(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ”
جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو فراہم کردے تاکہ جو لوگ معتدل اور فطری راستے سے انحراف کرتے ہیں وہ اس کے لیے مجبور نہ ہوں بلکہ ان کے سامنے جنسی تسکین کا صحیح راستہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے لیے شادی کی راہ ہموار کی جائے جو شادی شدہ نہ ہوں۔
(وانکحوا۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم) (24 : 32) ” تم میں سے جو لوگ مجروہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ‘ ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ‘ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ اور ایامیٰ وہ لوگ ہیں جن کا جوڑ نہ ہو یعنی عورت کا خاوند نہ ہو اور مرد کی بیوی نہ ہوائو وہ مجروہوں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو آزاد ہیں۔ اس کے بعد غلاموں کا ذکر خصوصیت سے کردیا گیا ہے۔
(والصلحین۔۔۔۔۔۔ وامآ ئکم) (24 : 32) ” اور تمہارے لونڈی اور غلاموں میں سے جو صالح ہوں “۔ لیکن یہ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی۔
ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ (24 : 32) ” یہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا “۔ یہ حکم اسلامی سوسائٹی کے لیے ہے کہ وہ شادی کا انتظام کردے اور جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ مستحب امر ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے دور میں ایسے مجرد لوگ تھے جنہوں نے شادی نہ کی تھی۔ اگر یہ حکم فرض ہوتا تو حضور اکرم ﷺ ضرور ان کی شادی کا انتظام فرماتے۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ حکم واجبی ہے ‘ اس معنی میں نہیں کہ کسی مجرد کو شادی پر مجبور کیا جائے بلکہ اس معنی میں کہ اسلامی سوسائٹی کے لیے واجب ہے کہ جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس معاملے میں اعانت کی جائے تاکہ وہ شادی کے قلبعے میں محفوظ ہو سکیں۔ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا ہونے سے یہ عملی بچائو ہے اور صرف اس صورت میں معاشرے کو بعدعملیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر معاشرے کو بد عملی سے بچانا فرض ہے تو اس فرض کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا بھی فرض ہوگا۔
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام چونکہ ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہے اس لیے وہ ایک ایسا اقتصادی نظام زندگی وضع کرتا ہے کہ اس میں ہر شخص کے لیے معاشی جدوجہد کرنے کے مساوی مواقع موجود ہوں تاکہ کسی شخص کو اپنی ضرورت کے لیے بیت المال کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بعض استثنائی حالات میں بیت المال کو بھی امداد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں بیناید اصول تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کسب سے کھائے۔ سوسائٹی پر جو فریضہ عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے کام کے مواقع فراہم کرے۔ رہی یہ بات کہ لوگوں کو بیت المال سے امدادی جائے تو یہ محض استثنائی صورتوں میں ہوتا ہے۔
اگر لوگ اسلامی نظام کے مطابق سعی کرتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور پھر بھی ایسے حالات آجائیں کہ اسلامی معاشرے میں محض معاشی مجبوری کی وجہ سے مجرد نوجوان ‘ مرد اور عورتیں پائی جاتی ہوں تو پھر اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو مالی امداد دے۔ یہی حکم غلام مردوں اور لونڈیوں کا بھی ہے کہ ان کے مالکان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی شادی کا انتظام کریں اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں۔
اسلامی سوسائٹی کا یہ بھی فرض ہے کہ دیکھے کہ اگر لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں ‘ مرد ہوں یا عورتیں ہوں لیکن ان کی راہ میں غربت رکاوٹ بنی ہوئی ہے تو سوسائٹی ان رکاوٹوں کو دور کرے کیونکہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ ان کو غنی کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ مفت کا طریقہ اختیار کریں۔
(ان یکونوا۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 32) ” اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں کہ اللہ پر ان کا حق ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے۔ مجاہد فی سبیل اللہ کی اللہ مدد کرتا ہے۔ وہ غلام جو اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے مالی ادائیگی کا معاہدہ کرتا ہے اور وہ شادی کرنے والا جو اپنے آپ کو بری راہوں سے بچانے والا ہو “۔ (ترمذی و نسائی)
اور جب تک مجرد لوگوں کے حالات درست نہیں ہوتے اور اسلامی سوسائٹی ان کے لیے کوئی انتظام نہیں کرتی ‘ اللہ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عفت اور پاکیزگی کا دامن تھامے رکھیں۔
