سورہ نور: آیت 11 - إن الذين جاءوا بالإفك عصبة... - اردو

آیت 11 کی تفسیر, سورہ نور

إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُم مَّا ٱكْتَسَبَ مِنَ ٱلْإِثْمِ ۚ وَٱلَّذِى تَوَلَّىٰ كِبْرَهُۥ مِنْهُمْ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اردو ترجمہ

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena jaoo bialifki AAusbatun minkum la tahsaboohu sharran lakum bal huwa khayrun lakum likulli imriin minhum ma iktasaba mina alithmi waallathee tawalla kibrahu minhum lahu AAathabun AAatheemun

آیت 11 کی تفسیر

یہ افک کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے تاریخ انسانی کے پاکیزہ ترین لوگوں کو انتہائی درجہ کی تکلیف دہ اور اذیت دہ صورت حال سے دوچار کیا بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو سخت ترین امتحان میں ڈال دیا۔ پورے ایک ماہ تک حضرت نبی ﷺ ‘ آپ کی محبوب ترین اہلیہ حضرت عائشہ ؓ ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ جیسے ایک مومن مخلص کے دلوں کو ہوا میں معلق رکھا۔ یہ پاکیزہ دل ایک مہینے تک درد ورنج میں مبتلا رہے۔

مناسب یہ ہے کہ ہم اس پورے قصے کو خود حضرت عائشہ ؓ یک زبانی سنیں۔ حضرت عروہ ابن زبیر ان سے یوں روایت کرتے ہیں ” رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ ﷺ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ یک بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے۔ غزوہ بنی المصطلق کے موقعہ پر قرعہ میرے نام نکلا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی۔ واپسی پر جب مدینے کے قریب تھے تو ایک نزل پر رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے پڑائو کیا اور ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاری شروع ہوگئی۔ میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے۔ میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی اور اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میں کوچ کے وقت اپنے ہودج میں بیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس وقت غذا کی کمی کے سبب بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہو وہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ وہ بیخبر ی میں خالی ہو وہ اونٹ پر اٹھا کر روانہ ہوگئے۔ میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہاں ہی لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگے جاکر جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے۔ اس حالت میں مجھے نیند آگئی۔ صبح کے وقت صفوان ابن معطل سلمی اس جگہ سے گڑرے جہاں میں سو رہی تھی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے بارہا دیکھ چکے تھے۔ (یہ شخص بدری صحابیوں میں سے تھے اور انہیں صبح دیر تک سونے کی عادت تھی اس لیے یہ بھی لشکر گاہ میں کہیں پڑے سوے رہ گئے اور اٹھ کر مدینے چلے جارہے تھے) مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا اور بےساختہ زبان سے نکلا انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ رسول اللہ کی بیوی یہیں رہ گئیں۔ اس آواز سے میری آنک کھلی۔ میں نے اٹھ کر فوراً اپنے منہ پر چادر ڈال لی۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ لا کر اپنا اونٹ میرے سامنے بٹھا دیا اور ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ میں اونٹ پر سوار ہوگئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہوگئے۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جا لیا کہ جب وہ اپنی جگہ پر جا کر ٹھہراہی تھا اور لشکر والوں کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں پچھیے چھوٹ گئی ہوں۔ اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیئے اور ان سب میں پیش پیش عبد اللہ ابن ابی تھا۔ مگر میں اسے بیخبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بنرہی ہیں۔ مدینہ پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی۔ شہر میں اس بہتان کی خبریں اڑ رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے کانوں تک یہ بات پہنچ چکی تھی۔ مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی وہ توجہ میری طرف نہ تھی جو بیماری کے زمانے میں ہوا کرتی۔ آپ ﷺ گھر میں آتے تو گھر والوں سے یہ پوچھ کر رہ جاتے کہ کیف تیکم ” کیسی ہیں یہ “ خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے۔ اس سے مجھے شبہ ہوتا کہ کوئی بات ہے ضرور۔ آخر آپ سے اجازت لے کر میں ماں کے گھر چلی گئی تاکہ وہ میری تیمارداری اچھی طرح کرسکیں۔

ایک روز رات کے وقت حاجت کے لیے میں مدینے سے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمار گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے۔ اور ہم لوگ جنگل میں جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مسطح ابن اثاثہ کی ماں تھیں جو میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ راستے میں اسے ٹھوکر لگی۔ بےساختہ ان کی زبان سے نکلا غارت ہو مسطح۔ میں نے کہا اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کو ستی ہو اور بیٹا بھی وہ ‘ جس نے بدر میں حصہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا ” بیتی تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا باتیں کرتا ہے۔ پھر انہوں نے سارا واقعہ سنایا کہ افتراء پر واز لوگ میرے متعلق کیا باتیں اڑا رہے ہیں۔ میں گھر گئی اور رات بھر رو کر کاٹی۔ میرے پیچھے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی اور اسامہ ابن زید کو بلایا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اسامہ نے میرے حق میں کلمہ خیر کہا اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ بھلائی کے سوا آپ ﷺ کی بیوی میں کوئی چیز ہم نے نہیں دیکھی۔ یہ سب کچھ کذب اور باطل ہے جو اڑایا جارہا ہے۔ رہے حضرت علی ؓ تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ عورتوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ ﷺ اس کی جگہ دوسری بیوی کرسکتے ہیں اور تحقیق کرنا چاہیں تو خدمت گزار لونڈی کو بلا کر حالات دریافت کرلیں۔ چناچہ خدمتگار کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے کہا اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی جس پر حرف رکھا جاسکے۔ بس اتنا عیب ہے کہ میں آٹا گوند کر کسی کام کو جاتی ہوں اور کہہ جاتی ہوں کہ بی بی ذرا آٹے کا خیال رکھنا مگر وہ سو جاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔ اسی روز رسول اللہ ﷺ نے خطبہ فرمایا ” مسلمانو ! کون ہے جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزام لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کردی ہے۔ بخدا نہ تو میں نے اپنی بیوی میں کوئی برائی دیکھی ہے اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق تہمت لگائی جارہی ہے۔ وہ تو کبھی میری غیر موجودگی میں میرے گھر آیا بھی نہیں۔ اس پر اسید ابن حضیر (بعض روایات میں سعد ابن معاذض نے اٹھ کر کہا ” یارسول اللہ ﷺ اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو بھی آپ حکم دیں ہم تعمیل کے لیے حاضر ہیں “۔ یہ سنتے ہی سعد ابن عبادہرئیس خزرج اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ” جھوٹ کہتے ہو تم ہر گز اسے نہیں مارسکتے۔ تم اس کی گردن مارنے کا نام اس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرج میں سے ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا تو تم کبھی نہ کہتے ” کہ ہم اس کی گردن مار دیں گے “۔ اسید ابن حضیر نے جواب میں کہا ” تم منافق ہو اس لیے منافقوں کی حمایت کرتے ہو “۔ اس پر مسجد نبوی ﷺ میں ہنگامہ برپا ہوگیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ ممبر پر تشریف رکھتے تھے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج مسجد میں ہی لڑ پڑیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کو ٹھنڈا کیا اور پھر ممبر سے اتر آئے۔

