اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمْرَأَةٌ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَٰحِدٍ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوٓا۟ أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ
تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَٰلِدًا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌ مُّهِينٌ
اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔
ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔
نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں گی ۔ وہ سب کی سب چہارم یا ہشتم میں شریک ہوں گی اور اب حکم میراث کے سلسلے میں آخری حکم ہے جو مسئلہ کلالہ کے نام سے مشہور ہے ۔
(آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس ، فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر “۔
کلالہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص اپنے جوانب سے میراث کا حقدار ہو ‘ حقدار کا سبب اصول میں سے ہونا یا فروع میں سے ہونا نہ ہو ‘ یعنی تعلق ضعیف ہو ‘ اس قدر قوی نہ ہو جس طرح اصول و فروع کا تعلق قوی ہوتا ہے ۔ کسی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :” میں اس سلسلے میں بات اپنی رائے کے مطابق کروں گا ‘ اگر یہ رائے درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہوئی اور اگر غلط ہو تو شیطان کا القاء ہوگا ۔ اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے ۔ کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین ہوں ۔ “ جو حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی مخالفت کروں “۔ (اس روایت کو ابن جریر نے شعبی سے نقل کیا ہے)
علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” حضرت علی ؓ ‘ ابن مسعود ؓ ‘ ابن عباس ؓ ’ زید بن ثابت ؓ ‘ سے منقول ہے ۔ شعبی ‘ نخعی ، حسن ؓ ‘ قتادہ ؓ ‘ جابر ؓ ‘ ابن زید ؓ ‘ اور حکم کی رائے بھی یہی ہے ۔ اہل مدینہ ‘ اہل کوفہ اہل بصرہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ فقہائے سبعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ ائمہ اربعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ اور متقدمین ومتاخرین سب کا اس پر اتفاق ہے بلکہ بہت سے لوگوں سے منقول ہے کہ اس پر اجماع منعقد ہوگیا ہے ۔ “
(آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکاء فی الثلث “۔
ترجمہ : ” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے کلالہ ہو (بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں) مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔
یہاں ” اس کا ایک بھائی اور ایک بہن “ سے مراد وہ بھائی اور بہن ہیں جو میت کے ساتھ صرف ماں کی جانب سے رشتہ رکھتے ہوں یعنی اخیافی بہن بھائی ۔ اگر حقیقی بہن بھائی ہوں یا یہ بہن بھائی صرف والد کی جانب سے ہوں تو ان کی وارثت اس سورت کی آخری آیت کے مطابق ہوگی اور اس میں بھائیوں کا حصہ بہن کے مقابلے میں دوگنا ہوگا اور اس آیت کی طرح نہ ہوگا کہ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا چاہے مرد ہو یا عورت تو یہ حکم گویا اخیافی بہن بھائیوں کیلئے ہوگا ۔ اس لئے کہ اخیافی بہن بھائی صرف بحیثیت ذوالفروض (Sharer) یعنی ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ میراث پاتے ہیں ‘ بطور عصبہ ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ذوالعصبات وہ ہوتے ہیں جو تمام ترکہ یا وہ جو ذوالفروض (Sharer) سے بچ جائے کو بطور (Rosiduc) پاتے ہیں ۔
(آیت) ” وان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث
ترجمہ : ” اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ میں سے ایک تہائی میں شریک ہوں گے ۔ “