(ولیستعفف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 33) ” اور جو لوگ نکاح کا موقعہ نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے “۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص پر تنگی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تو وسیع علم رکھتا ہے۔
واللہ واسع علیم ” اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ یوں اسلام اس مسئلے کا نہایت ہی عملی حل تلاش کرتا ہے۔ ہر شخص جو شادی کرسکتا ہے اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ شادی کرے۔ اگر چہ وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو کیونکہ مالی مسئلہ حل کرنے والا اللہ ہے “۔
اس وقت اسلامی نظام میں مجبوراً غلامی کا ادارہ موجود تھا اور غلاموں کے اندر چونکہ اخلاقی قدریں کمزور ہوتی ہیں اس لیے اسلامی معاشرے کے اندر موجود غلام معاشرے کے اندر اعلیٰ اخلاقی معیار کے قیام میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ غلامی کا ادارہ اسلام نے ابتداء میں اس لیے قائم رکھا ہوا تھا کہ اہل کفر کے ہاں غلام موجود تھے اور جو مسلمان ان کے ہاتھ آجاتے تھے وہ بھی غلام بنا لیے جاتے تھے ۔ موجودہ پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے جنسی مسئلہ کو حل کرنے کی سعی کی یعنی یہ کہ غلاموں کی شادیاں کی جائیں۔ خود غلامی کو اپنے طور پر ختم کرنے کے لیے مکاتبت کا طریقہ نکالا یوں کہ اگر کوئی غلام مالی معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے تو مالک پر اسے قبول کرنا لازم ہے۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرا) (24 : 33) ” اور تمہارے مملوکوں میں سے ہر مکاتبت کی درخواست کریں ‘ ان سے مکاتبت کرلو ‘ اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے “۔ اس کے بارے میں فقہاء کی آزاء مختلف ہیں کہ آیا یہ واجب ہے یا نہیں۔ یعنی اگر غلام پیشکش کرے تو مکاتبت کرنا لازم ہے یا مالک کے اختیار میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واجب ہے کیونکہ وجوب کا قول ہی اسلام کی مجموعی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسلام انسان کو ایک مکرم مخلوق سمجھتا ہے اور غلام کا وجود شرافت انسانی کے خلاف ہے۔ معاہدہ کرنے کے بعد غلام جو کمائے گا وہ مالک کا ہوگا تاکہ معاوضہ معاہدہ کی رقم کی ادائیگی ہو سکے اور اسی طرح زکوۃ کی مد سے بھی ایسے غلام کی امداد ضروری ہوجاتی ہے تاکہ جلد از جلد یہ غلام آزادی حاصل کرسکے۔
(واتو۔۔۔۔۔ اتکم) (24 : 33) ” اور اس کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے “۔ اس شرط پر کہ مالک یہ سمجھے کہ اس میں بھلائی ہے۔ خیر سب سے پہلے اسلام ہے۔ اس کے بعد خیر یہ ہے کہ غلام کمان ی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ آزادی کے بعد وہ لوگوں سے بھیگ مانگتا پھرے۔ بعض اوقات وہ اخلاق سے گرے ہوئے ذرائع معیشت بھی اختیار کرسکتا ہے جن سے وہ صرف اس قدر کما سکتا ہو جس سے اس کی زندگی قائم رہ سکے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل اور ہم آہنگ نظام ہے اس لیے وہ حقیقی صورت حال کو بھی پیش نظر رکھتا ہے اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ یہ شعور ہوجائے کہ ایک غلام آزاد ہوگیا۔ محض عنوان اور نام اسلام میں اہمیت نہیں رکھتا۔ اسلام حقیقت ۔۔۔۔۔۔ کو دیکھتا ہے کہ آیا فی الواقع یہ غلام آزادی کے بعد معاشرے کے اندر کوئی تعمیری کردار ادا کرسکے گا یا نہیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ شخص کچھ کما سکے ۔ لوگوں پر بوجھ نہ بن جائے اور نہ گندے وسائل رزق اختیار کرے۔ وہ ایسی چیزیں فروخت کرنا شروع کردے جو آزادی سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ (مثلاً عصمت فروشی) جبکہ اسے آزاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس سے معاشرہ پاک ہو نہ یہ کہ اس کے ذریعہ معاشرہ گندہ ہو اور اس کا یہ فعل معاشرے کے لیے زیادہ سخت مصیبت ہو۔ (دور جدید میں بین الاقوامی معاہدات کی وجہ سے چونکہ غلامی ختم ہوگئی ہے اس لیے اب عملاً اسلام میں بھی غلامی نہیں رہے گی) ۔
اسلامی معاشرے میں غلامی سے بھی خطرناک بیماری اس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ غلاموں کو عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جس کی کوئی لونڈی ہوتی وہ اسے یہ پیشہ کرنے دیتا اور اس پر ٹیکس عائد کردیتا اور یہ پیشہ آج تک دنیا میں ذرائع ہے۔ اسلام نے چونکہ اسلامی سوسائٹی کو ہر قسم کے زنا سے پاک کرنے کا حکم دیا ھتا اس لیے ‘ اس قسم کے زنا کا ذکر قرآن نے خصوصیت کے ساتھ کیا۔
