(لولآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبین) (24 : 12) ” جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے ؟ “ ہاں یہ درست ہے کہ اہل ایمان سنتے ہی یہ کہہ دیتے۔ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن سے کام لیتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اور یہ فرض کرلیتے کہ ایک مسلمان اس قدر گندے کام میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کے نبی کی پاک بیوی اور ان کے بھائی مسلم۔ یہ تو خود ان میں سے تھے۔ نہ حضرت نبی ﷺ کی حریم اور نہ اس صحابی کے ساتھ یہ بات لائق تھی جو انہوں نے سنی۔ ان کو حسن ظن کا معاملہ رکھنا چاہیے تھا جیسا کہ ابو ایوب خالد ابن زید انصاری اور ان کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ امام ابن اسحاق نے روایت کی ہے۔ ابو ایوب کو اس کی بیوی ام ایوب نے کہا تم سنتے نہیں ہو کہ لوگ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں بھی سنتا ہوں لیکن یہ جھوٹ ہے۔ ام ایوب کیا تم ایسا کر تیں ہو ؟ تو اس نے کہا نہیں خدا کی قسم میں تو ہر گز ایسا نہ کرتی۔ تو پھر عائشہ تو تم سے بہتر ہیں۔ امام محمود ابن عمر زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں نقل کیا ہے۔ کہ ابو ایوب نے ام ایوب سے یہ کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگ کیا کہتے ہیں تو اس نے کہا اگر تم صفوان کی جگہ ہوتے تو کیا تم رسول اللہ ﷺ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔ تو اس نے کہا ہر گز نہیں۔ اگر میں عائشہ کی جگہ ہوتی تو میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرتی۔ عائشہ ؓ مجھ سے اچھی ہیں اور صفوان تم سے اچھے ہیں۔
یہ دونوں روایات یہ بتاتی ہیں کہ بعض مسلمانوں نے اس مسئلے پر اپنے ہاں غور کیا تھا۔ اپنے دل سے استفثاء کیا تھا اور ان کے عقول نے ان کو یہ باور کرادیا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ اور یہ بات غلط ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی کی طرف اس قسم کی گراوٹ کو منسوب کیا جائے اور وہ بھی محض شب ہے کی بناء پر محض بدظنی کی بناء پر۔
یہ تو پہلی راہ ہے جس کی نشاندہی قرآن مجید کرتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ذرا گہرے غور اور قیاس کے بعد کوئی رائے قائم کرو۔ اپنے نفس سے پوچھو ‘ اپنے وجدان سے پوچھو ‘ اور دوسری جگہ قرآن یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں تمہارے پاس دلیل ہونا چاہیے۔ بغیر دلیل وبرہان کے ایسے نازک معاملات میں فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔
اخلاق و آداب کی تعلیم ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المومنین کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو حضرت عائشہ کی نسبت کہا جا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور یہ یقینا جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کرسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نعوذ باللہ ناممکن۔ آپ نے فرمایا پس حضرت عائشہ تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔ پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حضرت حسان ؓ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں کا ذکر ہوا۔ حضرت ابو ایوب ؓ اور ان کی بیوی صاحبہ کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ حصرت ابی بن کعب ؓ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہئے۔ اس لئے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المومنین ؓ کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہوجاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔ پھر فرمایا کہ ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے ؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں۔ فاسق و فاجر ہیں۔