اب قریبی رشتہ داوں اور دوستوں کے احکام
(لیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعقلون ) (61) ” روایات میں آتا ہے کہ لوگ ان مذکورہ گھروں سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ اجازت نہ لیا کرتے تھے۔ اپنے ساتھ وہ فقراء اندھوں ‘ لنگڑوں اور مریضوں کو بھی کھانا کھلاتے تھے۔ اب لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مذکورہ بالا گھروں کے مالکوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ خیال مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
(ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) ” اور آپس میں اپنے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو “ اہل ایمان اس قدر حساس تھے کہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ کہیں ان سے قرآن کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو اجازت دے دی کہ ان گھروں سے وہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ اس طرح اندھے ‘ لنگڑے اور مریض فقراء کو بھی مالکان سے کھانے کی حد تک اجازت لینے سے مستثنیٰ کردیا گیا اور قریبی رشتہ داروں کو اجازت دے دی گئی کہ وہ اکیلے یا ان غرباء کے ساتھ اپنے رشتہ دار کے ہاں کھانا کھالیں۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ اہل خانہ بالعموم ایسے لوگوں کو کھانا کھتاے ہیں اور لوگوں کا عام رویہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کے گھروں سے کھانا کھاتے اور کھلاتے ہیں لیکن اس میں اسلامی معاشرے کے عمومی قواعد کا لحاظ رکھا جائے گا۔ یعنی
لاضرر و لاضرار ” نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نقصان اٹھاتا ہے “۔ اور لایحل ما امرء مسلم الا بطیب نفس ” حلال نہیں کسی مسلمان کا مال مگر اس کے دل کی خوشی کے ساتھ “۔ یہ آیت چونکہ ایک قانونی آیت ہے۔ اس لیے ہم اس کے طرز ادا پر قدرے بحث کریں گے۔ فقروں کی ترتیب اور تشکیل دینی ہے کہ مفہوم شیشہ کی طرف صاف صاف ذہن میں آجاتا ہے۔ نیز رشتہ داریوں کی ترتیب کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ آغاز میں بیٹوں اور خاوند اور بیوی کے گھروں کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ان سے مضمون کا آغاز کیا گیا اور ان کو ” بیوتکم “” تمہارے گھروں “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ بیٹوں کے گھر اپنے گھر ہوتے ہیں اور بیوی کے لیے خاوند کا گھر اور خاوند کے لیے بیو کا گھر اپنا گھر ہوتا ہے۔ اس کے بعد آباء و اجداد کے گھر کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماں اور نانی کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بھائیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بہنوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد چچائوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد پھوپھیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماموں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد خلائوں کے گھروں کا ذکر ہے اور اس کے عبد اس شخص کے حق کا ذکر ہے جو اموال پر خازن اور نگران ہے۔ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ بقدر ضرورت مال زیر نگرانی سے کھائے۔ اس کے ساتھ دوستوں کے گھر کا بھی ذکر ہے کہ ایک دوست ‘ دوست کے گھر سے کھانا کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ دوست کے لیے اذیت اور ضرر کا باعث نہ بنے کیونکہ بسا اوقات دوست ‘ دوست کے گھر بغیر اجازت کے کھا پی سکتے ہیں۔
اب ان گھروں کے بیان کے بعد جن میں کھانا جائز ہے ‘ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کھانا کس حال میں کھایا جائے۔
(لیس۔۔۔۔۔۔۔ اواشتاتا) (24 : 61) ” اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ “۔ عربوں میں سے بعض لوگوں کا ایام جاہلیت میں رواج تھا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی کسی ساتھی کے بغیر کھانا نہ کھاتا تھا۔ اگر کوئی مہمان یا ساتھی نہ ملتا تو وہ کھانا ہی نہ کھاتے تھے۔ اس رسم کو اللہ نے ختم کردیا کیونکہ بعض اوقات اس سے مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ معاملے کو آسان کردیا کہ کوئی اکیلے کھاتا ہے یا دوسروں کے ساتھ کھاتا ہے دونوں صورتیں مناسب ہیں۔
گھروں اور حالت طعام کے بیان کے بعد اب یہاں ان گھروں میں داخل ہونے کا طریقہ بتایا جاتا ہے جن میں کھانا کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
