سورہ نساء (4): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ نساء کے بارے میں معلومات

Surah An-Nisaa
سُورَةُ النِّسَاءِ
صفحہ 105 (آیات 171 سے 175 تک)

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۖ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَٰثَةٌ ۚ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ سُبْحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌ ۘ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا لَّن يَسْتَنكِفَ ٱلْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْتَنكَفُوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُم بُرْهَٰنٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِهِۦ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِى رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَٰطًا مُّسْتَقِيمًا
105

سورہ نساء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ نساء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ "تین" ہیں باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ahla alkitabi la taghloo fee deenikum wala taqooloo AAala Allahi illa alhaqqa innama almaseehu AAeesa ibnu maryama rasoolu Allahi wakalimatuhu alqaha ila maryama waroohun minhu faaminoo biAllahi warusulihi wala taqooloo thalathatun intahoo khayran lakum innama Allahu ilahun wahidun subhanahu an yakoona lahu waladun lahu ma fee alssamawati wama fee alardi wakafa biAllahi wakeelan

(آیت) ” نمبر : 171۔

نصرانیوں کا عقیدہ تثلیث غلو فی الدین ‘ حدود سے تجاوز اور حق سے روگردانی ہے اس لئے اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں وہی کچھ کہیں جو حق ہو ‘ مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے یا یہ کہ وہ تین میں سے ایک ہے ۔

ان کے ہاں نظریہ تثلیث مختلف ادوار کے اندر ان کی فکری اتار چڑھاؤ کے مطابق بدلتا رہا ہے ۔ لیکن اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت کرکے انسان کی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے اور دور جدید کی عقلیت پسندی کی وجہ سے وہ اس ابنیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس بیٹے کی ولادت اس طرح نہیں ہوئی جس طرح عام بشر کی ولادت ہوتی ہے بلکہ اس کی حقیقت اس طرح ہے جس طرح باپ کو بیٹے سے محبت ہوتی ہے اور تین میں سے ایک کی تشریح وہ اس طرح کرتے ہیں جس طرح ایک کی تین صفات ہوتی ہیں ۔ اگرچہ آج تک وہ ان ناقابل فہم اور متضاد تصورات کو انسانی فہم وادراک کے اندر داخل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ آخر کار انہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ وہ غیبی معمے ہیں اور ان کی حقیقت کا ادراک اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے ۔

اللہ کی ذات شرکت اور مشابہت سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کی ذات اپنی مخلوق سے علیحدہ ذات ہو۔ خالق اور مخلوق کے درمیان جدائی اور مالک اور مملوک کے درمیان علیحدگی ایک قابل فہم تصور ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔

(آیت) ” انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد لہ ما فی السموت والارض “۔ (4 : 171) (اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو ۔ زمین و آسمان کی ساری چیزین اس کی ملک ہیں)

اگر لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہوجانا عجیب لگتا ہے اور وہ اس دنیا میں رات دن جو کچھ دیکھتے ہیں ‘ اس کے خلاف لگتا ہے تو یہ تعجب اس لئے ہوتا ہے کہ یہ واقعہ معروف اور متعاد طریقہ کار سے ذرا ہٹ کر ہے ۔ لیکن لوگ جس چیز کو روز دیکھتے ہیں وہ بھی پوری حقیقت نہیں ہے اور انکے سامنے یہ کائنات جن قوانین کے مطابق چل رہی ہے اللہ کی پوری سنت ان کے اندر محدود نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو ان سنتوں اور قوانین کا خالق ہے۔ وہ ان کو دہراتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ان میں تصرف بھی کرسکتا ہے ۔ اس کی مشیت پر کوئی حد اور قید عائد نہیں ہے ۔

(آیت) ” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ (4 : 171) (مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی)

مختصرا یہ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انکی پوزیشن اور دوسرے رسولوں کی پوزیشن میں کچھ فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ وہ وہی حیثیت رکھتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی ہے اور وہ اسی برگزیدہ گروہ اور مختاران برائے منصب رسالت میں سے ایک ہیں جو انسانی تاریخ کے طویل ترین دور میں وقتا فوقتا مبعوث ہوتے رہے ۔

(آیت) ” وکلمتہ القھا الی مریم “۔ (4 : 171) (ایک فرمان تھا جو مریم کی طرف بھیجا “ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو براہ راست اپنے فرمان سے پیدا کیا ۔ اس تکوینی حکم اور فرمان کے لئے قرآن کن فیکون کے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ اللہ نے مریم کی طرف یہ حکم متوجہ کیا اور اس کے بطن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق ہوگئی اور یہ کسی باپ کے نطفے کے بغیر ہوئی ۔ یعنی اس طرح نہ ہوئی جس طرح انسان کی عمومی زندگی کی روٹین میں ہوتا ہے اور اللہ کا یہ فرمان اور یہ کلمہ وہ ہے جو ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا ہے ۔ اس لئے یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بطن مریم میں اپنے حکم اور نفخ روح سے پیدا کردیں ۔ (آیت) ” وروح منہ) ” وہ اللہ کی طرف سے ایک روح تھی۔ “