اس بہتان کی افواہیں کم و بیش ایک مہینے تک شہر میں اڑتی رہیں۔ نبی ﷺ سخت اذیت میں مبتلا تھے۔ میں روتی رہی۔ میرے والدین انتہائی پریشان اور رنج و غم میں مبتلا تھے۔ آخر کار ایک روز حضور ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھے ۔ اس پوری مدت میں وہ کبھی میرے پاس نہ بیٹھے تھے۔ حضرت ابو کبر اور ام رومان نے محسوس کیا کہ آج کوئی فیصلہ کن بات ہونے والی ہے اس لیے وہ دونوں بھی میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا عائشہ ؓ مجھے تمہارے متعلق یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تم بےگناہ ہو تو امید ہے کہ اللہ تمہاری برات ظاہر کردے گا اور اگر واقعی تم گناہ میں مبتلا ہونی ہو تو اللہ سے توبہ کرو اور معافی مانگو۔ بندہ جب اپنے گناہ کا معترف ہو کر توبہ کرتا ہے تو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ باتیں سن کر میرے آنسوں خشک ہوگئے۔ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو جواب دیں۔ انہوں نے فرمایا بیٹی میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ ہی کچھ کہیں۔ انہوں نے بھی کہا میں حیران ہوں کہ کیا کہوں۔ اس پر میں بولی کہ آپ لوگوں کے کانوں میں ایک بات پڑگئی ہے اور دلوں میں بیٹھ چکی ہے۔ اب اگر میں کہوں کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ لوگ نہ مانیں گے۔ اور اگر خواہ مخواہ ایسی بات کا اعتراف کروں جو میں نے نہیں کی اور اللہ جانتا ہے کہ نہیں کی تو آپ لوگ مان لیں گے۔ میں نے اس وقت حضرت یعقوب کا نام یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آیا۔ آخر میں نے کہا ‘ اس حالت میں میرے لیے اس کے سوا اور کیا چارہ ہے کہ میں وہی بات کہوں جو حضرت یوسف کے والد نے کہی تھی فصبر جمیل یہ کہہ کر میں لیٹ گئی اور دوسری طرف کروٹ لے لی۔ میں اس وقت اپنے دل میں کہہرہی تھی کہ اللہ میری بےگناہی سے واقف ہے وہ ضرور حقیقت کھول دے گا۔ اگرچہ یہ بات تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے حق میں وحی نازل ہوگی جو قیامت تک پڑھی جائے میں اپنی ہستی کو اس سیکم تر سمجھتی تھی کہ اللہ خود میری طرف سے بولے مگر میرا یہ گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ خواب دیکھیں گے کہ جس میں اللہ میری برات ظاہر کردے گا۔ اتنے میں کی ایک حضور ﷺ پر وہ کیفیت طاری ہوگئی جو وحی نازل ہوتے وقت ہوا کرتی تھی۔ حتی کہ سخت جاڑے کے زمانے میں موتی کی طرح آپ ﷺ کے چہرے سے پسینے کے قطرے ٹپکتے تھے۔ ہم سب خاموش ہوگئے۔ میں تو بالکل بےخوف تھی مگر میرے والدین کا حل یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ ڈر رہے تھے کہ دیکھیں اللہ کیا حقیقت کھولتا ہے۔ جب وہ کیفیت دور ہوئی تو حضور بےحد خوش تھے۔ آپ ﷺ نے ہنستے ہوئے جو پہلی بات فرمائی وہ یہ تھی۔ مبارک ہو عائشہ ؓ ۔ اللہ نے تمہاری برائت نازل فرما دی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے دس آیتیں سنائیں۔ میری والدہ نے کہا اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا نہ ان کا شکریہ ادا کروں گی نہ آپ دونوں کا بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے میری براءت نازل فرمائی۔ آپ لوگوں نے تو بہتان کا انکار تک نہ کیا۔

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ وہ اب کبھی مسطح پر کچھ خرچ نہ کریں گے۔ یہ غریب آدمی تھا اور حضرت صدیق ؓ کا رشتہ دار تھا ‘ آپ ان کی کفالت کرتے تھے۔ اس نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگانے میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں۔

(ولا یاتل۔۔۔۔۔۔ غفوررحیم) (24 : 22) ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ‘ مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔

تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا ‘ ہاں میں چاہتا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ اللہ میرے گناہ بخش دے۔ پھر انہوں نے مسطح کا وہ وظیفہ جاری کردیا جو وہ انہیں دیا کرتے تھے اور حضرت ابوبکر ؓ نے کہا میں اس امداد کو کبھی بھی بند نہ کروں گا۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے زینب بن محش سے بھی میرے بارے میں پوچھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” زینب تم کیا جانتی ہو اور تم نے کیا دیکھا ہے ؟ اس نے کہا ‘ یارسول اللہ میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بچاتی ہوں۔ خدا کی قسم ‘ میں نے اس کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانا۔ یہ زینب بن نجش ہی تھی جو ازواج مطہرات میں سے میرے مد مقابل تھی۔ اللہ نے اس کو اس کی خدا خوفی کی وجہ سے بچایا۔ لیکن اس کی بہن بن نجش اس کے لیے لڑ رہی تھی ‘ تو وہ ہلاک ہوئی ان لوگوں کے ساتھ ‘ جو افک کے معاملے میں ہلاک ہوئے۔

