سورہ نساء (4): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ نساء کے بارے میں معلومات

Surah An-Nisaa
سُورَةُ النِّسَاءِ
صفحہ 92 (آیات 87 سے 91 تک)

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًا ۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًا وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَآءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ أَوْلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًا مُّبِينًا
92

سورہ نساء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ نساء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu la ilaha illa huwa layajmaAAannakum ila yawmi alqiyamati la rayba feehi waman asdaqu mina Allahi hadeethan

درس نمبر 37 تشریح آیات :

87۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 94۔

اس سبق کا آغاز اس اصول سے ہوتا ہے جس کے اوپر اسلامی نظام کی عمارت استوار ہے اور اس کے تمام پہلو اس اصول سے ماخوذ ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 87۔

اسلامی نظام زندگی کا پہلا قدم عقیدہ توحید ہے اور عقیدہ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ حاکم ہے ۔ اس اسلامی قونون وضع کریں ‘ یا اسلامی انتظامیہ قائم کریں ۔ قانون نظام کا تعلق اسلامی معاشرے کے داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی قانون سے ہو جس کے مطابق اسلامی سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے ۔ چناچہ زیر بحث آیت بعض داخلی اور بین الاقوامی قوانین کا افتتاحیہ ہے۔

نفس انسانی کی تربیت کا سفر اس عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ تمام بندوں کو ایک دن اللہ میدان حشر میں اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس دنیا میں اس نے انسانوں کو جو اختیارات دیئے تھے ان کے صحیح استعمال کے سلسلے میں باز پرس کرے گا ۔ وہاں اس بات کی پرسش بھی ہوگی کہ اللہ کی ہدایات اور اس کے قوانین پر تم نے کس حد تک عمل کیا اور دنیا میں اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات کے اندر کس حد تک تم نے اسلامی ضوابط کی پابندی کی کو ین کہ تمہیں بہرحال وہاں اسی آزمائش اور امتحان کے لئے تو بھیجا گیا تھا ۔ آخرت میں صغیر وکبیر ہر معاملے کا حساب و کتاب ہوگا ۔ حساب و کتاب اور جواب دہی کا یہی اخروی تصو رہے جو شریعت کے انتظامی اور قانونی ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کا ضامن ہے اس لئے کہ ہر شخص کے ضمیر کے اندر ایک جیتا جاگتا چوکیدار بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت بھی نگران ونگہبان ہوتا ہے جب حکومت کے چوکیدار سو جاتے ہیں۔

اور یہ بات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(آیت) ” ومن اصدق من اللہ حدیثا (4 : 87) (اور اللہ سے زیادہ سچی کس کی بات ہے) اور یہ آپ کا وعدہ ہے جس کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔

مسلمانوں کے دلوں کو یہ احساس دینے کے بعد اب اصل بات شروع ہوتی ہے ۔ یہ احساس دلانا اسلامی منہاج تربیت کا ایک عام طریق کار ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی پوری نظریاتی اور عملی عمارت اس عقیدے پر قائم ہے ۔ غرض یہ احساس دلانے کے بعد اب اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جارہا کہ مسلمان نفاق اور منافقین کے بارے میں یکسو نہیں ہیں اور ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز اختیار نہیں کرتے حالانکہ حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کی جائیں ۔ یکسوئی تو اور بات ہے مسلمان ان کے بارے میں واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی رائے ہے ۔ یہ اختلاف رائے مدینہ سے باہر بسنے والے بعض منافقین کے بارے میں پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔ استفہام انکاری کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان معاملات کے بارے میں فکری ہم آہنگی کیوں نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ معاملات کے اندر فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کیا جائے اور منافقین کے ساتھ تعلق اور ان کی نسبت نقطہ نظر رکھنے میں یکسوئی اختیار کی جائے اور ان کے ظاہری امور کو دیکھ کر ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے بشرطیکہ کوئی منصوبہ طے شدہ ہو اور اس کے ساتھ نرمی کی ضرورت ہو۔