تمام کتب سماوی کے ماننے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو مٹی سے بنایا اور بنانے کے بعد اس میں روح پھونکی ۔ اس طرح وہ انسان کی شکل اختیار کر گئے ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

(آیت) ” اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین (71) فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین (72) (38 آیت 72۔ 72) (جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا : ” میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں ‘ پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ) اور یہی بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمائی ۔

(آیت) ” والتی احصنت فرجھا فنفخنا فیھا من روحنا “۔ (21 : 91) ” اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی ۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا “۔ اس لئے قرآن مجید کے مطابق مریم کے اندر جو روح پھونکی گئی اور اس کی جو تعبیر قرآن نے کی ویسی ہی تعبیر حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی کی ہے ۔ اور دونوں جگہ نفخ روح کا ذکر ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی اس بات کا قائم نہیں ہے کہ حضرت آدم ابن اللہ ہیں حالانکہ وہ سب تخلیق آدم کی کہانی اور آدم میں نفخ روح کے قائل ہیں ۔ نہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آدم اقانیم الہیہ میں سے کوئی اقنوم ہیں ۔ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قائل ہیں ۔ حالانکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تخلیق اور نفخ روح کے لحاظ سے مکمل مشابہت پائی جاتی ہے ۔ بلکہ آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا ہوئے تھے جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کیس میں بالاتفاق ماں تو موجود تھی۔ یہی حقیقت قرآن کریم دوسری جگہ پیش کرتا ہے ۔

(آیت) ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “ (3 : 58) ” اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجاؤ اور وہ گیا “۔ انسان اس بات پر متعجب ہوتا ہے کہ ذاتی خواہشات اور بت پرستی کے غلط افکار نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے نہایت ہی سادہ اور قابل فہم مسئلے کو کس قدر چیستان بنا دیا ہے ۔ جس نے صدیوں تک کئی نسلوں کے ذہن کو پریشان کئے رکھا ۔ لیکن جب قرآن آتا ہے تو وہ بڑی سادگی کے ساتھ ایک چٹکی سے اس مسئلے کو حل کردیتا ہے ۔ اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے ۔

جو ذات باری حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر والدین کے پیدا کرکے اسے روح دے سکتی ہے اور اسے تمام مخلوقات میں سے ممتاز اور برتر بنا سکتی ہے تو وہی ذات ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بن باپ پیدا کردیا اور یہ تمہیں کیوں حیرت انگیز نظر آتا ہے ۔ یہ بھی زندگی ہے اور وہ بھی زندگی ہے ۔ اور اللہ کا یہ کلام نہایت ہی واضح اور سادہ اور قابل فہم ہے ۔ بہ نسبت ان چیستانوں کے جو عیسائیوں کے ہاں رائج ہوئے اور ان کی انتہا الوہیت مسیح کی قرار داد پر ہوئی ۔ اس نتیجے تک وہ محض اس لئے پہنچے کہ ان کا کوئی باپ نہ تھا ۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کے تین اقنوم کے قائل ہوئے حالانکہ وہ اس تصور سے پاک اور بلند تر ہے ۔

(آیت) ” فامنوا باللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلثۃ انتھوا خیرالکم “۔ (4 : 171) ” پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ ” تین “ ہیں ۔ باز آجاؤ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ “ اللہ اور رسولوں پر ایمان لانے کی اسی دعوت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بحیثیت رسول اور حضرت محمد ﷺ خاتم النبین شامل ہیں اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تم جن اساطیر اور جھوٹے دعوؤں پر یقین رکھتے ہو ‘ ان سے باز آجاؤ ۔ اس کی تفصیلات بعد میں مناسب مقام پر آرہی ہیں ۔

(آیت) ” انما اللہ الہ واحد “ (4 : 171) (بےشک اللہ تو ایک ہی خدا ہے) اور اس کی وحدانیت پر اس کائنات کے اندر جاری وساری واحد ناموس گواہی دے رہا ہے ۔ اس پوری مخلوقات کی وحدت ‘ اس پوری کائنات کی فطرت کو ایک ہی نہج پر ڈال رہی ہیں ۔ اور یہ نہج یہ ہے کہ اللہ نے کن کہا اور پھر سب کچھ ہوگیا ۔ پھر انسانی عقل بھی واحد الہ پر گواہ ہے اس لئے کہ ایک واحد مدبر الہ کا وجود انسان کیلئے قابل فہم ہے ۔ عقل انسانی کسی ایسے خالق کا تصور نہیں کرسکتی جو مخلوقات جیسا ہو ‘ نہ وہ تین خالقیں کا تصور کرسکتی ہے اور یہ بات تو سمجھ میں آتی ہی نہیں کہ تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو ۔

(آیت) ” سبحنہ ان یکون لہ ولد “ (4 : 171) (وہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو) بیٹا تو اس لئے ہوتا ہے کہ باپ فانی ہوتا ہے اور اس صورت میں نسل کا تسلسل مطلوب ہوتا ہے ۔ اللہ تو ابد الاباد تک باقی ہے ۔ اسے کیا ضرورت ہے کہ ایک فانی کو اپنا بیٹا بنائے جب تمام وہ چیزیں جو زمین میں ہیں یا آسمانوں میں ہیں وہ اللہ کی ملکیت میں ہیں ۔

