(والقواعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمیع علیم ) (60)
یہ عورتیں جو جوانی گزار بیٹھی ہیں ‘ یہ اگر اپنے خارجی کپڑے اتار دیں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں ان پر بھی لازمی ہے کہ وہ اپنی عورات کو ظاہر نہ کریں اور نہ اپنی زینت کو ظاہر کریں۔ تاہم ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ڈھکی چھپی رہیں اور اپنے کشادہ کپڑے اوڑھے رہیں۔ اس کو زیادہ عفت مآبی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی عفت اور پاکیزگی کے لیے زیادہ قابل ترجیح امر ہے۔ کیونکہ تبرج اور اظہار زینت اور جنسی فتنے کے درمیان گہرا تعلق ہے اور حجاب اور پردے اور عفت و پاکیزگی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ ہے اسلامی نظریہ پاکیزگی اور عفت۔ خلاصہ یہ کہ اسلام ان امور کو پردے میں رکھتا ہے جو دیکھنے والے کے لیے شہوت انگیز ہوں۔
واللہ سمیع علیم (24 : 60) ” اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے “۔ وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اسے وہ باتیں بھی معلوم ہیں جو زبان سے ادا ہوتی ہیں اور وہ بھی معلوم جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ اسلامی احکام کا دار و مدار نیت اور ضمیر کے احساس پر ہوتا ہے۔
آیت 60 وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا ”جن عورتوں کی نکاح کرنے کی عمر نہ رہی ہو اور وہ معمر ہوچکی ہوں۔فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ ”یعنی ایسی عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بڑی چادر ہی اوڑھ کر گھر سے باہر نکلیں۔ اسی طرح گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ان پر جوان عورتوں کی طرح ہر وقت دوپٹے اوڑھے رکھنے کی پابندی نہیں ہے۔غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍم بِزِیْنَۃٍط ”اپنی چادریں اتار کر رکھ دینے سے ان کی نیت دوسروں پر اپنی زینت ظاہر کرنے کی نہ ہو اور نہ وہ بظاہر ایسا کریں۔وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ”ان کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے انہیں جو رعایت دی جا رہی ہے اگر وہ اس رعایت سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنے کپڑوں کے بارے میں حتی الوسع احتیاط ہی کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے ‘ کیونکہ شیطان تو ہر وقت انسان کی تاک میں رہتا ہے۔ کیا خبر کس وقت وہ کوئی فتنہ کھڑا کر دے۔