اردو ترجمہ

پھر یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں، حالانکہ جو برائیاں اُنہوں نے کمائی ہیں اُن کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اُسے تم ہدایت بخش دو؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستہ سے ہٹا دیا اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fama lakum fee almunafiqeena fiatayni waAllahu arkasahum bima kasaboo atureedoona an tahdoo man adalla Allahu waman yudlili Allahu falan tajida lahu sabeelan

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔

یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔

امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔

عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔

اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔

(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89)

” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔

یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ مدینہ کو ہجرت کر کے آجائیں ۔ یہ واقعہ لازما فتح مکہ سے پہلے کا ہوگا اور ہجرت تھی بھی فتح مکہ سے پہلے کیونکہ ہجرت کی تعریف یہ ہے کہ دارالکفر سے داراسلام کی طرف ہجرت کی جائے ۔ لوگ تحریک اسلامی سے آکر ملتے رہیں اور اسلامی نظام کے تحت آتے رہیں ۔ ورنہ ان کی زندگی یا تو کفر گزرے گی یا نفاق میں ۔ اسی سورت میں اس سبق کے بعد دوسرے سبق میں ایسے لوگوں پر سخت تقید وارد ہے جو ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں مقیم تھے بغیر کسی عذر یا ضعف کے اور تھے مسلمان ۔ اس وقت ان کے لئے مکہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اگرچہ وہ ان کا اصلی وطن تھا اور وہ اس میں مقیم تھے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر ہم دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہ منافقین کا گروہ زیر بحث مکہ میں مقیم تھا ‘ یا مکہ کے اردگرد کسی آبادی میں تھا ۔ یہ لوگ اپنے منہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے تھے اور اپنے عمل سے کافروں کی حمایت کرتے تھے ۔ غرض آیت زیر بحث کو ایک بار پھر پڑھئے :

(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (88) ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 88۔ 89)

” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘ ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ‘ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ ‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “

” ان آیات میں اس بات پر سخت نکیر ہے کہ منافقین کے بارے میں اختلاف رائے واقعہ کیوں ہوا اور ان کے بارے میں یہ حیرت انگیز موقف ہر فریق نے کیوں اپنایا ؟ اس لئے کہ اس موقف میں ایک فریق کی جانب سے بہت نرمی تھی اور اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ ابھی مسلمانوں کا شعور اسلام کے بارے میں پختہ نہیں ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ تم ایسے لوگوں کو قتل کرتے ہو جنہوں نے وہی الفاظ ادا کئے ہیں جو تم نے ادا کئے ہیں اور محض اس لئے کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت نہیں کی ؟ کیا یہی بات ان کی مال وجان کو مباح کرنے کے لئے کافی ہے ؟ ان لوگوں کا تصور اسلام پختہ اس لئے نہ تھا کہ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھ رہے تھے کہ منافقین زیر بحث نے بھی اسی طرح کلمہ پڑھا ہے جس طرح ہم نے پڑھا ہے حالانکہ اس گروہ منافقین کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ ایک تو ان کا اپنا قول کہ محمد ﷺ کے ساتھی ہمیں کچھ بھی نہ کہیں گے ‘ دوسرے یہ کہ اہل ایمان کے ایک گروہ نے بھی ان کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ان شواہد کے باوجود ان لوگوں کا موقف ان منافقین کے بارے میں کمزور موقف تھا حالانکہ انہیں فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ زبانی طور پر کلمہ شہادت پڑھنا اور عملا کفار کی امداد کرنا منافقت کی بین دلیل تھی ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی نرمی اور چشم پوشی کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ معمولی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے تصور اسلام میں کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے اندر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا اور سخت تنبیہ کی گئی ۔

رہے مدینہ کے منافقین تو ان کے بارے میں مسلمان فکری طور پر بالکل یکسو تھے کہ یہ منافق ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ چشم پوشی اس لئے اختیار کی گئی تھی کہ ایک خاص منصوبے کے تحت ایسا ہو رہا تھا ‘ وہ یہ کہ ان کے ظاہری حالات پر ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور ایک وقت ایک انہیں مہلت دی جائے ۔