چاہے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو ۔ اور معمول بہ قول یہی ہے کہ وہ بحیثیت شریک مساوی مساوی حصہ پائیں گے ۔ اگرچہ فقہاء میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ اس صورت میں وہ مساوی طور پر تقسیم نہ کریں گے بلکہ وہ عام اصول ” ایک مرد دو عورتوں کے برابر حصہ پائے گا ۔ “ کے مطابق تقسیم کریں گے ۔ لیکن پہلا معمول بہ قول ہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ایک بہن اور بھائی کی صورت میں اس آیت نے جو چھٹا حصہ ہر ایک کیلئے مقرر کیا ہے دوسرا قول اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔
اخیافی بھائی جو میت کے ساتھ صرف کے رشتے میں شریک ہوں ‘ دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔
(1) پہلی خصوصیت یہ ہے میراث میں ان کے مراد اور عورتوں کا حصہ برابر ہوتا ہے ۔
(2) انکو صرف اس صورت میں میراث ملتی ہے جب میت کلالہ ہو ‘ اس لئے اگر میت کا والد ‘ دادا ‘ لڑکا اور پوتا موجود ہو تو انہیں میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔
(3) یہ کہ ان کے حقوق ثلث سے زیادہ نہیں ہوتے اگرچہ انکی تعداد بہت بڑھ جائے ۔
(آیت) ” من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضار “۔ ” جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ “ اس آیت کے ذریعہ متنبہ کیا گیا ہے کہ وصیت اس لئے نہ کی جائے کہ ورثاء کو نقصان پہنچ جائے ۔ بلکہ انصاف اور مصلحت کے مطابق وصیت ہونا چاہئے ۔ اور وصیت سے بھی پہلے قرض ادا ہو اور تقسیم وراثت سے پہلے بہرحال دونوں طے ہوں ‘ یعنی وصیت اور قرضہ ۔
اب دوسری آیت کے آخر میں بھی وہی اختتامیہ آتا ہے جو پہل آیت کے آخر میں آیا تھا ۔
(آیت) ” وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم (21)
اختتامیہ کا یہ مضمون مکرر اس لئے لایا گیا ہے کہ نظام میراث کے بارے میں تاکید مزید مطلوب ہے ۔ اور احکام میراث کیلئے لفظ وصیت استعمال کیا گیا ہے ۔ اور یہ وصیت اللہ کی جانب سے ہے اور اس کا حساب و کتاب بھی اسی کے سامنے ہوگا ۔ نہ یہ وصیت کسی خواہش نفس کے مطابق ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات نفسانیہ کی پیروی میں ہے ۔ یہ حقیقی علم وآگاہی پر مبنی ہے ۔ اس لئے اس قانون میراث کی اطاعت فرض ہے ۔ کیونکہ اس کا ماخذ وہ ذات ہے جسے حق ہے کہ وہ انسانوں کیلئے قانون سازی اور ضابطہ بندی کرے ۔ اور اس کا نظام اور ضابطے کو انسانوں کی جانب سے قبول کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ یہ علیم اور حلیم کی جانب سے ہے ۔ حکیمانہ ہے اور مشفقانہ ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کا اصول اساسی یہ ہے کہ اس میں تمام قوانین کا ماخذ ذات باری ہے ۔ اس لئے اس پوری قانون سازی کے عمل کے دوران میں اس حقیقت کی بار بار تاکید کی جار رہی ہے ۔ اگر اس اصولی قاعدے کو تسلیم نہ کیا گیا تو یہ کفر نافرمانی اور دین سے خروج کے مترادف ہوگا آنے والی دونوں آیات اس بارے میں فیصلہ کردیتی ہیں ۔ اور یہ دونوں آیات اس سورت میں دیئے جانے والے پورے نظام میراث کے بارے میں زور دار اختتامیہ ہیں ۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث درحقیقت حدود الہیہ کے زمرے میں آتا ہے ۔
یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔
جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے جہنم میں داخل ہوں گے ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور یہ ان کیلئے دردناک اور توہین آمیز عذاب ہوگا ۔
یہ کیوں ہوگا ؟ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت یا اللہ کی معصیت کے نتیجے میں اس قدر عظیم نتائج کیوں مرتب ہوں گے ‘ حالانکہ قانون میراث نظام شریعت کا بہرحال ایک چھوٹا سا حصہ ہی تو ہے ۔ صرف ایک حصہ اور ایک حصے میں اس قدر شدید سزا ؟
