کہنے لگے ہم دونوں نابینا ہیں کیا ہمیں رخصت ہے ؟ تو انہیں آیت قرآنی میں رخصت دی گئی، پس مجاہدین کو جس قسم کے بیٹھ رہنے والوں پر فضلیت دی گئی ہے وہ وہ ہیں جو صحت و تندرستی والے ہوں، پس پہلے تو مجاہدین کو جس قسم کے بیٹھ رہنے والوں پر فضلیت دی گئی ہے وہ وہ ہیں جو صحت و تندرستی والے ہوں، پس پہلے تو مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر مطلقاً فضلیت تھی لیکن اسی وحی میں جو الفاظ اترے اس نے ان لوگوں کو جنہیں مباح عذر ہوں عام بیٹھ رہنے والوں سے مستثنیٰ کردیا جیسے اندھے لنگڑے لولے اور بیمار، یہ مجاہدین کے درجے میں ہیں۔ پھر مجاہدین کی جو فضلیت بیان ہوئی ہے وہ ان لوگوں پر بھی ہے جو بےوجہ جہاد میں شامل نہ ہوئے ہوں، جیسے کہ ابن عباس کی تفسیر گذری اور یہ ہونا بھی چاہئے بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس جہاد کے لئے سفر کرو اور جس جنگل میں کوچ کرو وہ تمہارے ساتھ اجر میں یکساں ہیں، صحابہ نے کہا باوجودیکہ وہ مدینے میں مقیم ہیں، آپ نے فرمایا اس لئے کہ انہیں عذر نے روک رکھا ہے اور روایت میں ہے کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا ثواب بھی جو تمہیں ملتا ہے انہیں بھی ملتا ہے، اسی مطلب کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں یارا حلین الی البیت العتیق لقد سر تم جسو ماو سرنا نحن ارواحا انا اقمنا علی عذروعن قدر ومن اقام علی عذر فقدراحا یعنی اے اللہ کے گھر کے حج کو جانے والو ! اگر تم اپنے جسموں سمیت اس طرف چل رہے ہو لیکن ہم بھی اپنی روحانی روش سے اسی طرف لپکے جا رہے ہیں، سنو ہماری جسمانی کمزوری اور عذر نے ہمیں روک رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ عذر سے رک جانے والا کچھ جانے والے سے کم نہیں پھر فرمایا ہے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ جنت کا اور بہت بڑے اجر کا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے، پھر ارشاد ہے، مجاہدین کو غیر مجاہدین پر بڑی فضلیت ہے۔ پھر ان کے بلند درجات ان کے گناہوں کی معافی اور ان پر جو برکت و رحمت ہے اس کا بیان فرمایا اور اپنی عام بخشش اور عام رحم کی خبر دی۔ بخاری مسلم میں ہے جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے راہ کے مجاہدین کے لئے تیار کیا ہے ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں، اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے اسے جنت کا درجہ ملتا ہے ایک شخص نے پوچھا درجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تمہارے یہاں کے گھروں کے بالا خانوں جتنا نہیں بلکہ دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے۔

آیت 95 - سورہ نساء: (لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله بأموالهم وأنفسهم ۚ فضل الله المجاهدين بأموالهم وأنفسهم...) - اردو