آپ نے دیکھا کہ یہ دن رسول اللہ ﷺ نے کس طرح گزارے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے خاندان نے یہ دن کس طرح گزارے۔ اور حضرت صفوان ابن معطل بیچارے پر کیا گزری ہوگی اور تمام مسلمانوں پر یہ دن ایسے گزرے کہ ان کی سانس گھٹ رہی تھی اور ہر شخص شدید مصیبت میں تھا۔ یہ حالات تھے جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس پریشان کن صورت حالات کے سامنے انسان نڈھال ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ایک المناک واقعہ تھا۔ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کے لیے یہ صورت حالات کاٹ کھانے والی ہے جبکہ وہ نہایت ہی جواں سال اور کم عمر ہے۔ ان کی عمر کا غالباً سو لہواں سال تھا۔ یہ نہایت ہی حساس عمر ہوتی ہے اور زوجین کے درمیان نہایت ہی گہری محبت کا دور ہوتا ہے۔

یہ کم عمر لڑکی بےگناہ ہے۔ اس کا ضمیر صاف ہے۔ اس کے خیالات پاکیزہ ہیں لیکن اس پر یہ الزام نازک ترین اور حساس ترین معاملے میں لگایا جارہا ہے۔ اس کی شرافت دائو پر لگی ہوئی ہے۔ یہ صدیق کی بیٹی ہے اور وہ نہایت ہی پاکیزہ اور ارفع مقام پر زندگی بسر کررہی ہے۔ اس کی امانت کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ وہ حضرت محمد ابن عبداللہ سردار بنی ہاشم کی بیوی ہے اور اس کی وفاداری کو مشکوک بنایا جارہا ہے یہ ایک عظیم پیغمبر کی محبوب ترین بیوی ہے لیکن اس بیچاری کے اس رشتہ محبت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے بلکہ اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ اس نے پرورش ہی ایمان کے مرکز میں پائی ہے۔ جب سے اس کی آنکھ کھلی ہے اس نے ایمان ہی ایمان دیکھا ہے اور پھر وہ نبی آخرالزمان ﷺ کی زوجہ ہے۔

اس پر الزام لگایا گیا ہے۔ کس قدر عظیم الزام جس سے وہ بری الذمہ اور بیخبر ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے اور کیا شہادت لائے کہ وہ پاک دامن ہے۔ بس صرف اللہ سے امید ہے۔ وہ امید کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حقیقت کو خواب میں دیکھ لیں گے کہ وہ اس الزام سے بالکل بری الذمہ ہے۔ لیکن خواب ہے کہ نہیں آتا اور وحی ہے کہ بند ہوگئی ہے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت تھی۔ پورا ایک ماہ گزر گیا ہے اور یہ بیچاری اس عذاب عظیم میں غوطے کھارہی ہے۔

اس کی حالت اس وقت دگر گوں ہوجاتی ہے جب وہ ام مسطح سے پورے حالات سن لیتی ہے۔ وہ بیماری میں مبتلا ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے ‘ وہ نہایت ہی کرب سے ماں کو کہتی ہے سبحان اللہ ‘ کیا لوگ یہ باتیں کررہے ہیں ؟ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ وہ نہایت ہی کرب سے پوچھتی ہیں کہ میرے باپ کو بھی اس کا علم ہوگیا ہے تو ماں کہتی ہیں ہاں ؟ تو وہ پوچھتی ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا علم ہوگیا ہے ؟ تو ماں کہتی ہیں ’ ہاں۔ اور پھر اس پر وہ وقت آتا ہے کہ اللہ کا نبی جس پر وہ ایمان لائی ہے اور جو آپ کا خاوند ہے ‘ جس کے ساتھ اسے شدید محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود اس سے یوں مخاطب ہوتے ہیں۔ اما بعد ‘ مجھ تک تمہارے بارے میں یہ یہ باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم پاک دامن ہو تو خود اللہ جلد تمہاری پاکی بیان کر دے گا۔ اور اگر تم سے کوئی گناہ ہوگیا ہے تو اللہ سے توبہ کرو اور مغفرت طلب کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کرلیتا ہے اور پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے “۔ اس کلام سے وہ اچھی طرح جان لیتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ بھی اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ ان کو یقین نہیں ہے کہ آپ بےگناہ ہیں۔ آپ پر جو الزام لگ چکا ہے اس کے بارے میں آپ فیصلہ بھی نہیں فرماتے۔ رب کریم کی طرف سے بھی وحی بند ہے۔ اللہ کی طرف سے بھی برائت نہیں آرہی ہے جس کا اسے خوب یقین ہے کہ وہ بری الذمہ ہے۔ لیکن بیچاری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ پیش کرے۔ رات اور دن ایسے ہی گزر رہے ہیں اور اس عظیم قلب میں بھی وہ ملزمہ ہے حالانکہ آپ ﷺ کو ان سے جگری محبت ہے۔

حضرت ابوبکر ؓ آپ ﷺ کے وفاردار ساتھی ‘ نہایت ہی حساس اور پاک نفس ‘ ایسی حالت میں ہیں کہ یہ غم ہر وقت انہیں کاٹ کھا رہا ہے ان کی عزت پر حملہ ہوچکا ہے۔ ان کی محبوب بیٹی اور پھر رسول اللہ ﷺ کی بیوی۔ یاد رہے کہ حضرت محمد ﷺ آپ کے وہ ساتھی ہیں جن پر انہیں پورا یقین و اطمینان ہے۔ دوست کے ساتھ ساتھ وہ اس کے نبی ہیں ‘ جن پر وہ ایمان لائے ہیں۔ وہ آپ کی ہر بات کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ وہ تو آپ کے بارے میں کسی خارجی دلیل کے طلبگار ہی نہیں ہیں۔ ان کی باتوں ہی سے ان کے دل کا درد ظاہر ہے لیکن وہ صبر کرتے ہیں۔ درد پر قابو پاتے ہیں اور اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں خدا کی قسم دور جاہلیت میں بھی ہم پر یہ الزام نہیں لگا۔ کیا اسلام میں ہم اس پر راضی ہوں گے۔ یہ وہ بات ہے جس میں سخت تلخی چھپی ہوئی ہے یہاں تک کہ ان کی بیٹی جو بیمار بھی ہے سخت عذاب میں گرفتار ہے۔ وہ درخواست کرتی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دیں تو صدیق کہتے میں خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔

ام رومان زوجہ صدیق ؓ وہ اپنی زخم خوردہ بیٹی کو ہر قسم کی تسلی دیتی ہے۔ اس کی بیمار بیٹی اس قدر روتی ہے شاید اس کا کلیجہ نکل آئے۔ وہ کہتی ہے بیٹی ذرا اپنے اوپر رحم کرو۔ خدا کی قسم جب بھی کوئی خوبصورت عورت کسی مرد کو محبوب ہوئی ہے اور اس کی سوکنیں ہوتی ہیں تو انہوں نے اس پر طرح طرح کے الزام لگائے ہیں۔ لیکن ان کی تسلیاں اس وقت کافور ہوجاتی ہیں عائشہ ؓ والدہ سے کہتی ہیں کہ تم میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو جواب دو ۔ تو وہ بھی یہی کہتی ہیں جو اس کے خاوند نے کہا تھا کہ خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا بات کرسکتی ہوں۔

اور وہ مسلم ‘ پاکباز اور مجاہد فی سبیل اللہ بھی عجیب پوزیشن میں ہے۔ اس پر اپنے نبی کی بیوی کے ساتھ برائی کا الزام ہے ؟ اسلام کے ہوتے ہوئے یہ عظیم الزام۔ اس کی دیانت و امانت ‘ اس کا شرف اور اس کی حمیت دائو پر لگی ہے۔ بلکہ اس کا اسلام خطرے میں ہے۔ جب وہ اس الزام کے بارے میں سنتا ہے تو بےساختہ کہتا ہے کہ خدا کی قسم میں نے تو کسی عورت کے کاندھے کو بھی ننگا نہیں کیا۔ وہ تو اس گناہ کے تصور سے بھی پاک ہے۔ پھر وہ سنتا ہے کہ حسان ابن ثابت اس کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر اڑادے مگر وہ رک جاتا ہے کیونکہ وہ مسلمان اور ایک مومن ہے اور مومن پر تلوار اٹھانا حرام ہے۔ اس پر جو گزر رہی ہے وہ اس کی برداشت سے زیادہ ہے وہ تو بےقابو ہوا چاہتا ہے۔

پھر رسول اللہ ﷺ جو اللہ کے رسول ہیں۔ آپ بنی ہاشم کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے گھرانے پر حملہ ہوا ہے۔ گھرانے میں سے بھی عائشہ ؓ پر ؟ آپ کے گھر پر اور آپ کی محبوب ترین بیوی پر۔ کوئی غیور عرب اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک ماہ گزر گیا ہے۔ مدینہ کے لوگ چہ میگوئیاں کررہے ہیں۔ لیکن آپ برداشت کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ ایک ماہ گزر جائے۔ محمد ﷺ بھی تو انسان ہیں۔ ان کو بھی ایک انسان کی طرح درد اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔ ان کا دل بھی دکھا ہوا ہے۔ آپ بھی وحشت محسوس کرتے ہیں کیونکہ اللہ کا نور جو ہر معاملے میں آپ کے دل کو ہمیشہ روشن کردیتا ہے اور راستہ صاف کردیتا ہے اس میں دیر ہو رہی ہے۔ اگرچہ آپ کی بیوی کی براءت کے قرائن موجود تھے۔ مگر انسان کا دل بہر حال شک کا محل ہوتا ہے۔ صرف قرائن سے مکمل اطمینان نصیب نہیں ہوتا جبکہ مدینہ کی پوری بستی اس آگ میں جل رہی ہے۔ آپ کے دل میں بھی اپنی محبوب بیوی کے بارے میں شک گزرتا ہے۔ آپ اس شک کو دل سے دور نہیں کرسکتے۔ بہر حال آپ بھی انسان اور بشر ہیں۔ انسانوں کی طرح آپ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آپ خاوند ہیں لیکن بیوی کے پاس نہیں جاسکتے اور جب کسی انسان کے دل میں شک کا بیج بو دیا جاتا ہے اور وہ مستقلاً دل میں بیٹھ جاتا ہے تو یہ شک پھر دلیل قطعی اور فیصلہ کن واقعہ ہی سے نکل سکتا ہے۔

آپ ﷺ کے دل پر یہ بوجھ طاری ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ اپنے محبوب اسامہ ابن زید جو آپ ﷺ کو بہت محبوب اور آپ ﷺ کے دل کے قریب تھے۔ آپ ﷺ اپنے داماد اور چچازاد علی ؓ ابن ابی طالب کو بھی بلاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی آپ ﷺ مشورہ کرتے ہیں۔ جہاں تک حضرت علی ؓ کا تعلق ہے آپ تو حضور ﷺ کے عصبات میں سے ہیں۔ اس وجہ سے بھی ان کے جذبات بہت تیز ہیں۔ پھر حضور اکرم ﷺ جس کرب اور رنج اور اذیت کو جھیل رہے ہیں وہ بھی حضرت علی ؓ پر بار گراں ہے۔ کیونکہ آپ چچازاد ہیں۔ آپ مشورہ دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے لیکن حضور ﷺ کے دلی اطمینان کے لیے یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں لڑکی سے پوچھیں ‘ خدمتگار لڑکی ہے۔

جہاں تک اسامہ کا تعلق ہے وہ جاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کی بیوی کی کس قدر محبت ہے اور آپ ایک عرصہ سے اپنی اہلیہ سے جدا ہیں تو وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ ام المومنین پاک و صاف ہیں اور جو لوگ الزام لگاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔

رسول خدا ﷺ اس انسانی پریشانی اور اس انسانی قلق میں حضرت اسامہ اور لڑکی کی باتوں اور شہادت سے حوصلہ پاتے ہیں۔ اور آپ لوگوں کو مسجد میں لا کر ان کے سامنے یہ معاملہ رکھ دیتے ہیں۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا :” کون ہے جو ان لوگوں سے پوچھے جنہوں نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ان کی بیوی پر الزام لگایا ہے اور مسلمین میں سے ایک فاضل اور شریف شخص پر الزام لگایا ہے۔ ایساشخص جس کے بارے میں کوئی بری بات نہیں جانتا “۔ اس موقعہ پر اوس اور خزرج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے حالانکہ وہ مسجد رسول ﷺ میں تھے اور رسول اللہ ﷺ بذات خود موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عجیب و غریب وقت میں مسلمانوں پر کیسے خوفناک سائے منڈلا رہے تھے اور مدینہ کی فضا کیسی تھی۔ خود قیادت کا تقدس دائو پر لگا ہوا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے دل میں بھی چبھن تھی اور جو روشنی (وحی) ایسے حالات میں راستہ دکھاتی رہتی تھی وہ بھی بند تھی۔ ایسے حالات میں حضور ﷺ عائشہ ؓ کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور آپ سے بیان لیتے ہیں۔ مفصل بیان۔

جب یہ مصائب اس طرح اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اور مسلمانوں پر رحم فرماتے ہیں۔ قرآن مجید نازل ہوتا ہے اور عائشہ صدیقہ کی برأت کا اعلان ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کے گھرانے کی صفائی میں کلام الہیٰ آجاتا ہے اور ان منافقین کا پول کھل جاتا ہے جنہوں نے اس فتنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر اسلامی سوسائٹی کو ایسے حالات میں مستقلاً ہدایات دے دی دگئیں اور قانون سازی اور اخلاقی ضابطہ بندی کردی گئی ۔

قرآن کریم کی ان آیات کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں تو جانتی تھی کہ میں بےگناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ میری بےگناہی کی شہادت دے دے گا۔ لیکن میرا خیال یہ نہ تھا کہ میرے اور میرے بےگناہی کے بارے میں قرآن کریم نازل ہوگا اور پھر یہ قرآن قیامت تک پڑھا جائے گا۔ میرے خیال میں ‘ میں اس قابل نہ تھی کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ کلام کرے گا اور وہ کلام پڑھاجائے گا۔ ہاں یہ بات میں جانتی تھی اور امید کرتی تھی کہ شاید رسول اللہ کوئی خواب دیکھ لیں اور اس میں میری برأت ہوجائے “۔

اس تفصیلی بیان سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ معاملہ صرف عائشہ ؓ کی ذات کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ حضرت نبی ﷺ کے ساتھ بیھ متعلق تھا۔ اس واقعہ نے امت مسلمہ کی قیادت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا بلکہ اس کی زد رسول اللہ ﷺ اور ذات باری کے تعلق پر پڑ رہی تھی۔ یہ صرف حضرت عائشہ ؓ کی ذات پر الزام نہ تھا بلکہ یہ اسلامی نظریہ حیات ‘ اسلام کے نبی اور اسلام کے بانی پر الزام تھا اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں خود اپنا فیصلہ نازل کیا تاکہ اس سازش کے تار و بود بکھیر دیئے جائیں۔ اور اسلام اور رسول اللہ ﷺ اسلام کے خلاف جو سازش منافقین نے تیار کی تھی اسے ختم کردیا جائے اور اس کے پیچھے جو راز اور حکمت تھی ‘ اللہ اسے ظاہر کر دے کیونکہ اس کا علم صرف اللہ کو تھا۔

(ان الذین۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم) (24 : 11) ” جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا تو عذاب عظیم ہے “۔

یہ چند لوگ نہ تھے بلکہ ایک ٹولہ تھا۔ یہ لوگ آپ میں ملے ہوئے تھے اور ان سب کا ایک ہی ہدف تھا۔ صرف عبدالل ابن ابی ابن السلول واحد شخص نہ تھا جس نے یہ جھوٹ پھیلایا۔ ہاں یہ شخص اس کے بڑے حصہ کا ذمہ دار تھا۔ یہ گروہ کون تھا۔ یہ یہودیوں اور منافقین کا گروہ تھا۔ یہ لوگ میدان جنگ میں اسلام کے مقابلے پر شکست کھا گئے تھے اور اب پس پردہ رہ کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ افک کا یہ واقعہ ان کی سازشوں میں سے ایک سازش تھی اس معاملہ میں بعض مومنین بھی شامل ہوگئے تھے۔ مثلاحمسنہ بنت جحش ‘ حضرت حسان ابن ثابت ‘ سطح ابن اثاثہ۔ لیکن اصل سازش اس گروہ نے تیار کی تھی۔ اور اس گروہ کا سرغنہ عبدالل ہابن ابی ابن السلول تھا۔ یہ اس قدر مکار تھا کہ وہ اس مہم میں خود ظاہر ہو کر نہ آیا تھا۔ اور اس گروہ کا سرغنہ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول تھا۔ یہ اس قدر مکار تھا کہ وہ اس مہم میں خود ظاہر ہو کر نہ آیا تھا۔ بظاہر اس نے کوئی بات نہ کی تھی کہ اسے پکڑا جاسکے اور اس پر حد جاری کی جاسکے۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ کانا پوسی کرتا تھا جو اس کے معتمد علیہ تھے اور اس کے خلاف شہادت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ یہ مہم اس قدر مہارت سے چلا رہا تھا کہ پورا مدینہ ایک ماہ تک آتش فشاں اور زلزلہ خیز فضا میں جلتا رہا۔ لوگ اس دنیا کے پاکیزہ ترین گھر کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ یہاں آیات میں آغاز کلام ہی میں اس اصل موضوع کے بارے میں کہا جاتا ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ اور لوگوں کو معلوم ہو کہ اسکی پشت پر ایک گروہ ہے جو اسلام کے خلاف اس قدر گہری سازش تیار کررہا ہے اور یہ ایک عظیم حملہ تھا اسلام اور اہل ایمان اور ذات نبی کے خلاف۔