بظاہر یہ خوفناک سزا اس جرم سے بہت زیادہ نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ اس شخص کو زیادہ نظر آتی ہے جو اس بات کی حقیقت اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔
اس حقیقت کے اظہار کیلئے اس سورت کی بہت سی آیات مسلسل گویا ہیں اور ان کی تشریح و تفسیر آگے آرہی اور اس امر کی جانب ہم نے اس سورت کا تعارف پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا ۔ یہ وہ آیات ہیں جن میں لفظ دین کا مفہوم سمجھایا گیا ۔ ایمان کی شرائط بیان ہوئی ہیں اور جن میں اسلام کی تعریف کی گئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مناسب ہے کہ ہم اس امر کے بارے میں مختصرا یہاں بھی ایک نوٹ دیدیں جس قدر ان دو آیات کی تشریح و تفہیم کیلئے ضروری ہے جو آیات میراث کا اختتامیہ اور تبصرہ ہیں ۔
اس دین ‘ دین اسلام بلکہ ان تمام ادیان جو اس پوری تاریخ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجے ہیں یعنی تمام سماوی ادیان الہیہ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اس کرہ ارض پر حاکمیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ ان لوگوں کا رب کون ہے ؟ ان دو سوالوں کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے اور اس دین کے تمام معاملات ان جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے تمام امور انہیں جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔
اب اس سوال کا کیا جواب ہے ۔ اس کرہ ارض پر حاکمیت اور ربوبیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ صرف اللہ وعدہ کو ‘ اس حق میں اس کے ساتھ ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ یہی عین ایمان ہے ، یہی عین اسلام ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر حاکمیت اور ربوبیت کا یہ حق کسی مخلوق کو دیا جائے اور انہیں اللہ کی ساتھ شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا مستقلا میں یہ حق دیا تو یہ صریح شرک اور واضح کفر ہے ۔
حاکمیت اور ربوبیت یا تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہوگی ‘ تو اس صورت میں لوگ صرف اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہوں گے اور صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہوگی کہ لوگ اسلامی نظام زندگی پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ حق صرف اللہ ہی کو حاصل ہوگا کہ وہ لوگوں کیلئے نظام زندگی تجویز کریں اور یہ صرف اللہ وحدہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے طور طریقے اور قوانین اور ضابطے وضع کریں ، پھر یہ صرف اللہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے حسن وقبح کے معیار متعین کرے گا اور ان کی زندگی کے تفصیلی طور طریقے اور تنظیم کرے گا ۔ اور اللہ کے سوا کوئی فرد ہو یا کوئی سوسائٹی ہو اس کیلئے ایسے کچھ حقوق بھی نہ ہوں گے اور ان کیلئے صرف یہی چارہ کار ہوگا کہ وہ شریعت الہیہ کی اطاعت کریں کیونکہ یہ اطاعت اللہ کی الوہیت حاکمیت اور ربوبیت کا منطقی تقاضا ہے اور اس تقاضے کا واحد مظہر اور خاص رنگ نظام شریعت ہے ۔