(ولا تکرھوا۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم) (24 : 33) ” اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے “۔ اس آیت کے ذریعے ان لوگوں کو منع کردیا گیا جو اپنی لونڈیوں کو اس پیشہ پر مجبور کرتے تھے اور ان کو تنبیہ کردی گئی کہ وہ اس قسم کے خبیث ذریعوں سے دنیا کی دولت جمع نہ کریں۔ جن لونڈیوں کو اس طرح مجبور کردیا گیا ہو ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور تھیں۔ سعدی کہتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی ابن السلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ منافقین کا رئیس تھا۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام ” معاذہ “ تھا۔ اس کا قاعدہ یہ تھا کہ اس کا کوئی مہمان آتا تو یہ اس لونڈی کو اس کے پاس بھیج دیتا ‘ جس میں اس کے دو مطلب ہوتے۔ ایک یہ کہ وہ شخص کوئی انعام دے اور دوسرا یہ کہ اس طرح وہ مہمان کا اکرام کرتا تھا۔ یہ لونڈی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اس بات کی شکایت کی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس لونڈی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس پر عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنی قوم کو پکارا کہ کون ہے جو ہمیں محمد ﷺ سے چھڑائے۔ اب اس نے ہماری مملوکات پر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ اقدام کہ لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال نہ کیا جائے اسلامی نظام کے ان اقدامات میں سے ایک ہے ‘ جن کے ذریعے اسلامی عاشرے کو بدکاری سے پاک کیا گیا تھا اور جنسی تسکین کے تمام غیر فطری اور گندے راستوں کو بند کردیا گیا تھا اس لیے کہ بدکاری کا پیشہ اگر موجود ہو تو کئی لوگ اس کی سوہلت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوگا تو لوگ پھر شادی کر کے پاک زندگی گزارنا چاہیں گے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس پیشے کی موجودگی شرفاء کے گھروں میں امن وامان کی ضمانت ہے۔ کیونکہ اگر نکاح مشکل ہوجائے تو پھر انسان اس گندے راہ ہی سے اپنی فطری ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اگر یہ راستہ جائز نہ رکھا جائے تو پھر بھیڑیئے شریف لوگوں کی عزت سے کھیلنے لگیں گے۔
جو لوگ اس لائن پر سوچتے ہیں وہ دراصل سبب اور مسبب کے تعلق کو الٹ رہے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ لوگوں کے جنسی میلانات کو پاک رکھا جائے اور انہیں اس طرح منظم کیا جائے کہ وہ سلسلہ حیات کے تسلسل کا سبب بنیں۔ یہ فریضہ ہر سوسائٹی اکہو کہ وہ اپنے اندر ایسا معاشی نظام جاری کرے جس کے ذریعہ سے ہر شخص اس قابل ہو کہ وہ شادی کے بندھن میں باندھا جاسکے۔ اگر پھر بھی کسی کے لیے نکاح میں مشکلات ہوں تو ایسے واقعات کا خصوصی علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی اس گندے پیشے پر مجبور نہ ہوگا اور صورت حال یہ نہ ہوگی کہ ہر جگہ گندگی پائی جائے ‘ گلی گندگی کا ایک ڈھیر ہو اور اس پر سے جو کوئی گزرے وہاں گندگی ڈال دے اور سوسائٹی اسے دیکھ رہی ہو۔
کسی ملک کا اقتصادی نظام ہی ایسی گندگیوں کو ختم کرسکتا ہے اس طرح کہ ایسی گندگی کسی جگہ جمع نہ وہ۔ یہ صورت نہ ہو کہ محض اقتصادی وجوہات سے اس گندگی کے لیے جواز فراہم ہو۔ انسانوں کے لیے غلاظت کے ڈھیر فراہم ہوں۔
یہ ہے وہ پالیسی جو اسلام معاشرے کی تطہیر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ زیمن آسمان میں بدل جاتی ہے اور تمام انسانوں کی نظر بلند مقاصد کے لیے بلند افق پر ہوتی ے۔ وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں اور اس سے ان کے آفاق روشن ہوتے ہیں۔
آیت 32 وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ ”یہ بہت اہم حکم ہے۔ خصوصی طور پر ہمارے اس معاشرے کے لیے اس میں بہت بڑی راہنمائی ہے جہاں ہندوانہ رسم و رواج کے اثرات کے باعث بیوہ کا نکاح کرنا معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ خوشی سے کوئی شخص بھی نکاح نہیں کرنا چاہتا۔وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ط ”تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو سمجھ دار ہوں اور ان کے کردار کے بارے میں بھی تمہیں اعتماد ہو ان کے آپس میں نکاح کردیا کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے نکاح ان کے آقاؤں کی اجازت سے ہوں گے اور جب کسی کنیز کا نکاح ہوجائے گا تو پھر اس کے آقا کو اس کے ساتھ تمتعّ کی اجازت نہیں ہوگی۔اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط ”چنانچہ یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان میں مہر وغیرہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں تو نکاح کیونکر کریں !وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ”وہ بہت کشادگی والا ہے اور اپنے بندوں کے احوال واقعی سے بخوبی واقف بھی ہے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ کوئی انسان اپنی تنگ دستی کو اپنے نکاح کے راستے کی رکاوٹ نہ سمجھے۔ اسے امید رکھنی چاہیے کہ اس کی بیوی اپنی قسمت اور اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آئے گی اور یہ کہ نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اس کے لیے رزق کا کوئی نیا دروازہ کھول دے گا۔
نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی۔ ایامی جمع ہے ایم کی۔ جوہری کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بےبیوی کا مرد اور بےخاوند کی عورت کو " ایم " کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل وکرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں صدیق اکبر ؓ کا قول ہے تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں امیری کو نکاح میں طلب کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو۔ (ترمذی وغیر) اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ نے اس کا نکاح کردیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے۔ یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل وکرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لا پتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، فالحمد للہ۔ پھر حکم دیا کہ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے جوان لوگو ! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کرلیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کرلے یہی اس کے لئے خصی ہونا ہے۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورة نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت (وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ 25) 4۔ النسآء :25) پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈال اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں۔ غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دے دے گا اور آزاد ہوجائے گا۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کردو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کرلے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں، حضرت انس ؓ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ حضرت انس ؓ نے انکار کردیا، دربار فاروقی میں مقدمہ گیا، آپ نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ (بخاری) عطاء ؒ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی ؒ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ؒ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر ؒ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے اس کے بعد فرمایا ہے کہ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو۔ یعنی جو رقم ٹھیر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کردو۔ چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہوجائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ حضرت عمر ؓ کے غلام ابو امیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لیکر آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیرالمؤمنین آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ ابن عمر ؓ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آجائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کردیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کا قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زنا کاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آکر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کردیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا۔ پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لئے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا۔ پس یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کردیا اور حضرت صدیق اکبر ؓ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ حضرت صدیق ؓ نے دربار محمدی میں یہ بات پہنچائی۔ آپ نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد ﷺ ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آکر حضور ﷺ سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لئے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرمادیا۔ ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔ پھر فرماتا ہے جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا۔ اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرآت میں رحیم کے بعد آیت (واثمہن علی من اکرھھن) ہے۔ یعنی اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرمالیا ہے۔ ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا ؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لئے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے، قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں۔ تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بےپرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