اس کے بعد جلدی سے مطمئن کردیا جاتا ہے۔

لاتحسبوہ شرالکم بل ھو خیر لکم (24 : 11) ” اس واقعہ کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو ‘ بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہی ہے “۔ یہ تمہارے لیے خیر ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے عنوان سے یہ دراصل اسلام کے دشمان ہیں جنہوں نے افک کی سازش کو تیار کیا۔ اس واقعہ سے اس بات کی ضرورت کو بھی تسلیم کرلیا گیا کہ حد قذف اسلامی نقطہ نظر سے کس قدر ضروری ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر زبانوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں پاک دامن عورتوں پر کس قدر زبانیں اٹھیں گی اور اسلامی جماعت اور نئی اسلامی سوسائٹی کے لیے کس قدر خطرات پدا ہوجائیں گے۔ یہ الزامات رسول کے گھر تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور اعلیٰ گھرانوں کو بھی تباہ کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر شرم وحیا اور احتیاط اور پاکیزگی اور احترام آدمیت ختم ہو سکتے ہیں۔

نیز اس سے اسلامی سوسائٹی کو یہ سبق بھی سکھایا گیا کہ اس نے اس قسم کے جذباتی اشتعال انگیز امور سے کس طرح نمٹنا ہے اور جذباتی معاملات میں بھی وقار اور سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔

رہے وہ آلام اور اذیتیں جو رسول اللہ ﷺ ‘ ان کے گھرانے ‘ اور تمام مومنین نے برداشت کیے تو وہ ایسے تجربات کی قیمت ہوتے ہیں جو ان آزمائشوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ آزمائش میں اس قسم کی قربانی دینا پڑتی ہے اور فرائض کی ادائیگی میں ایسے مراحل بھی آتے ہیں۔

وہ لوگ جو اس افک کے معاملے میں سرگرم رہے ان میں سے ہر ایک نے اپے جرم کے مطابق اس میں سے حصہ پایا۔

لکل ۔۔۔۔۔۔۔ منالاثم (24 : 11) ” جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے انتہائی گناہ سمیٹا “۔ اسے اپنے جرم کے مطابق قیامت میں سزا ملے گی۔ انہوں نے جو کچھ کمایا وہ ان کے لیے اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس پر ان کو دنیا کی زندگی میں بھی سزا ملے گی اور آخرت میں بھی سزا ملے گی۔

والذی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم (24 : 11) ” اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سرلیا اس کے لیے عذاب عظیم ہے “۔ وہ شخص جس نے اس گناہ کے بڑے حصے کو اپنے سرلیا ‘ جسنے اس حملے کی قیادت کی ‘ اس مہم کو چلاتا رہا اور اس نے اس مہم کو گرمایا وہ عبداللہ بن ابی ابن السلول تھا۔ یہ رئیس المنافقین کے لقب سے مشہور ‘ تھا اور ہے۔ اس نے اس سازش کے جھنڈے اٹھارکھے تھے۔ یہ شخص خوب جانتا تھا کہ وہ کس جگہ میدان جنگ گرمائے۔ اگر اللہ تمام امور پر محیط نہ ہوتا۔ اللہ نے اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا نہ اور اپنے رسول کے لیے بچائو کا انتظام نہ کرتا تو یہ شخص کیا کچھ نہ بنا دیتا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب صفوان ابن معطل ام المومنین کے کجا دے کو لے کر کیمپ میں پہنچے تو ابن السلول اپن کچھ لوگوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ تو اس نے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو لوگوں نے کہا یہ عائشہ ؓ ہے تو اس نے کہا خدا کی قسم یہ اس سے نہ بچ سکی ہوگی اور نہ وہ اس سے بچ سکا ہوگا۔ اور پھر کہا دیکھو تمہارے نبی کی بیوی ‘ وہ رات ایک مرد کے ساتھ رہی۔ صبح تک اور وہ ہے کہ اب اسے لے کر آرہا ہے۔

یہ باتیں وہ رات اور دن اپنے اعتمادی لوگوں کے درمیان پھیلاتا رہا اور گہری منافقانہ چالیس چلتا رہا۔ اس کی چالیں اس قدر کا میاب رہیں کہ مدینہ میں یہ ناقابل تصدیق افتراء جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ حالانکہ قرائن سب کے سب اس کے خلاف تھے۔ یہاں تک غیر محتاط دیندار مسلمانوں نے بھی باتیں شروع کردیں اور پورے ایک ماہ تک مدینہ میں یہی بات موضوع سخن رہی حالانکہ یہ اس قدر سطحی قسم کا افتراء تھا کہ اس کو سنتے ہی رد کیا جاسکتا تھا۔

انسان آج بھی اس بات پر یقین نہیں کرسکتا اور حیران رہ جاتا ہے کہ اس قسم کا گھٹیا الزام کس طرح مدینہ کے اندر پھیل گیا اور پھر جماعت مسلمہ کے اندر بھی بعض غیر محتاط لوگوں نے اس میں کلام کرنا شروع کردیا۔ یوں ان بلند ترین پاکیزہ ہستیوں کو اس افراء سے اس قدر اذیت جھیلنا پڑی۔ خصوصاً سرور کونین کو۔

یہ ایک عظیم اعصابی جنگ تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے بڑی بےجگری سے یہ جنگ لڑی۔ جماعت مسلمہ نے یہ جنگ لڑی اور پور اسلام نے یہ جنگ لڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام اور کفر کے معرکوں میں سے یہ سخت معرکہ تھا اور حضور اکرم ﷺ اور مسلمان اس معرکے سے سرخرو ہو کر نکلے۔ حضور اکرم ﷺ نے وقار کا دامن تھامے رکھا۔ صبر جمیل کا دامن تھامے رکھا اور یہ ثابت کردیا کہ آپ ﷺ عظیم انسان ہیں۔ اس پورے عرصے میں کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آپ نے کسی بھی مرحلے میں بےصبری کا مظاہرہ کیا ہو۔

جس طرح کا درد اور دکھ اور چبھن آپ ﷺ محسوس کررہے تھے وہ پوری زندگی میں آپ نے کبھی نہ جھیلے تھے۔ لیکن آپ نے سب کچھ چھپائے رکھا۔ اسلام بھی کبھی اس قسم کے فتنے سے دو چار نہ ہوا تھا۔ اس طرح اس اعصابی جنگ اور پرو پیگنڈے کی جنگ کی وجہ سے امت مسلمہ کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔

حالانکہ اگر کوئی اپنے دل میں ذرا بھی غور کرتا تو وہ صحیح نتیجے تک پہنچ سکتا تھا۔ اگر کوئی دل سے فتویٰ پوچھتا تو دل اس کو فتویٰ دے دیتا ۔ اگر فطری انداز کوئی اختیار کرتا تو فطرت کا استدلال اس کی سمجھ میں آجاتا۔ قرآن کریم کی تعلیم تو یہی تھی کہ تم لوگ حالات کا تجزیہ کرو ‘ غور فکر کرو اور قاضی عقل کے سامنے بھی اپنے معاملات کو پیش کرو۔

لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْط بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط“ یہ واقعہ گویا اللہ تعالیٰ کے بہت سے احکام اور قوانین کے نزول کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے امت کو شریعت کے اہم امور کی تعلیم دی جائے گی۔ اس واقعہ کا خلاصہ یوں ہے :6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سفر میں حضرت عائشہ رض آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں۔ آپ رض ایک الگ ہودج کجاوہ میں سفر کرتی تھیں۔ واپسی کے سفر کے دوران ایک جگہ جب قافلے کا پڑاؤ تھا آپ رض صبح منہ اندھیرے قضائے حاجت کے لیے گئیں۔ واپسی آپ رض کا ہار کہیں گرگیا اور اس کی تلاش میں آپ رض کو اتنی دیر ہوگئی کہ قافلے کے کوچ کا وقت ہوگیا۔ جن لوگوں کو آپ رض کا ہودج اونٹ پر باندھنے اور اتارنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی انہوں نے ہودج اٹھا کر اونٹ پر باندھ دیا۔ آپ رض چونکہ بہت دبلی پتلی تھیں اور آپ رض سمیت ہودج کا وزن بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا ‘ اس لیے اٹھاتے ہوئے وہ لوگ یہ اندازہ نہ کرسکے کہ ہودج خالی ہے اور آپ رض اس میں موجود نہیں ہیں۔ بہر حال جب آپ رض پڑاؤ کی جگہ پر واپس آئیں تو قافلہ کوچ کرچکا تھا۔ واپس آکر آپ رض نے سوچا ہوگا کہ اگر پیدل قافلے کے پیچھے جانے کی کوشش کروں گی تو نہ جانے رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کس طرف چلی جاؤں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسی جگہ پر بیٹھی رہوں ‘ تا وقتیکہ لوگوں کو میرے بارے میں پتا چلے کہ میں ہودج میں نہیں ہوں اور وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچ جائیں۔ چناچہ آپ رض وہیں بیٹھ گئیں۔ بیٹھے بیٹھے آپ رض کو نیند آگئی اور آپ رض وہیں زمین پر سو گئیں۔اس زمانے میں عام طور پر سفر کے دوران ایک شخص قافلے کے پیچھے پیچھے سفر کرتا تھا تاکہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے اگر کوئی ساتھی پیچھے رہ گیا ہو تو اس کی مدد کرے یا قافلے کی کوئی گری پڑی چیز اٹھا لے۔ اس سفر کے دوران اس ذمہ داری پر حضرت صفوان بن معطل رض مامور تھے۔ وہ اجالے کے وقت قافلے کے پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے تو دور سے انہیں ایک گٹھڑی سی پڑی دکھائی دی۔ قریب آئے تو ام المؤمنین رض کو زمین پر پڑے پایا۔ نیند کے دوران آپ رض کا چہرہ کھل گیا تھا اور حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے چونکہ انہوں نے آپ رض کو دیکھا تھا اس لیے پہچان گئے۔ حجاب کا حکم سورة الاحزاب میں ہے جو ایک سال پہلے 5 ہجری میں نازل ہوچکی تھی۔ اس سے پہلے خواتین حجاب نہیں کرتی تھیں۔ حضرت صفوان رض نے آپ رض کو دیکھ کر اونچی آواز میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ پڑھا۔ یہ سن کر آپ رض کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے آپ رض کے سامنے اپنا اونٹ بٹھا دیا۔ آپ رض خاموشی سے سوا رہو گئیں اور وہ نکیل پکڑے آگے آگے چلتے رہے۔ جب وہ آپ رض کو لے کر قافلے میں پہنچے تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ُ خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا دیا کہ خدا کی قسم ‘ تمہارے نبی کی بیوی بچ کر نہیں آئی ! معاذ اللہ ! باقی منافقین نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور یوں یہ بےسروپا بات بڑھتے بڑھتے ایک طوفان کا روپ دھار گئی۔ منافقین کی اس سازش سے بعض بہت ہی مخلص مسلمان بھی متأثر ہوگئے ‘ جن میں حضرتّ حسان بن ثابت رض دربار نبوی ﷺ کے شاعر بھی تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رض کی براءت میں یہ آیات نازل فرما کر آپ رض کی پاکدامنی اور پاکبازی پر گواہی دی تو تب جا کر یہ معاملہ ختم ہوا۔ یہ واقعہ تاریخ اسلامی میں ”واقعہ افک“ کے نام سے مشہور ہے۔لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ج“ جس کسی کا جتنا حصہ اس طوفان کے اٹھانے میں ہے اس کو اسی قدر اس کا بدلہ ملے گا۔وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ “ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے ‘ جو اس بہتان کے باندھنے اور اس کی تشہیر کرنے میں پیش پیش تھا۔