(آیت) ” لہ ما فی السموت والارض “۔ (4 : 171) ” آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس کی ملک ہیں “۔ اور بندوں کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ سب کے سب اللہ کے ساتھ رابطہ بندگی قائم کریں ۔ وہ تو سب کانگہبان اور محافظ ہے ۔ اور سب کا پالنے والا ہے ۔ اس لئے اللہ کے ساتھ رشتہ نکالنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اللہ اور بندوں کے درمیان یہ تعلق قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا کفیل اور وکیل ہے ، (آیت) ”(وکفی باللہ وکیلا “۔ (4 : 171) ” بندوں کی کفالت اور خبر گیری کیلئے وہی کافی ہے۔ “

یوں قرآن مجید اس حقیقت کو اس حد تک اجاگر کردیتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عقیدے کے بارے میں فیصلہ کردیتا ہے ۔ ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ احساس اور یہ شعور بھی دلایا جاتا ہے کہ اللہ ان کا کفیل اور نگہبان بھی ہے ۔ اللہ ہر وقت ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔ ان کی ضروریات کا بھی وہ کفیل ہے ۔ ان کے مفادات کا بھی وہ بندوبست کرنے والا ہے ۔ تاکہ وہ اپنے تمام امور اطمینان کے ساتھ اس کے حوالے کردیں ۔

اب سیاق کلام میں بات ذرا آگے بڑھتی ہے ۔ اب ہم نہایت ہی عظیم اور اہم نظریاتی مسئلے کی طرف آتے ہیں ۔ وہ اعتقاد اور نظریہ جو ایک انسان کے دل و دماغ میں عقیدہ توحید کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے یعنی یہ کہ اللہ خالق اور مالک ہے ۔ اور اس کے جوا اب میں انسان مملوک اور بندہ ہے ۔ اس لئے دو حقائق عقیدہ یا دو اجزاء عقیدہ توحید کے لازمی حصے ہیں یہ کہ اللہ حاکم ہے اور لوگ محکوم اللہ الہ ہے اور معبود ہے اور لوگ عابد اور غلام ‘ اور یہ کہ بندگی اور غلامی اس کرہ ارض کی تمام موجودات کیلئے ہے اور موجودات کی تمام اقسام و انواع اس کی بندگی میں ہیں ۔

یہاں قرآن کریم نصاری کے اس عقیدے کی تصحیح کرتا ہے جس کے مطابق وہ فرشتوں کو بھی اللہ کے بیٹے اور اولاد تصور کرتے تھے یا ان کو خدا کے ساتھ خدائی میں شریک کرتے تھے ۔ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت میں شریک کرتے تھے ۔

اردو ترجمہ

مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lan yastankifa almaseehu an yakoona AAabdan lillahi wala almalaikatu almuqarraboona waman yastankif AAan AAibadatihi wayastakbir fasayahshuruhum ilayhi jameeAAan

(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔

قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔

پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔

جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔

ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔

جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے ‘ نہ ان کے باہمی رابطے قائم ہو سکتے ہیں اور نہ وہ فرائض حیات کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں ۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے ساتھ سب کا موقف برابر فاصلے پر ہوگا اور اس کے ساتھ قرب حاصل کرنا سب کیلئے کھلا ہوگا ۔ یوں تمام بنی نوع انسان کے درمیان مرتبہ کے اعتبار سے مکمل مساوات ہوگی ۔ اس طرح کہ مالک الملک کے ساتھ ان کا فاصلہ برابر ہوگا اور یہاں پر وہ کھوٹا اور غلط دعوی بالکل باطل ہوجائے گا کہ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس تصور کے مطابق کسی فرد یا کسی نسب یا کسی طبقہ حاکمہ کی جانب سے اپنے لئے حاصل کردہ وہ تمام حقوق بےاصل ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے رب کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کسی طرح ممتاز ہیں۔ اس تصور کے سوا عوام الناس کے اندر حقیقی مساوات قائم نہیں ہوسکتی نہ انسانوں کا کوئی نظام حیات یا انکی کوئی سوسائٹی اصول مساوات پر قائم ہوسکتی ہے ۔

اس لئے عقیدہ توحید اس نقطہ نظر سے محض ایک ایسا مسئلہ ہی نہیں رہتا کہ وہ ویک وجدانی تصور ہے جو کسی شخص کے قبل میں مضبوطی سے بیٹھ جائے اور بس ‘ بلکہ عقیدہ توحید ایک نظام زندگی ‘ معاشرتی رابطہ اور بنی نوع انسان کی مختلف نسلوں اور اقوام کے درمیان روابط یعنی سوشیالوجی اور بین الاقوامی مسئلہ بھی بن جاتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے اسلام نے انسان کو عقیدہ توحید دیکر اسے ایک جدید زندگی اور نشاۃ ثانیہ عطا کی ہے ۔ اس کی رو سے انسان تمام انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف ایک رب ذوالجلال کا غلام بن جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا کنیسہ قائم نہیں ہوا جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائدہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائندہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو اللہ کے اقانیم کیلئے متمم ہے ۔ اس وجہ سے اسلامی تاریخ میں مسلمانوں پر تھیاکریسی کا نظام کبھی قائم نہیں ہوا جس میں کوئی بادشاہ اپنے لئے ظل اللہ فی الارض کا لقب اختیار کرے اس طرح کہ اسے حکومت کا حق من جانب اللہ ہے یا یہ کہ وہ از جانب اللہ قانون سازی کرسکتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کا قرابت دار ہے یا اللہ نے اپنے اختیارات اسے تفویض کردیئے ہیں ۔

