(واللہ خلق۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر) (45) ” “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نہایت ہی سادے الفاظ میں بیان کررہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر زندہ مخلوق کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حیات کے بنیادی عناصر ایک ہی ہیں اور یہ کہ زندگی کے قیام کا بنیادی عنصر پانی ہے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی طرف جارہی ہے کہ زندگی کی اصل تخلیق پانی میں ہوئی۔ یعنی سمندر میں۔ یعنی ابتدائی حالت میں زندگی پانی میں تھی۔ اس کے بعد زندگی کے اندر رنگارنگی پیدا ہوئی۔ یہ تو ہے سائنس دانوں کی سوچ۔
ہماری سوچ مختلف ہے۔ ہم قرآنی حقائق کو سائنس کی خراوپر نہیں چڑھاتے۔ کیونکہ سائنس کے اصول اور معیار بدل جاتے ہیں جبکہ قرآن ناقابل تغیر اور آخری حقائق بتاتا ہے۔ ہم بس یہی کہتے ہیں کہ حیات کا اصل پانی ہے۔ اس لیے کہ قرآن یہ کہتا ہے۔ اگر چہ حیات کی شکلیں مختلف نظر آتی ہیں لیکن اس کا اصلی مادہ پانی ہی ہے۔ پانی ہی سے حیوان زمین پر چلنے لگا ہے۔
یخلق اللہ مایشآ ئ (24 : 45) ” اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے “۔ مختلف ہیئت اور مختلف شکل کے جانور پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہے کہ وہ کیا پیدا کرتا ہے اور کس شکل میں پیدا کرتا ہے۔
ان اللہ علی کل شیء قدیر (24 : 45) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اگر ہم تمام زندہ چیزوں پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ حیات کی اصل تو ایک ہے لیکن اس ایک ہی مادے سے اللہ نے کیا کیا چیزیں ‘ کس کس شکل پر بنائی ہیں۔ مختلف حجم والی مختلف رنگوں والی ‘ مختلف شکل و صورت والی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک خالق اور مدبر ہے جو یہ رنگارنگی پیدا کررہا ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس گہرے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز محض اتفاق سے بلا ارادہ اس طرح پیدا نہیں ہوگئی ہے بلکہ ایک تدبیر اور ارادے سے ایسا ہوا ہے۔ اگر تدبیر اور ارادہ خالق کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ کیا اتفاق ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ پھر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہر چیز کے اندر خود بخود ایک تدبیر اور تقدیر پیدا ہوگئی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق بخشی اور ہر چیز کو ہدایت ‘ وجدان اور شعور بخشا ہے کہ اس کا فرض منصبی کیا ہے۔
آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ”آئندہ آیات میں منافقین کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس سے لے کر سورة المؤمنون تک چودہ سورتیں مسلسل مکیات تھیں۔ مکہ میں منافقین تو تھے نہیں لہٰذا ان تمام مکی سورتوں میں نہ تو نفاق کا ذکر آیا اور نہ ہی منافقین کا تذکرہ ہوا۔ ان مکی سورتوں میں گفتگو کا رخ زیادہ تر مشرکین مکہ کی طرف ہی رہا ہے۔ کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی آیا ہے ‘ لیکن انہیں براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان سورتوں میں حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو بھی مخاطب کیا جاتا رہا ہے۔ سورة النور کا نزول مدنی دور کے عین وسط یعنی 6 ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت مدینہ کے اندر اچھی خاصی تعداد میں منافقین موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔
ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کردی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دو پاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے۔