ام المومنین عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی کی شہادت اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ ﷺ غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک رٹی تھی۔ اس لعنی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بےایمان نے ایک ایک کان میں بنابناکر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ ﷺ اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چناچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم لئے آنحضرت ﷺ کے غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آگئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضاء حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جاکر میں نے قضاء حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آکر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا۔ اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی۔ الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ ﷺ جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے۔ مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی۔ اتفاق سے حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی ؓ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا۔ غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنالیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بیخبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے ؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت حضور ﷺ کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس آنحضرت ﷺ تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے طبیعت کیسی ہے ! اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی۔ اب سنئے اس وقت تک گھروں میں پاخانے نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضاء حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں پاخانے بنانے سے عام طور پر نفرت تھی۔ حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح میرے والد صاحب ؓ کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو حضرت ام مسطح کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ اس وقت ام مسطح ؓ نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم ؟ میں نے کہا کیا بات ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہوگئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کردیا، جوں توں کرکے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جاکر اور اچھی طرح معلوم تو کرلوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے ؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے ؟ اتنے میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں۔ آپ ﷺ نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں ؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ مجھے الگ کردیں یا کیا ؟ حضرت اسامہ ؓ نے تو صاف کہا کہ یارسول اللہ ﷺ ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔ ہاں حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے آپ پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ ﷺ نے اسی وقت گھر کی خادمہ حضرت بریرہ ؓ کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ عائشہ کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ۔ بریرہ نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سو جاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔ چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لئے اسی دن رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا کون ہے ؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا۔ یہ سنتے ہی حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ ﷺ جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر حضرت سعد بن معاذ ؓ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر ؓ کھڑے ہوگئے یہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آگیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑپڑیں۔ حضور ﷺ نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ حضور ﷺ بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔ میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کردیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول کریم ﷺ تشیرف لائے اور سلام کرکے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ ﷺ میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ حضور ﷺ کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہوسکے۔ آپ نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر اما بعد فرما کر فرمایا کہ اے عائشہ ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کرکے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ آپ اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔ میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو آپ ہی جواب دیجئے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں حضور ﷺ کو کیا جواب دوں ؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو جواب دیجئے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں ؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بےگناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل حضرت ابو یوسف ؑ کا یہ قول ہے آیت (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیرلی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برات اپنے رسول ﷺ کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو میری برات دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول ﷺ اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ حضور ﷺ پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ حضور ﷺ کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا عائشہ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات نازل فرما دی۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی حضور ﷺ کے سامنے کھڑی ہوجاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برات اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت (ان الذین جاء و بالافک) سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔ ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں حضرت مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت (ولا یاتل اولوالفضل الخ) ، نازل ہوئی یعنی تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے ؟ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر ؓ نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔ چناچہ اسی وقت حضرت مسطح ؓ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش ؓ سے بھی جو آپ کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ حضور ﷺ میں تو سوائے بہتری کے عائشہ ؓ کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا اس میں ہے کہ سعد بن معاذ ؓ کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح کو کو سا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کو سا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کو سا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ حضور ﷺ نے ایک غلام کردیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا ! آج کیسے آنا ہوا ؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔ اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ ﷺ تک بھی یہ بات پہنچی ہے ؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہوگیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب ؓ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چناچہ میں واپس چلی گئی۔ یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ ﷺ نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بیخبر ی سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتادے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ؓ۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بےشرمی کی بات ہے ؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں ؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد وثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہرچند حضرت یعقوب ؑ کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا اور حدیث میں ہے کہ میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش کو۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ کے والد اور حضور ﷺ کو ہوچکا ہے تو آپ بیہوش ہو کر گرپڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ ﷺ آئے پوچھا یہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہوگیا ہوگا ؟ جب آپ کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ نے انہیں سن کر فرمایا کہ یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ کے فضل سے۔ تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا تم رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کہتی ہو ؟ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہاں۔ اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر ؓ اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لئے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ حضرت عائشہ کی برات قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب حضرت ابن عباس ؓ اماں صاحبہ ؓ کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ام المومنین آپ خوش ہوجائیے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ رہیں اور حضور ﷺ محبت سے پیش آتے رہے اور حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی برات آسمان سے نازل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت زینب اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو حضرت زینب ؓ نے فرمایا میرا نکاح آسمان سے اترا۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل ؓ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔ حضرت زینب نے پوچھا یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے ؟ آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل اس پر وہ بول اٹھیں کہ تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔ پھر فرمایا جس جس نے پاک دامن صدیقہ پر تہمت لگائی ہے ہر ایک کو بڑا عذاب ہوگا۔ اور جس نے اس کی ابتدا اٹھائی ہے، جو اسے ادھر ادھر پھیلاتا رہا ہے اس کیلئے سخت تر عذاب ہیں۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے۔ ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے حسان ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لئے ہم نے اسے یہاں بیان کردیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ حضرت حسان ؓ بڑے بزرگ صحابہ میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔ یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی ﷺ کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ " تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل ؑ تمہارے ساتھ ہیں۔ " حضرت مسروق ؓ کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھا کہ حضرت حسان بن ثابت ؓ آئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو ، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ انہیں کیوں آنے دیتی ہیں ؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے تو ام المومنین نے فرمایا اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا یہ نابینا ہوگئے تھے۔ تو فرمایا شاید یہی عذاب عظیم ہو۔ پھر فرمایا تمہیں نہیں خبر ؟ یہی تو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسان ؓ نے اس وقت حضرت عائشہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ نے فرمایا تم تو ایسے نہ تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں مجھے حضرت حسان ؓ کے شعروں سے زیادہ اچھے اشعار نظر نہیں آتے اور میں جب کبھی ان شعروں کو پڑھتی ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ حسان جنتی ہیں۔ وہ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کو خطاب کرکے اپنے شعروں میں فرماتے ہیں تو نے محمد ﷺ کی ہجو کی ہے، جس کا میں جواب دیتا ہوں اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے پاؤں گا۔ میرے باپ دادا اور میری عزت آبرو سب محمد ﷺ پر قربان ہے، میں ان سب کو فنا کرکے بھی تمہاری بدزبانیوں کے مقابلے سے ہٹ نہیں سکتا۔ تجھ جیسا شخص جو میرے نبی ﷺ کے کف پا کی ہمسری بھی نہیں کرسکتا حضور ﷺ کی ہجو کرے ؟ یاد رکھو کہ تم جیسے بد حضور ﷺ جیسے نیک پر فدا ہیں۔ جب تم نے حضور ﷺ کی ہجو کی ہے تو اب میری زبان سے جو تیز دھار اور بےعیب تلوار سے بھی تیز ہے۔ بچ کر تم کہاں جاؤ گے ؟ ام المومنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے ؟ فرمایا ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں ؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے حضرت صفوان رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔

آیت 11 - سورہ نور: (إن الذين جاءوا بالإفك عصبة منكم ۚ لا تحسبوه شرا لكم ۖ بل هو خير لكم ۚ لكل امرئ منهم...) - اردو