کنیسہ اور پوپ نے اپنے لئے یہ حق محفوظ کئے رکھا ۔ اسی طرح پیٹر کے پیرو بھی اپنے لئے اس حق کا دعوی کرتے تھے ۔ یہ حق یورپ میں ابنیت اور امتزاج اقانیم کے نظریات کے تحت لوگ اپنے لئے مخصوص کرتے رہے ۔ جب صلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگیں شروع کیں اور مسلمانوں سے لڑتے رہے ۔ تو وہ صلیبی جنگوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اسلام کے نظریہ توحید سے بھی شکست کھا گئے ، ان جنگوں کے نتیجے میں یورپ کے اندر تحریک اصلاح مذہب شروع ہوگئی اور مارٹن لوتھر ‘ کالون اور زنجلی کی تحریکات شروع ہوئیں ۔ جنہوں نے کنیسہ کے باطل تصورات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ سب مصلحین اسلام کے سیدھے سادھے تصور حیات سے متاثر ہوئے ۔ انہوں نے انسان کے تقدس کے نظریے یا اس تصور کی نفی کی کہ اللہ نے اپنے اختیارات کسی کو تفویض کئے ہیں اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ اسلام میں ایک الہ ہے اور مقابلے میں تمام لوگ بندے ہیں اور ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں قرآن کریم میں الوہیت مسیح کے نظریہ کی فیصلہ کن انداز میں تردید کردی گئی ۔ اسی طرح روح القدس کی خدائی کی بھی تردید کردی کہ وہ اقانیم ثلاثہ میں سے ایک ہیں ۔ غرض کسی شکل میں بھی کسی کیلئے نظریہ الوہیت کی تردید کردی گئی چاہئے کوئی یہ نظریہ کسی کیلئے بھی اختیار کرے ۔ قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں یہ اعلان کرتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اللہ کا بندہ ہونے کو اپنے لئے عار نہیں سمجھا اسی طرح ملائکہ مقربین بھی اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے اپنی اس حیثیت کو کبھی عار نہیں سمجھا تمام مخلوقات اس کی بندگی میں ہے اور عنقریب انکو اللہ کے سامنے اجتماعی طور پر اٹھایا جائے گا ۔ جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار اور توہین سمجھتے ہیں وہ عذاب الیم کا انتظار کریں اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ و غلام سمجھتے ہیں وہ انعام واکرام کے امیدوار ہوں۔

(آیت) ” لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولا الملئکۃ المقربون ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (172) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 172۔ 173) ”

” مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں ، اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا ۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے ۔ “

حضرت مسیح ابن مریم اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بلند نہیں سمجھتے ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں ۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مقام الوہیت اور مقام عبودیت سے واقف ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الوہیت اور عبودیت الگ الگ حقائق ہیں اور ان کے درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور اللہ کی درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ‘ اور اللہ کی مخلوق اللہ جیسی نہیں ہو سکتی ۔ نہ وہ اللہ کا جزو ہو سکتی ہے اور وہ سب سے زیادہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بندگی کے فرائض صرف اللہ کے سامنے بجا لائے جانے چاہئیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے اللہ کی بندگی بجا لانا ایک حقیقت ہے اور اس کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اس لئے کہ اللہ کی بندگی کا انکار صرف کافر کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور انشاء کو نہیں مانتے اور یہ کہ بندگی وہ مرتبہ ہے اور وہ اعزاز ہے جو اللہ اپنے رسولوں کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ اعلی اور افضل مراتب پر فائز ہوتے ہیں ۔ یہی حال ملائکہ مقربین کا ہے جن میں روح القدس شامل ہیں ۔ ان کا حال بھی یہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام دوسرے رسل کا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ لہذا اب حضرت مسیح کے ان پیروکاروں کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حوالے سے اس بات کی نفی کرتے ہیں جس کے وہ خود مقرر ہیں ۔

(آیت) ” ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (4 : 172) (اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا) اس لئے اگر وہ خدا کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں بڑائی کرتے ہیں تو ان فعل انہیں اللہ کے سامنے لا کھڑا ہونے سے ہر گز نہ بچاسکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں پر حاکم مطلق ہے اور اللہ کی حاکمیت کے مقابلے میں مقرب بندے اور تمام لوگ ایک ہی جیسے ہیں۔

جن لوگوں نے حق کو پہچان لیا اور انہوں نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کرلیا اور انہوں نے نیک کام کئے ‘ اس لئے کہ نیک کام کرنا اللہ کی عبودیت کے اقرار کا لازمی ثمرہ ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صلہ پورا پورا دے گا اور اس صلے سے مزید ان پر اپنا فضل بھی کرے گا ۔