لیکن یہ ایک دوسری صورت حال تھی کہ اہل اسلام میں سے ایک گروہ ان کی طرف سے اس لئے مدافعت کر رہا تھا کہ انہوں نی بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور زبان سے انہوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں حالانکہ یہ لوگ مسلمہ طور پر دشمنان اسلام کے امداد کندہ تھے ۔ مسلمانوں کی اس فکری کمزوری کی وجہ سے اور ان کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے (جبکہ منافقین کا نفاق بالکل واضح تھا) اس آیت میں شدید تنبیہ کی گئی ۔ اور پھر تنبیہ کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ۔ (واللہ ارکسھم بما کسبوا) (اللہ نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے الٹ دیا ہے) تم ان کے بارے میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے انکی بداعمالیوں اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے انہیں ایسے حالات میں ڈال دیا ہے جن میں وہ الٹے نظر آرہے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے انکے خلاف یہ گواہی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کی وجہ سے ناقابل رشک صورت حال میں پڑے ہیں۔

اس تنبیہ کے بعد ایک دوسری تنبیہ یہ کہ گئی ۔ (آیت) ” اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ) (کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے) یعنی مسلمانوں میں سے جو فریق ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے اس کی منشا یہ تھی کہ انہیں راہ راست پر آجانے کا موقعہ دیا جائے تاکہ یہ منافقانہ رویہ اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف کو نامناسب سمجھا اور منافقین کو ایسے حالات میں ان کے اعمال اور برے ارادوں کی وجہ سے ڈال دیا ہے لہذا ان کے ہدایت پانے کی امید فضول ہے ۔

(آیت) ” ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ ” جن کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے “۔

اور اللہ لوگوں کو گمراہ اس لئے کردیتا ہے کہ وہ اپنی نیت و ارادے سے گمراہی کی راہ اپناتے ہیں ۔ پھر وہ گمراہی کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راستے میں بہت ہی دور چلے جاتے ہیں ۔ اتنے دور کہ ان کے لئے راہ ہدایت بند ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے الٹ راہ اختیار کی ہوتی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ کی امداد کے وہ طالب ہی نہیں رہے اور انہوں نے نشانات راہ کو گم کردیا ۔

اب ایک قدم آگے چلئے ! ان منافقین کے اصل موقف کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور اپنی نیت اور عمل کی وجہ سے وہ اس پوزیش کے مستحق ہوگئے ہیں جس میں وہ پڑے ہیں بلکہ وہ تو خود اہل اسلام کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی کفر ہی کا راستہ اختیار کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔

(آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) بیشک انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ انہوں نے بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور انہوں نے دونوں باتوں کی شہادت دے دی ہے لیکن ان شہادت کو انکا عمل جھٹلاتا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ دشمنان اسلام کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن وہ اس حد پر بھی بس نہیں کرتے اس لئے کہ جو شخص کفر کو اپناتا ہے وہ کسی حد پر نہیں رکتا ۔ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتا جب تک اس پورے کرہ ارض پر سے اسلام اور مسلمان مٹ نہیں جاتے ۔ اس مذموم مقصد کو لئے وہ سعی مسلسل میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ‘ سازشیں کرتا ہے تاکہ موجودہ اہل اسلام بھی لوٹ کر کافر ہوجائیں اور اس طرح تمام لوگ برابر ہوجائیں ۔

زیر تبصرہ منافقین کے اس موقف کی یہ پہلی وضاحت ہے اور یہ وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے ان کے بارے میں اہل اسلام کی سوچ سے ہر قسم کی جھول دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سوچ ان کے قول وعمل کی واضح شہادت پر قائم ہوجاتی ہے اور اب یہ سوچ تضاد سے خالی ہوتی ہے ۔ زبانی اظہار اسلام کی حقیقت کچھ نہیں رہتی جب تمام قرائن یہ بتاتے ہوں کہ ان لوگوں کا موقف منافقانہ ہے ۔

قرآن کریم مسلمانوں کے شعور کو ایک چٹکی بھرتا ہے جس سے ان کے شعور میں ایک خوفناک احساس ابھرتا ہے اور یہ احساس قرآن کے ان الفاظ سے ابھرتا ہے۔

(آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) ‘ ۔ یہ خوف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے حال ہی میں کفر کو ترک کر کے اسلام کا مزہ چکھا تھا ‘ اور ابھی تک انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ان کی زندگی میں کس قدر عظیم تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ ان کا شعور کس قدر بلند ہوا ‘ ان کی عام سطح کس قدر بلند ہوئی اور جاہلیت کے مقابلے میں ان کی سوسائٹی کو اسلام میں کس قدر سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ فرق و امتیاز ‘ انکے شعور میں بھی تھا اور حقیقت واقعہ میں بھی ‘ اور یہ اشارہ ہی کافی تھا کہ وہ اس شخص کے دشمن بن جائیں جو انہیں دوبارہ ان سابقہ پستیوں کی طرف لے جانے کی تدابیر کر رہا تھا ۔ یعنی اس جاہلیت کی پستیوں کی طرف جس سے انہیں اسلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا ۔ پھر انہیں ایک عام سطح پر ہی نہ چھوڑ دیا تھا بلکہ انہیں عمومی ترقی کے ذریعے بلند ترین چوٹی پر پہنچا دیا تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآنی نظام تربیت اس حقیقت کا سہارا لے کر خطرناک حالات کے مقابلے میں اور آگے بڑھنے کے حالات میں مسلمانوں کو دشمن سے اس طرح خبردار کر کے سخت تاکیدی احکام دیتا ہے ۔

(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 89)

”‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “

اللہ تعالیٰ نے یہاں جو یہ کہا کہ ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ ‘ تو اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خاندانی ‘ قبائلی روابط اور تعلقات باقی تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں ان روابط کی وقعت تھی اور ہوسکتا ہے کہ یہ روابط ابھی تک بعض اقتصادی مفادات کی خاطر بھی ہوں ۔ اسلام کا یہ طریقہ تربیت جاہلیت کے تمام رہے سہے آثار وروابط کو بھی پوری طرح جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا ۔ اور جس طرح قرآن کریم تطہیر افکار کر رہا تھا اسی طرح امت مسلمہ کے لئے بین الاقوامی روابط کے اصول بھی طے کر رہا تھا ۔

قرآن کریم امت کو بتا رہا تھا کہ کوئی امت کبھی بھی صرف خاندانی اور قبائلی روابط پر وجود میں نہیں آسکتی اور خون اور رشتے کے روابط ‘ ایک ہی ملک اور علاقے میں رہائش کے روابط ‘ تجارتی اور دوسرے اقتصادی مفادات کے روابط کی اساس پر کوئی امت وجود میں آسکتی ہے ۔ امت ہمیشہ ایک مخصوص نظریہ حیات اور اس نظریہ حیات کی اساس پر اٹھنے والی سوسائٹی اور اجتماعی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ داراسلام کے باشندوں اور دارالحرب کے باشندوں کے درمیان دوستی اور ولایت کے تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ۔ اس وقت درالحرب مکہ تھا جو مہاجرین کا وطن اصلی تھا اس لئے مکہ کے لوگوں حتی کہ زبانی طور پر اسلام کا اقرار کرنے والوں اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان بھی دوستی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک وہ ہجرت نہ کرتے جو صرف اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں ہو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہو ‘ یعنی صرف ایسے معاشرے کے قیام کے لئے ہو جو اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی گزار رہا ہو اور اس کے سوا کوئی غرض نہ ہو ۔ نہایت ہی پاک ‘ نہایت ہی فیصلہ کن اور نہایت ہی متعین مقصد کے ساتھ ‘ جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو ‘ کوئی خلط ملط نہ ہو ‘ اسلامی نظام حیات کے سوا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ کوئی اور مصلحت ہو ۔

اگر یہ زبانی طور پر کلمہ اسلام پڑھنے والے پر شرط پوری کردیں ‘ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیں ‘ اپنے ملک اور مصلحتوں کو خیر باد کہہ دیں اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں تاکہ یہاں وہ اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کریں ‘ جو اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہے ‘ جس کے اندر اسلامی شریعت جاری ہے تو پھر وہ اسلامی معاشرے کے ممبر بن جائیں گے ۔ وہ امت مسلمہ کے ہم وطن ہوں گے ۔ اگر وہ یہ شرط تسلیم نہ کریں ‘ ہجرت کا انکار کردیں تو پھر انہوں نے زبانی طور پر جو کلمہ پڑھا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر وہ یہ شرط قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (فخذوھم) انہیں پکڑ کر قید کر دو اور جہاں بھی تمہیں ملیں انہیں ۔ (واقتلوھم) قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار ۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ دو احکام جو دیئے ہیں ‘ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ مدینہ کے منافقین نہ تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اسلامی انقلاب نے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی تھی ۔