اور اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ حاکمیت اور ربوبیت کا حق اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوگا ۔ یہ حق اللہ کے ساتھ شریک ہو کر ہوگا یا ان لوگوں کو مستقلا حاصل ہوگا ۔ اس صورت میں جو لوگ یہ حق قبول کریں گے وہ ان غیر اللہ کے دین میں داخل تصور ہوں گے ‘ یوں وہ غیر اللہ کی بندگی کریں گے ۔ پھر یہ انسان کی جانب سے غیر اللہ کی اطاعت ہوگی اور اس کی عملی شکل یوں ہوگی کہ یہ لوگ غیر اللہ کے تجویز کردہ منہاج حیات ‘ انکے ضابطوں ‘ ان کے قوانین اور ان کے حسن وقبح کے معیاروں کے پیروکار ہوں گے اور یہ سب چیزیں بعض انسانوں نے وضع کی ہوگی ۔ اس قانون سازی اور ضابطہ بندی میں وہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی کتاب کا کوئی حوالہ نہ دے رہے ہوں گے ‘ بلکہ یہ تمام چیزیں بعض دوسرے حوالوں سے تشکیل پائیں گی ، بعض دوسرے مصادر ان کے لئے مصادر قوت ہوں گے ۔ اس لئے یہ صورت حال دین سے خالی ہوگی ‘ ایمان مفقود ہوگا اور اسلام نہ ہوگا جبکہ یہ صورت حال شرک ‘ کفر ‘ فسوق اور معصیت کی صورت حال ہوگی ۔
یہ ہے اس معاملے کی اصل حقیقت ‘ لہذا اس میں اگر کوئی صرف اللہ کی حدود میں سے ایک حد کو توڑتا ہے یا پوری شریعت کی نفی کرتا ہے ‘ اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کی ایک حد بھی دین ہے اور پوری شریعت بھی دین ہے ‘ لہذا اس میں اصل ٹارگٹ یہ اصول ہوگا کہ لوگ حاکمیت اور ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک قرار دے رہے ہیں یا وہ اس میں کسی کو شریک کر رہے ہیں یا ذات باری کو الگ چھور کر بعض دوسرے لوگوں کی حاکمیت اور ربوبیت قبول کر رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ لوگ زبانی طور پر کیا دعوی کر رہے ہیں کہ وہ دین اسلام میں داخل ہیں اور مسلمان ہیں تو اگر یہ بات ان کے عمل میں نہیں تو اسلام نہ ہوگا ۔
یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کی طرف آیات میراث کے اس اختتامیہ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث میں ورثاء کے حصص کی تقرری کا تعلق براہ راست اللہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ہے ۔ یا اس معاملے میں اللہ اور رسول کی نافرمانی ہوگی ۔ یا اس کا نتیجہ ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یا اس کا انجام ایک توہین آمیز عذاب کی شکل میں ہوگا جو جہنم کی آگ میں دائما دیا جائے گا ۔
اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کا اظہار اس صورت میں متعدد آیات کے اندر مکرر کیا گیا ہے اور اسے اس قدر واضح اور فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس مین کسی تاویل اور کسی نفاق کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ۔
وہ لوگ جو ابھی تک اپنا تعارف اسلام کے حوالے سے کراتے ہیں میں ان کو یہ دعوت دوں گا کہ وہ اس بارے میں اپنا ذہن صاف کرلیں اور دیکھ لیں کہ وہ اسلامی نظام حیات اور دین اسلام سے کس قدر دور ہوچکے ہیں ۔
اس بحث کے بعد اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلام کے نظام میراث کے بارے میں چند کلمات عرض کروں اس سے پہلے (آیت) ”۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن “۔ ” مردوں کیلئے وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کیلئے بھی وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا “ ۔ کے ضمن میں ہم نے یہ عمومی اصول بیان کیا تھا اسی طرح (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ یہ کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا ۔ “ کے ضمن میں بھی ہم نے بحث کی تھی ۔
اسلام کا نظام وراثت ایک نہایت ہی عادلانہ اور فطرت انسانی کے ساتھ نہایت ہی ہم آہنگ نظام ہے ۔ نیز خاندانی زندگی کے عملی حال احوال کے ساتھ نہایت ہی موزوں ہے ۔ اور اس بات کی اچھی طرح وضاحت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اس نظام کا تقابلی مطالعہ ان تمام نظاموں سے کرتے ہیں ‘ جو انسانی تاریخ میں کبھی رائج رہے ہیں یا اب ہیں ‘ جاہلیت قدیمہ میں یا جاہلیت جدیدہ میں۔ دنیا کے خطے میں اور کسی بھی قوم وملت میں اس نظام میں خاندان کی اجتماعی کفالت کے تمام مقاصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ ہر شخص کا حصہ اور خاندان کے اندر اس کی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر متعین کیا گیا ہے ۔ مثلا والدہ اور والد جو ذی الفروض میں سے ہیں ۔ ان کے بعد اس نظام میں عصبات کو اہمیت دی گئی ہے ۔ اس لئے کہ والدین کے نہ ہونے کی صورت میں کسی یتیم کی کفالت عصبات ہی کے ذمہ ہوتی ہے ۔ یہ عصبات ہی ہیں جو دیت اور دوسرے اجتماعی تاوان ادا کرتے وقت حصہ داریاں اپنے سر لیتے ہیں ۔ اس لئے اسلامی نظام میراث غایت درجہ مناسب اور موزوں ہے ۔