(آیت) ” واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (4 :۔ 173) ”(اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جانب سے بندگی کا اقرار اور اس کی بندگی و عبادت کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتے کہ اللہ کو ان کے اقرار غلامی یا بندگی کی کوئی خاص ضرورت ہے ۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے یا یہ کہ اگر یہ لوگ بندگی کریں گے تو اس کی حکومت اور سلطنت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا یا یہ کہ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اس کی مملکت میں کوئی کمی ہوجائے گی ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کا مفہوم سمجھ لیں ۔ وہ اپنے تصورات و عقائد کی تصحیح کرلیں اور وہ اپنے جذبات اور اپنے شعور کے اندر اصلاح کرلیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اور زندگی کے طور طریقوں کی اصلاح از خود ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ کوئی نظام زندگی اس وقت تک پرسکون اور پرامن نہیں ہو سکتا اور کوئی تصور اور عقیدہ اس وقت تک مستحکم اور مستقر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی بنیاد میں مستحکم نہ ہو ۔ زندگی کا کوئی تصور اور کوئی نظام اللہ کی حاکمیت اور اللہ کی بندگی کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے بغیر زندگی میں اچھے آثار نمودار کرسکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ جس کا بیان اوپر کردیا گیا ہے لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے اور اس پر ان کی زندگی کا تفصیلی نقشہ مرتب ہوجائے تاکہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس پوری کائنات اور اس کرہ ارض پر اصل حاکم کون ہے ۔ وہ اس کے سوا کسی کے آئے نہ جھکیں ۔ وہ اسی کے نظام زندگی اور اسی کے منہاج کے پیرو ہوجائیں ۔ وہ اسی کی شریعت کی اطاعت کریں۔ صرف ان حکمرانوں کی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ کا نظام زندگی نافذ کرنے والے ہوں ۔ اللہ کا ارادہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ بندے سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں سراٹھا کے چلیں اور اگر وہ سر جھکاتے ہیں تو صرف اللہ کے سامنے سرجھکائیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ جبار ‘ قہار اور اللہ کے باغی حکمرانوں کے مقابلے میں اپنی عزت نفس کا شعور حاصل کریں ۔ جب لوگ اللہ کے سامنے رکوع و سجود کریں تو ان کا فرض ہے کہ وہ صرف اللہ کو یاد کریں اور اللہ کے سوا کسی کو یاد نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب رشتہ داری اور نسب کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ قرب صرف تقوی اور عمل صالح کی وجہ سے نصیب ہوتا ہے ۔ اس زمین کی تعمیر اور نیک کام اللہ کی قرابت اور نزدیکی کا باعث ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو حقیقت ربوبیت اور حاکمیت کا ادراک ہو اور وہ اپنے مقام بندگی کو اچھی طرح پہچان لیں ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کیلئے غیرت اور حمیت رکھتے ہوں اور جو شخص بھی اللہ کے حق حاکمیت میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ اس کیلئے سد راہ بن جائیں اور تمام حقوق حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ خاص کردیں ۔ اس طرح ان کی زندگی کی اصلاح ہوجائے گی ۔ وہ ترقی کریں گے ۔ اور اساس بندگی پر مکرم ہوں گے ۔

اس عظیم حقیقت کا ادراک ‘ تمام انسانوں کی جانب سے صرف اللہ کی طرف دیکھنا ‘ تمام لوگوں کے قلوب کا اللہ کے ساتھ مربوط ہوجانا ۔ تمام لوگوں کے اعمال کا خدا خوفی پر مبنی ہوجانا ‘ تمام لوگوں کے نظام زندگی کا سب کو چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے اذن اور حکم پر مبنی ہوجانا وغیرہ یہ سب امور ہیں جو اس دنیا میں بھلائی آزادی ‘ عدل اور استقامت کا عظیم سرمایہ ہیں ۔ جس سے انسانیت کے سرمایہ میں اس دنیاوی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ غرض یہ ایک ایسا سروسامان ہے جس سے اس دنیا میں حریت ‘ شرافت ‘ عدل اور استقامت کا دور دورہ ہوگا اور ایسے نیکو کار لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ‘ ان پر اللہ کا کرم ہوگا ان پر اس کا فضل خاص ہوگا ۔ اور وہ اللہ کے فیض خاص سے فیض یاب ہوں گے ۔

ہمارا فرض ہے کہ درج بالا نکات کی روشنی اسلام اور ایمان کے تقاضوں پر غور کریں ‘ اور یہ فیصلہ کریں کہ ایسا ایمان تمام رسولوں کی رسالتوں کی اساس رہا ہے ۔ بعد کے ادوار میں ایمان کی اس اصلی صورت میں تحریف اور تبدیلی ہوگئی ۔ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان لانے کی وجہ سے بشریت کو ایک نیا جنم نصیب ہوگا اور اس صورت میں ایمان مقام شرافت اور اعلان حریت ہوگا ۔ اس کے نتیجے میں عدل و انصاف کا قیام ہوگا اور انسان انسان کی بندگی اور غلامی سے نکل آئے گا ۔

جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے آپ سے فرو تر سمجھتے ہیں اور پھر وہ اس کرہ ارض پر دوسری لا تعداد اور نہ ختم ہونے والی بندگیوں میں پھنس جاتے ہیں ‘ آخر کار وہ اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن جاتے ہیں ۔ پھر وہ ادہام اور خرافات کے غلام بن جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں اور پھر ان کی پیشانیاں ان انسانوں کے سامنے جھکتی ہیں پھر ان کی زندگی میں ان کے نظم ونسق میں ‘ ان کے قانون میں ‘ اور ان کے حسن وقبح کے پیمانوں پر بھی انہی جیسے انسان حاکم ہوجاتے ہیں حالانکہ حقیقت نفس الامری میں وہ دونوں برابر اور ایک جیسے انسان ہوتے ہیں لیکن اس طرح غیر اللہ کی اطاعت کرکے انہوں نے غیر اللہ کو اپنا الہ تسلیم کرلیا ۔ یہ تو ان کی پوزیشن ہوگی ہیں اس دنیا میں کہ وہ اپنے جیسے لوگوں کے غلام ہوگئے اور آخر میں انکی پوزیشن یہ ہوگی ۔

(آیت) ” فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 173) ”(ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)

اسلامی نظریہ حیات میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے قرآن نے اس آیت میں پیش کیا ہے ۔ اس کے ذریعے اس وقت اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی تردید کی گئی ہے اور اب قیامت تک یہ ہمارے لئے سنگ میل ہے ۔

سابقہ سبق میں یہودیوں پر تنقید کرکے بتایا گیا تھا کہ لوگو ! حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر اللہ گواہ ہیں جس کی شہادت قطعی برہان ہے ۔ اسی طرح یہاں نصاری کی تردید کرکے پھر تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ یہ رسالت اللہ کی جانب سے برہان ہے ۔ اور یہ ایک نئی روشنی ہے جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی اور تمام شبہات دور ہوجائیں گے ۔ جس شخص نے اس سے ہدایت حاصل کی اور اسے پختگی سے پکڑا تو اس پر اللہ کی رحمت ہوگی اور اللہ کا فضل اس کے شامل حال ہوگا اور اس روشنی اور ہدایت میں وہ صراط مستقیم پائے گا ۔

اردو ترجمہ

اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faamma allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati fayuwaffeehim ojoorahum wayazeeduhum min fadlihi waamma allatheena istankafoo waistakbaroo fayuAAaththibuhum AAathaban aleeman wala yajidoona lahum min dooni Allahi waliyyan wala naseeran

اردو ترجمہ

لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu qad jaakum burhanun min rabbikum waanzalna ilaykum nooran mubeenan

(آیت) ” نمبر 174۔

(آیت) ” یایھا الناس قد جآء کم برھان من ربکم “۔ (4 : 174) (” لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے “

قرآن کریم ایک ایسا کلام ہے جس کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ اس کے اندر ربانی کاریگری کے شواہد پائے جاتے ہیں اور اس کو یہ شواہد انسانوں کے کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ کلام الہی میں الفاظ کی نشست وبرخاست اور روانی قابل دید ہوتی ہے ۔ اور کلام اللہ کی فصاحت اور بلاغت ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو ناقابل یقین نظر آتے ہیں مثلا وہ لوگ جو عربی زبان سے بالکل ناواقف ہیں وہ بھی جب قرآن مجید کی تلاوت سنتے ہیں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم لوگ بحری جہاز پر سوار تھے ۔ بحراوقیانوس میں جانب امریکہ سفر کر رہے تھے ۔ ہم نے عرشہ پر جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا ۔ ہم میں سے چھ آدمی مختلف عرب ممالک کے باشندے تھے اور کچھ دوسری قومیتوں اور نوبہ کے حبشی بھی تھے جو جہاز کے عملے میں شامل تھے ۔

میں نے خطبہ دیا اور خطبے میں قرآن کریم کی بعض آیات تلاوت کیں ۔ اس جہاز کے تمام باشندے ہمارے نماز کے اس اجتماع کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ مختلف قومیتوں کے لوگ تھے ۔ غور سے دیکھ رہے تھے ۔

نماز کے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آتے اور اپنے تاثرات بیان کرتے رہے ۔ لیکن ان میں یوگوسلاویہ کی ایک محترمہ بہت ہی متاثر تھی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اپنی وہ اپنی کمزور انگریزی میں ہم سے یوں کہنے لگی کہ تمہاری عبادت کے اندر جو خشوع و خضوع ہے میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ مجھے تمہاری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا لیکن اس زبان کے اندر ایک ایسا صوتی ترنم ہے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ خطیب کے خطبہ میں بعض جملے نہایت ہی ممتاز ہیں اور ان کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا ہے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ خاص فقرے قرآنی آیات کے وہ حصے اور ٹکڑے تھے جو اپنی فصاحت وبلاغت کے اندر نہایت ہی ممتاز ہوتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے ہاں یہ قاعدہ کلیہ ہے اور ہر قاری کی تلاوت قرآن کا سامعین پر ضرور ایسا ہی اثر ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ یہ قرآن کا بالکل ایک واضح وصف ہے کہ اس کی آواز ایسے لوگوں کو بھی مسحور کردیتی ہے جو بالکل عربی نہیں جانتے ۔