اسلام کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اسلام کے مخالف عقائد رکھنے والے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی فیاضانہ پالیسی اختیار کرتا ہے ۔ اسلام مخالف اسلام لوگوں کو ہر گز اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیں بلکہ اسلام مخالف اسلام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا اظہار کریں ‘ اسلام کے بارے میں اپنے مخالفانہ نظریات کا بھی اظہار کریں اور خود دارالاسلام میں ایسا کریں ۔ ہاں ان کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے نظریات پھیلائیں یا اسلام کو برا بھلا کہیں ۔ اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ مسلمان اہل کتاب کو برا بھلا نہ کہیں ۔ لہذا یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ اسلام خود دارالاسلام کے اندر موجود اقلیتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسلام کے بارے میں لعن طعن کریں ۔ اگرچہ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے اس قدر توسع اور ڈھیل سے کام لیا ہے کہ وہ مخالف اسلام لوگوں کو دارالاسلام میں اسلام پر لعن طعن کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں ۔ بہرحال اسلام کی یہ بھی بڑی فیاضی ہے کہ وہ انہیں اسلامی نظریہ حیات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اور دارالاسلام میں ان کو جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عمومی نظام (Civil code) کے علاوہ اپنے مخصوص معاملات میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلے بھی کریں۔

اسلام اپنے مخالفین کو کھلے بندوں اپنے نظریات پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے ‘ لیکن اسلام یہ رعایت منافقین کو نہیں دیتا جو زبانی طور پر تو اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اسلام کے مخالف ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتتا جو اللہ کی توحید کے قائل تو ہیں ‘ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کے بعد اللہ کی خاص صفت ‘ صفت حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ‘ مثلا عوام کو حق قانون سازی دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان اور حضرت مسیح کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ان کو حلال و حرام مقرر کرنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ اہل کتاب اس معاملے میں ان کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ۔

نیز اسلام منافقین کے اس گروہ کے ساتھ بھی رواداری نہیں برتتا جو یہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ‘ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بعد وہ دارالکفر اور دارالحرب میں مقیم ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد بھی کرتے ہیں ۔ یہ بات رواداری نہ ہوگی بلکہ یہ بدکرداری ہوگی ۔ اسلامی نظریہ حیات راواداری کا نظریہ ہے لیکن وہ بدکرداری اور عدم حمیت کا نظریہ نہیں ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ تصور حیات اور ایک سنجیدہ نظام حیات ہے اور سنجیدگی اور حقیقت پسندی اور رواداری میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ حقیقت پسندی اور بدکرداری کے درمیان تضاد ضرور ہے ۔ یہ نکتے پہلی تحریک اسلامی کے لئے بھی قابل توجہ اور قابل غور تھے اور آج بھی ان میں تحریک اسلامی کے لئے اہم پیغام ہے ۔

اردو ترجمہ

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آ جائیں، اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waddoo law takfuroona kama kafaroo fatakoonoona sawaan fala tattakhithoo minhum awliyaa hatta yuhajiroo fee sabeeli Allahi fain tawallaw fakhuthoohum waoqtuloohum haythu wajadtumoohum wala tattakhithoo minhum waliyyan wala naseeran

اردو ترجمہ

البتہ و ہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Illa allatheena yasiloona ila qawmin baynakum wabaynahum meethaqun aw jaookum hasirat sudooruhum an yuqatilookum aw yuqatiloo qawmahum walaw shaa Allahu lasallatahum AAalaykum falaqatalookum faini iAAtazalookum falam yuqatilookum waalqaw ilaykumu alssalama fama jaAAala Allahu lakum AAalayhim sabeelan