اس نظام کی اساس اس اصول پر ہے کہ یہ خاندانی نظام ایک ہی نفس بشر سے وجود میں آیا ہے ۔ اس لئے نہ اس میں بچے محروم ہوں گے اور نہ عورتیں محروم ہوں گی ۔ محض اس لئے کہ وہ عورتیں ہیں یا نابالغ ہیں ۔ چناچہ اگر یہ نظام عملی ذمہ داریوں میں فرق مراتب کرتا ہے تو نفس انسانیت کی اساس پر کوئی فرق بھی نہیں کرتا ۔ اس لئے اس میں حقوق دیتے وقت اصناف مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جاتا ۔ فرق اگر ہے تو اجتماعی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے جو ذمہ داریاں اجتماعی خاندانی کفالت کے حوالے سے عائد ہوتی ہیں ۔
اس نظام کے اندر عام زندہ چیزوں کی فطرت اور خصوصا انسانی فطرت کو پوری طرح مدنظر رکھا گیا ہے ۔ چناچہ ہر حصص اور حقوق الاٹ کرتے وقت اولاد میت کو سب سے مقدم رکھا گیا ہے ۔ یعنی والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلے میں اس فطری میلان کے علاوہ آنے والی نوخیز نسل اس لئے بھی زیادہ مستحق ہے کہ اس کرہ ارض پر وہی زندگی کے تسلسل کا ذریعہ ہے ۔ وہی ہے جس کی وجہ سے بنی نوع انسان اس کرہ ارض پر موجود رہ سکتا ہے ۔ لہذا اس نوخیز نسل کا لحاظ ضروری ہے ۔ لیکن اس نوخیز نسل کی رعایت کے ساتھ ساتھ آباء کو بھی محروم نہیں رکھا گیا ۔ اور نہ ہی دوسرے رشتہ داروں کو محروم رکھا گیا ہے ۔ ہر ایک کو حصہ دیا گیا ہے ۔ فطرت کے منطقی تقاضوں کے عین مطابق ۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جو ہر زندہ چیز اور ہر انسان کے اس فطری تقاضے کے عین مطابق ہے جس کے تحت وہ اپنی نسل کے ساتھ گہرا ربط رکھنا چاہتا ہے اور یہ کہ اس اولاد کے ذریعہ گویا اس کے وجود کو تسلسل مل رہا ہے اس لئے اس نظام میراث کی وجہ سے ایک انسان مطمئن رہتا ہے کہ وہ جو اپنی سعی اور جدوجہد کو بحث کی شکل میں ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور یہ اس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے عمل کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے ۔ اور یہ کہ اس کی آئندہ نسل اس سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ یقین کہ اس کی جدوجہد کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے گا ‘ اس کی جدوجہد کیلئے مہمیز کا کام دے گا ۔ وہ اپنی جہد وسعی میں مزید اضافہ کر دے گا اور یہ بات پوری سوسائٹی کیلئے بھی معاشی لحاظ سے مفید ہوگی ۔ اور اس جہد مسلسل کی وجہ سے معاشرے کی اجتماعی نظام تکافل میں بھی کوئی فرق نہ آئے گا بلکہ اس نظام میں اسے پورا پورا ملحوظ رکھا گیا ہے ۔
اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کا نظام میراث کسی شخص کی جمع کردہ دولت کو اس وقت پاش پاش کردیتا ہے جب وہ انتہاوں کو چھو لیتی ہے ۔ اور اسے از سر نو تقسیم کردیتا ہے ۔ اس لئے یہ نظام دولت کو کسی ایک جگہ جمع ہونے نہیں دیتا ۔ اور نہ ہی چند ہاتھوں میں منجمد کرکے چھوڑتا ہے ۔ مثلا اس نظام کے حوالے سے جس میں پوری وراثت بڑے لڑکے کو مل جاتی ہے یا اسے چند محدود رشتہ داروں کے دائرے کے اندر محدود کردیا جاتا ہے ۔ اس پہلو سے یہ نظام ایک ایسا ذریعہ ہے جو سوسائٹی میں اقتصادی عمل کی کارکردگی کی از سر نو تجدید کرتا ہے اور اسے اعتدال پہ رکھتا ہے ۔ اور اس میں کسی انتظامیہ اور کسی اجتماعی نظام کا بھی کوئی ظاہری دخل نہیں ہوتا ‘ جسے کوئی فرد خوشی سے قبول نہیں کرتا اس لئے کہ انسان کی فطرت میں لالچ اور دولت کی محبت ودیعت کردی گئی ہے ۔ رہی اسلامی نظام میراث کی یہ مسلسل بت شکنی اور بار بار تقسیم جدید تو یہ اپنی جگہ جاری وساری بھی رہتی ہے اور نفس انسانی بھی اسے خوشی خوشی قبول کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ نظام انسان کی فطرت اور اس کی فطری حب مال اور حرص و لالچ کے عین مطابق ہے ۔ اور یہی ہے اصل فرق و امتیاز اس ربانی نظام زندگی اور دوسرے ان نظاموں کے درمیان جو انسان کیلئے انسان نے تجویز کئے ہیں ۔ (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے میری کتاب ” العدالہ الاجتماعیہ فی الاسلام “ کی فصل ” اسلام کی سیاسی پالیسی “۔
درس 13 ایک نظر میں :
اس سورت کے پہلے سبق میں ‘ اسلامی معاشرے کے اندر اجتماعی زندگی کی تنظیم پر توجہ دی گئی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک وصفا کردیا گیا ۔ اس میں معاشرے کے بےسہارا لوگوں ‘ ییتموں کے حقوق اور ان کی جائیداد کی حفاظت کی ضمانت دی گئی اور یہ حفاظت اور تحفظ ان کو ایک خاندان کے فطری فریم ورک کے اندر فراہم کیا گیا ‘ اجتماعی نگرانی کے اندر ۔ اس کے بعد ایک خاندان کے اندر نظام میراث کے اصول بیان کئے گئے اور پھر ان تمام حقوق اور تحفظات کو اس نظریہ حیات کے ساتھ مربوط کردیا گیا کہ اللہ ہی تمام لوگوں کا حاکم اور رب ہے ۔ اور یہ وہی ذات ہے جس نے اپنے حکم و ارادہ سے ایک ہی جان سے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے اور یہ کہ اللہ نے بشریت کے اجتماعی نظام کو ایک خاندان کی اکائی سے شروع کیا ہے ۔ اور پھر اس خاندان کے اندر اجتماعی کفالتی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ اور زندگی کے تمام حالات کی اس ضابطہ بندی کو اللہ کے علم اور حکمت اور اس کے تجویز کردہ حدود وقیود کے ساتھ مربوط کیا گیا اور یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت کریں گے تو انعام جنت کے مستحق ہوں گے اور اگر معصیت کا ارتکاب کریں گے تو سزائے جہنم کے سزا وار ہوں گے ۔
اب اس دوسرے سبق میں اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم ایک دوسرے زاویہ سے کی گئی ہے اور ایک دوسرے پہلو سے اسے جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک وصاف کیا گیا ہے یعنی اسے جاہلیت کی بےراہ روی اور فحاشی سے پاک کیا گیا ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ان کو سوسائٹی سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جائے ۔ الا یہ کہ وہ اپنے رویہ سے باز آجائیں اور سچے دل سے توبہ کرلیں ۔ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوں اور اسلامی معاشرے میں پاکیزہ اخلاق وکردار کے ساتھ از سر نو آنے کے لئے تیار ہوں ۔ پھر اس دوسرے حصے میں عورت کو ان مظالم سے نجات دی گئی ہے جن کی چکی میں وہ ایام جاہلیت میں پس رہی تھی ۔ اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا تھا اور قسم قسم کے مظالم اس پر ڈھائے جاتے تھے تاکہ اسلامی معاشرہ صحت مند اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے ‘ جس کی عام فضا پاک وصاف ہو اور جس کی عمارت نہایت ہی پختہ اساس پر ہو ۔ اور ایک خاندان اس کی پہلی اینٹ ہو ۔ اور اس حصے کے آخر میں خاندان کے ایک پہلو یعنی دائرہ محرمات کی ضابطہ بندی کی گئی ہے ۔ اس کے لئے شرعی قانون سازی کی گئی ہے ۔ اور اس کا اسلوب یہ اختیار کیا گیا ہے کہ محرمات کا ذکر کردیا گیا ہے اور ان کے علاوہ تمام بنات آدم کو انسان کے لئے جائز قرار دے دیا گیا ہے ۔ ان موضوعات پر یہ سبق بھی ختم ہوجاتا ہے اور قرآن کریم کا یہ پاربہ بھی اپنی انتہا کو پہنچتا ہے ۔