رہے وہ لوگ جو عربی کا خاص ذوق رکھتے ہیں اور جو عربی کے مختلف اسالیب سے واقف ہیں ‘ ان پر قرآن کے اثرات کی عجیب و غریب حکایات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ جب حضور خود اہل کعبہ پر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے ۔ تو اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب ‘ اور ابو جہل کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔ سیرت ابن ہشام میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک رات ابوسفیان ابن حرب ‘ ابوجہل اور اخنس ابن شریق ثقفی ‘ بنی زہرہ کے حلیف رات کے وقت اپنی اپنی جگہ سے چل پڑے تاکہ حضور کا کلام سنیں جبکہ آپ رات کے وقت اپنے گھر میں نماز کے وقت تلاوت فرماتے تھے ۔ ہر شخ ایک بیٹھ گیا اور قرآن کریم کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کے بارے میں خبر نہ تھی ۔ وہ رات کے وقت کلام الہی سنتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ۔ جب واپس ہونے لگے تو یہ سب ایک دوسرے سے راستے میں مل گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور یہ بات نوٹ کی گئی کہ اگر کسی عام شخص نے دیکھ لیا تو وہ اس تحریک کا شکار ہوجائے گا ‘ پھر وہ واپس چلے گئے ، جب دوسری رات ہوئی تو پھر تینوں نہ رہ سکے اور پھر اپنے اپنے خفیہ مقامات پر بیٹھ گئے ‘ رات کو قرآن کریم سنتے رہے ‘ جب صبح ہونے لگی تو اتفاقا پھر راستے میں تینوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے پہلے طرح ایکدوسرے کو ملامت کی ۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر یہ تینوں قرآن کریم کو سننے کیلئے پہنچ گئے ، رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے اور جب صبح کو لوٹنے لگے تو پھر راستے میں ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ اب کے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم حلف نہ اٹھالیں گے ہم رک نہ سکیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے حلف پر معاہدہ کیا اور گھروں کو چلے گئے ۔

یہ تو ایک قصہ تھا ‘ ان لوگوں کا جن کو زبان عربی اور قرآن کریم کے اندر ایک ذوق ہے ۔ وہ جس دور میں بھی ہوں وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم بذات خود ایک سطان اور برہان ہے اور لفظی اور معنوی لحاظ سے معجزہ ہے ۔

جہاں تک معنوعی اعجاز کا تعلق ہے تو قرآن کریم نے جو فکر پیش کی ہے ‘ جو نظام زندگی اس نے پیش کیا ہے ‘ اور زندگی کا جو نقشہ اس نے تجویز کیا ہے اس جگہ ہم اس کی تفصیلات نہیں دے سکتے ۔ لیکن ان تمام پہلوؤں سے بھی قرآن کریم معجزہ ہے اور اس کے اندر برہان اور سلطان موجود ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا مصدر اور منبع کیا ہے اور یہ کہ وہ انسانی کلام نہیں ہے ۔ اس کا انداز اور طرز ادا ایسی ہے جو کسی انسانی کلام کے اندر نہیں ہوتی ۔ اس لئے (آیت) ” وانزلنا الیکم نورا “۔ (4 : 174) ” اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔ ایسی روشنی جس کی شعاعوں میں اشیاء کی صحیح حقیقت نظر آتی ہے اور بہت ہی واضح نظر آتی ہے اور جس کی روشنی میں زندگی کے دو را ہے پر انسان کو حق و باطل کے راستوں میں سے حق کا راستہ صحیح نظر آتا ہے ۔ نفس کی داخلی راہوں کے اندر بھی اور زندگی کی خارجی شاہراہوں پر بھی ۔ جو نفس قرآن کی روشنی سے منور ہو اسے اپنا ماحول اچھی طرح نظر آتا ہے ۔

اس نور کے مقابلے میں دھند چھٹ جاتی ہے ‘ فضا کھل جاتی ہے اور پھر حقیقت واضح اور کھلی نظر آتی ہے ۔ جب یہ روشنی نفس انسانی کو حاصل ہوجاتی ہے تو انسان اپنے اوپر ہنسنے لگتا ہے کہ حقیقت تو بہت ہی کھلی تھی ‘ لیکن تعجب ہے کہ اسے نظر نہ آرہی تھی ۔

اور جب کوئی انسان اپنی روح کے ساتھ کچھ عرصہ قرآنی فضا کے اندر رہے اور قرآن سے اپنے تصورات ‘ حسن وقبح کے پیمانے اور اپنی اقدار اخذ کرلے تو وہ تمام معاملات کو نہایت ہی آسانی ‘ نہایت ہی سادگی اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ دیکھتا ہے اور پھر اسے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کئی ایسے فیصلے جو اس نے کئے اور جو اس کے لئے خلجان کا باعث تھے ‘ اور وہ اسے سمجھ نہ آتے تھے ‘ اب بڑی آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ اب حقائق بڑی آسانی سے نکھر جاتے ہیں اور حقائق کے ساتھ جو مزید آلودگیاں تھیں ختم ہوجاتی ہیں اور تمام حقائق اس طرح ذہن میں اتر جاتے ہیں جس طرح ابھی اللہ کی جانب سے صاف و شفاف ہو کر سامنے آئے ہوں ۔