(آیت) ” نمبر 90۔

ایسے لوگوں کو قید کرنے اور انہیں قتل کرنے کے حکم میں ایک استثنائی صورت بھی ہے ۔ اگر یہ منافقین جو دشمنان اسلام کی معاونت کرتے ہیں اگر کسی ایسی مملکت یا ایسی سرزمین کے اندر رہائش پذیر ہیں جن کا اسلامی تحریک یا اسلامی حکومت کے ساتھ عہد و پیمان ہوچکا ہے ‘ چاہے یہ عہد معاہدہ امن ہو یا معاہدہ تخالف ہو ‘ تو اس صورت میں ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے عہد طے پاچکا ہے ۔

(آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “۔ (البتہ وہ منافق اس سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امن کے مواقع ہوں اور کوئی معاہدہ امن اسلام کے اساسی نظریات کے ساتھ متعارض نہ ہو ‘ اس کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنے کی آزادی اور اسلام کی تبلیغ کی آزادی سلب نہ ہو رہی ہو اور دعوت اسلامی کی راہ میں بذریعہ قوت رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتی ہوں ‘ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو امن نصیب ہو رہا ہو اور وہ فتنوں اور مشکلات سے بچ رہے ہوں اور دعوت اسلامی کو جمود کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسی صورتوں میں اسلام معاہدہ امن کرسکتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جو دشمن بھی کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جائے جس کے ساتھ معاہدہ امن ہے یا معاہدہ دوستی ہے تو ایسی صورت میں ان معاہدات کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوگا ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا اور وہ لوگ ویسے ہی امن میں رہیں گے ۔ ایسے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر امن اور سلامتی اور صلح کی روح نہایت ہی واضح ہے ۔

اسی طرح قیدی بنائے جانے اور قتل کردیئے جانے کے حکم سے وہ منافق لوگ بھی مستثنی ہیں جن کا تعلق ایسے لوگوں ایسے قبائل اور ایسے گرہوں کے ساتھ ہے جو اسلامی مملکت کے بارے میں غیر جانبدار ہیں ۔ وہ نہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ محار بے کے وقت اپنی اقوام کی امداد کرتے ہیں یعنی یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنا بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔ یہ لوگ دونوں فریقوں کے ساتھ بھی نہیں ملتے ۔ نہ ان کے ساتھ اور نہ ان کے ساتھ ۔

(آیت) ” اوجاء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم “۔ (اسی طرح وہ منافق بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے)

اس حکم سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام ہر صورت میں قتل ومقاتلے سے اجتناب چاہتا ہے بشرطیکہ دوسرے لوگ لڑنا نہ چاہیں ‘ دعوت اسلامی کے راستے میں روڑے نہ اٹکائیں اور تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین کے درمیان غیر جانبدار ہوجائیں ۔ ایسے لوگ جو نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے ۔ ایسے لوگوں پر اسلام نے یہ پابندی عائد نہیں کہ کہ وہ اسلامی کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں یا مخالف کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں ۔ اسلام کے لئے یہ بات بھی کافی تھی کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ نہ کریں ۔ (فتح مکہ کے بعد جب سورة توبہ نازل ہوئی تو عملی تجربے نے یہ ثابت کردیا کہ مرکز اسلام جزیرۃ العرب میں اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے دین کا موجود رہنا درست نہیں ہے ۔ اس لئے ان احکام کے اندر معمولی تبدیلی کی گئی تھی) نیز یہ توقع تھی کہ اگر مشکلات دور ہوجائیں تو یہ لوگ اسلامی کیمپ میں آجائیں گے جیسا کہ بعد میں عملا ایسا ہی ہوا ۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ تمہارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو وہ فرض کرلیں کہ اس سے بہتر دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ہو مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ‘ مسلمانوں کے خلاف عملا جنگ شروع کردیں ‘ جو کسی صورت میں بھی مسلمانوں کے لئے بہتر نہیں ہے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جو غیر جانبدار بنا دیا ہے تو یہ تمہارے مفاد میں ہے لہذا وہ جس حال میں ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے ۔

(آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “ اوجآء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم ولو شآء اللہ لسلطھم علیکم فلقتلوکم فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا “۔ (90)

” اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے ۔ لہذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔

اس طرح قرآن مجید کا حکیمانہ منہاج تربیت پرجوش مسلمانوں کو بڑی حکمت سے ایسے منافقین کے بارے میں غیر جانبداری اختیار کرنے پر مائل کردیتا ہے حالانکہ وہ اس موقف کو بسہولت قبول نہ کرسکتے تھے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ اس میں تمہاری بہتری ہے ۔ یہ اللہ کا تم پر فضل ہے کہ کچھ لوگ تمہارے بارے میں غیر جانبدار ہوگئے ہیں۔ اگر وہ غیر جانبدار نہ ہوتے تو مسلمانوں پر عائد ہونے والی جنگی ذمہ داریوں میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ کہ اگر تمہیں کسی جانب سے کوئی خیر آتی ہے تو اس کو مسترد نہ کریں اور اگر کوئی شر تم سے پہلوتہی کر کے گزرتا ہے تو خواہ مخواہ اسے نہ چھیڑیں ۔ ان لوگوں کی غیر جانبداری کا کوئی اثر تمہارے دین پر نہیں پڑا ۔ تمہارے نظریہ حیات کے اندر اس کے ذریعے کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوتی ‘ اور نہ ہی تم کوئی بھاری قیمت دے کر امن حاصل کرتے ہو۔

بیشک اللہ نے مسلمانوں کو بھاری قیمت ادا کرکے امن کے حصول سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ مقاصد اسلام میں سے کوئی مقصد ترک کے کرکے امن خریدنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے ۔ اسلام جو امن چاہتا ہے وہ ایسا امن ہے جس سے دعوت اسلامی کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع نہ ہو ‘ نہ مسلمانوں کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع ہو ‘ (مسلمانوں کے ذاتی اور شخصی حق نہیں) بلکہ مسلمانوں کے وہ حقوق جن کا تعلق ان کے منہاج حیات سے ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسلمان کہلاتے ہیں ۔

اسلام کا حق یہ ہے کہ اس کے راستے سے تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جائے ‘ جو دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ دعوت وتبلیغ کی راہ میں اسلام اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرتا ۔ اسلام میں اس بات کا بھی قائل ہے کہ دنیا میں اسلام کی پشت پر ایسی سیاسی قوت موجود ہو جس سے وہ تمام قوتیں خائف ہوں جو دعوت اسلامی کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں ‘ چاہے وہ اس کے لئے جو صورت بھی اختیار کریں ‘ یا جو اسلام کو قبول کرنے والوں کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچاتی ہیں ۔ اگر ایسی باتیں نہ ہوں تو پھر امن وسلامتی اسلام کی متاع گم گشتہ ہے ۔ لیکن حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

اب ایک دوسرا گروہ سامنے آتا ہے اور اس کے ساتھ اسلام اس قسم کی رواداری کا رویہ اختیار نہیں کرتا جو مکمل طور پر غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے اس لئے کہ یہ اصل منافقین کا گروہ ہے اور نفاق کے ساتھ ساتھ شریر بھی ہے ۔ اور یہ فریق نہ کسی ایسی قوم سے ملا ہوا ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا عہد ہے اور نہ کسی حلیف قبیلے کے ساتھ ملحق ہے اس گروہ کے بارے میں اسلامی مملکت پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اصل منافقین کے ساتھ ہوگا ۔

اردو ترجمہ

ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Satajidoona akhareena yureedoona an yamanookum wayamanoo qawmahum kulla ma ruddoo ila alfitnati orkisoo feeha fain lam yaAAtazilookum wayulqoo ilaykumu alssalama wayakuffoo aydiyahum fakhuthoohum waoqtuloohum haythu thaqiftumoohum waolaikum jaAAalna lakum AAalayhim sultanan mubeenan

(آیت) ” نمبر 91۔

ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔

یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔

اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔

ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟

یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلم کو ناحق کو قتل کرے اس لئے کہ ان کے درمیان نظریہ حیات اور عقیدے کے اتحاد کا زبردست تعلق پایا جاتا ہے ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا قتل خطا کے طور پر ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قتل خطا کے بارے میں قانون سازی کو ضروری سمجھا گیا ۔ رہا قتل عمد تو اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلام مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے ناحق قتل کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ فعل حدود اسلام سے باہر کا فعل ہے ۔

92