کس قدر کم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ (آیت) ” (وانزلنا الیکم نورا مبینا) (4 : 174) ” اور ہم نے تم پر واضح کرنے والی روشنی اتاری ہے “۔ میں نے ان الفاظ کی تشریح اور ان پر تبصرہ صرف اس شخص کی خاطرہ کیا ہے جس نے اپنے اندر کتاب اللہ کی کچھ روشنی پائی ہو ‘ اس شخص کیلئے نہیں جس کے اندر اس روشنی کی کوئی چمک ہی نہ ہو ۔ یہ روحانی روشنی اس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب انسان اس کیلئے دلی کوشش کرے اور ذاتی ذوق پیدا کرے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ قرآنی علوم کے اندر تجربہ رکھتا ہوں اور براہ راست قرآن سے روشنی پانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اردو ترجمہ

اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faamma allatheena amanoo biAllahi waiAAtasamoo bihi fasayudkhiluhum fee rahmatin minhu wafadlin wayahdeehim ilayhi siratan mustaqeeman

(آیت) ” نمبر 175۔

جب کسی انسان کے اندر ذوق ایمان پیدا ہوجائے تو وہ فورا اللہ کی پناہ میں آنے کی سعی شروع کردیتا ہے ۔ بشرطیکہ ایمان صحیح ہو اور نفس انسانی اللہ کی حقیقت کو پا چکے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم کیا ہے ۔ جب یہ حقیقت کوئی پالے تو اس کے سامنے اللہ کی پناہ میں پہنچ جانے کے سوا اور کوئی راہ ہی نہیں رہتی اس لئے کہ اللہ ہی بادشاہت اور قدرت کا مالک ہے ۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کے سائے میں لے لیتا ہے ۔ اس دنیا میں بھی ان پر اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے اور آخرت میں بھی ان پر رحمت اور فضل وکرم ہوتا ہے ‘ وہ عاجلہ میں بھی کامیاب اور آجلہ میں بھی کامیاب ۔ پس صحیح ایمان ایک گھنے سائے والا ایک ایسا پرنم باغ ہے جس کے اندر انسان روح ‘ بےچین روح ‘ حیران وپریشان روح نہایت ہی خوشگوار باد نسیم پاتی ہے اور اطمینان و سکون حاصل کرتی ہے ۔ جبکہ اجتماعی لحاظ سے ایمان ایک ایسا اصول حیات ہے جس کے اوپر اجتماعی زندگی پاکیزگی ‘ احترام شرافت ‘ آزادی اور استحکام کے ساتھ بسر ہوتی ہے ۔ ہر انسان کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ وہ صرف اللہ کا بندہ ہے اور اس کے سوا جس قدر اشیاء اس کائنات میں ہیں ان کا وہ سردار ہے ۔ اسلام کے ایمانی نظام زندگی کے سوا کسی اور نظام کے اندر یہ تصور ناپید ہے ۔ صرف اسلام اس دنیا میں ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے جیسے لوگوں کی غلامی سے نکالا جائے اور صرف اللہ کی بندگی میں داخل کیا جائے ۔ یہ نظریہ انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ صرف اللہ کو اپنا حاکم سمجھتا ہے اور لوگ تمام کے تمام لوگ ‘ اللہ کے بندے ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ بادشاہت اور حاکمیت صرف اللہ کیلئے خاص ہوجاتی ہے اور انسان انسان کا غلام نہیں رہتا ۔ دوسرے نظاموں میں اگرچہ بظاہر وہ آزاد نظر آتا ہے لیکن حقیقتا وہ دوسروں کا غلام ہوتا ہے ۔

پس جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ بہرحال اللہ کی رحمت اور فضل میں ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی اس زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں اور اخروی زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما “۔ (4 : 185) ” اللہ انکو اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ دکھا دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اس فقرے میں لفظ الیہ ” اپنی طرف “ سے یوں نظر آتا ہے کہ انسان قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہاتھ پکڑ کر مومنین کو اپنی طرف آگے بڑھا رہے ہیں ۔ انکو اللہ کی طرف آنے کے لئے بالکل سیدھے راستے کے ذریعے لے جایا رہا ہے ۔ وہ قدم بہ قدم اللہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس ایک لفظ سے عبادت کی خوبی اور حسن کو صرف وہ شخص ہی پاسکتا ہے جس نے علی وجہ البصیرت اللہ پر ایمان اپنے اندر پیدا کرلیا ہو اور اس نے راہ ایمان کو پختہ طور پر پکڑ لیا ہو ۔ اسے راہ حق پر ہونے کا پختہ یقین ہو ۔ اسے ہر لمحہ یہ بات محسوس ہوتی ہو کہ وہ راہ حق کا مسافر ہے ۔ اور راستے اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہ ہر لمحہ آگے ہی بڑھ رہا ہے ۔ سیدھے راستے پر واضح پالیسی کے ساتھ ۔ یہ ایک مفہوم ہے جس کا تعلق ذوق یقین کے ساتھ ہے اور اس کا احساس اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ذوق اور ذائقہ درست نہ ہو ۔

105