(فاذا۔۔۔۔۔۔۔ طیبۃ) (24 : 61) ” البتہ جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو ‘ دعائے خیر اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ‘ بڑی بابرکت اور پاکیزہ “۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف تعبیر ہے اس قوی رابطے کی جو مذکورو بالا رشتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ یعنی اپنے نفسوں پر سلام کرو ‘ کیونکہ جو شخص اپنے رشتہ داروں یا دوستوں پر سلام کرتا ہے وہ دراصل اپنے اوپر سلامتی بھیجتا ہے اور جو سلام وہ کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ سلام کے اندر اللہ کی طرف سے ایک روحانی پھونک ہے اور دونوں فریقوں کے دریمان دین کا مضبوط رشتہ ہے ‘ دینی رشتہ جو سلام کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔ یہ نہایت ہی اٹوٹ رشتہ ہے۔
(کذلک۔۔۔۔۔۔ تعقلون) (24 : 61) ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے “۔ تمہیں یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے طے کردہ نظام زندگی میں کس قدر حکمت پیش نظر رکھی گئی ہے اور کس قدر موزوں اور مقدمی نظام ہے۔
آیت 61 لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ ”یہاں پر اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی خاندان ‘ گھر یا برادری میں کوئی معذور شخص ہو جو معذوری کے سبب اپنی آزاد معاش کا اہل نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے شریعت کی ان پابندیوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ چناچہ ایسے لوگوں کے بارے میں یہاں واضح طور پر بتادیا گیا کہ اگر وہ تمہارے گھروں میں رہیں تو اس میں مضائقہ نہیں۔اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ط ”جیسے کوئی کارخانہ ہو اور اس کے مالک کے پاس اس کی چابیاں ہوں ‘ وہ جب چاہے وہاں جائے اور بیٹھ کر کھائے پئے۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا ط ”بعض لوگوں نے ان الفاظ سے خواہ مخواہ یہ مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو اکٹھے کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ دراصل یہ مجلسی احکام ہیں اور خصوصی طور پر اس حکم میں ایسی صورت حال مراد ہے جس میں کچھ لوگ کھانے کی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جبکہ بعض دوسرے لوگ ابھی نہیں پہنچتے اور پہلے آنے والوں کو اس سے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایسی صورت میں اجازت دی گئی ہے کہ جیسے سہولت ہو ویسے کھا پی لیا جائے ‘ سب کا اکٹھے کھانا ہی ضروری نہیں ہے۔ الگ الگ گروہوں میں بھی کھانا کھایا جاسکتا ہے اور الگ الگ افراد بھی کھا سکتے ہیں۔ اس میں خواہ مخواہ تکلف یا تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مجلسی احکام سے ایسا مفہوم نکالنے کی کوشش کرنا سراسر زیادتی ہے کہ یہاں ستر و حجاب کے احکام بھی نعوذ باللہ معطل کردیے گئے ہیں اور کھانے پینے کی مخلوط پارٹیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ معاذ اللہ !فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلآی اَنْفُسِکُمْ ”یعنی جس گھر میں تم بطور مہمان جا رہے ہو اس میں موجود لوگ تمہارے اپنے ہی لوگ ہیں ‘ وہ تمہارے عزیز اور رشتہ دار ہیں۔ چناچہ تم اپنے ان لوگوں کو ضرور ”السلام علیکم“ کہا کرو۔ خود اپنے گھر میں بھی داخل ہو تو ”السلام علیکم“ کہا کرو۔تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ط ””السلام علیکم“ ایک ایسی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جو ایسے مواقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو خصوصی طور پر سکھائی ہے۔
جہاد میں شمولیت کی شرائط اس آیت میں جس حرج کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کی بابت حضرت عطاء وغیرہ تو فرماتے ہیں مراد اس سے اندھے لولے لنگڑے کا جہاد میں نہ آنا ہے۔ جیسے کہ سورة فتح میں ہے تو یہ لوگ اگر جہاد میں شامل نہ ہوں تو ان پر بوجہ ان کے معقول شرعی عذر کے کوئی حرج نہیں۔ سورة براۃ میں ہے آیت (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 91 ۙ) 9۔ التوبہ :91) بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق کے اور رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ ہوں کوئی حرج نہیں، بھلے لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ بھلے لوگوں پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ غفور ورحیم ہے۔ ان پر بھی اسی طرح کوئی حرج نہیں جو سواری نہیں پاتے اور تیرے پاس آتے ہیں تو تیرے پاس سے بھی انہیں سواری نہیں مل سکتی حضرت سعید ؒ وغیرہ فرماتے ہیں لوگ اندھوں، لولوں، لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ کھانا کھانے میں حرج جانتے تھے کہ ایسا نہ ہو وہ کھا نہ سکیں اور ہم زیادہ کھالیں یا اچھا اچھا کھالیں تو اس آیت میں انہیں اجازت ملی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کراہت کر کے بھی ان کے ساتھ کھانے کو نہیں بیٹھتے تھے، یہ جاہلانہ عادتیں شریعت نے اٹھا دیں۔ مجاہد ؒ سے مروی ہے کہ لوگ ایسے لوگوں کو اپنے باپ بھائی بہن وغیرہ قریب رشتہ داروں کے ہاں پہنچا آتے تھے کہ وہ وہاں کھالیں یہ لوگ اس عار سے کرتے کہ ہمیں اوروں کے گھر لے جاتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔ سدی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ انسان جب اپنے بہن بھائی وغیرہ کے گھر جاتا ہے وہ نہ ہوتے اور عورتیں کوئی کھانا انہیں پیش کرتیں تو یہ اسے نہیں کھاتے تھے کہ مرد تو ہیں نہیں نہ ان کی اجازت ہے۔ تو جناب باری تعالیٰ نے اس کے کھالینے کی رخصت عطا فرمائی۔ یہ جو فرمایا کہ خود تم پر بھی حرج نہیں یہ تو ظاہر ہی تھا۔ اس کا بیان اس لئے کیا گیا کہ اور چیز کا اس پر عطف ہو اور اس کے بعد کا بیان اس حکم میں برابر ہو۔ بیٹوں کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے گو لفظوں میں بیان نہیں آیا لیکن ضمنا ہے۔ بلکہ اسی آیت کے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ بیٹے کا مال بمنزلہ باپ کے مال کے ہے۔ مسند اور سنن میں کئی سندوں سے حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور جن لوگوں کے نام آئے ان سے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ قرابت داروں کا نان ونفقہ بعض کا بعض پر واجب ہے جیسے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کا اور امام احمد ؒ کے مذہب کا مشہور مقولہ ہے جس کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں اس سے مراد غلام اور داروغے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مال سے حسب ضرورت و دستور کھاپی سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ جنگ میں جاتے تو ہر ایک کی چاہت یہی ہوتی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ جاتے ہوئے اپنے خاص دوستوں کو اپنی کنجیاں دے جاتے اور ان سے کہہ دیتے کہ جس چیز کے کھانے کی تمہیں ضرورت ہو ہم تمہیں رخصت دیتے ہیں لیکن تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو امین سمجھ کر اور اس خیال سے کہ مبادا ان لوگوں نے بادل ناخواستہ اجازت دی ہو، کسی کھانے پینے کی چیز کو نہ چھوتے اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ پھر فرمایا کہ تمہارے دوستوں کے گھروں سے بھی کھالینے میں تم پر کوئی پکڑ نہیں جب کہ تمہیں علم ہو کہ وہ اس سے برا نہ مانے گے اور ان پر یہ شاق نہ گزرے گا۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں تو جب اپنے دوست کے ہاں جائے تو بلا اجازت اس کے کھانے کو کھالینے کی رخصت ہے۔ پھر فرمایا تم پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں اور جدا جدا ہو کر کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ 29) 4۔ النسآء :29) اتری یعنی ایمان والو ایک دوسرے کے ساتھ کھائیں چناچہ وہ اس سے بھی رک گئے اس پر یہ آیت اتری اسی طرح سے تنہاخوری سے بھی کراہت کرتے تھے جب تک کوئی ساتھی نہ ہو کھاتے نہیں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں دونوں باتوں کی اجازت دی یعنی دوسروں کے ساتھ کھانے کی اور تنہا کھانے کی۔ قبیلہ بنو کنانہ کے لوگ خصوصیت سے اس مرض میں مبتلا تھے بھوکے ہوتے تھے لیکن جب تک ساتھ کھانے والا کوئی نہ ہو کھاتے نہ تھے سواری پر سوار ہو کر ساتھ کھانے والے کی تلاش میں نکلتے تھے پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنہا کھانے کر رخصت نازل فرما کر جاہلیت کی اس سخت رسم کو مٹا دیا۔ اس آیت میں گو تنہا کھانے کی رخصت ہے لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا افضل ہے اور زیادہ برکت بھی اسی میں ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے آکر کہا یارسول اللہ ﷺ کھاتے تو ہیں لیکن آسودگی حاصل نہیں ہوتی آپ نے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہوگے ؟ جمع ہو کر ایک ساتھ بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر کھاؤ تو تمہیں برکت دی جائے گی۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مل کر کھاؤ، تنہا نہ کھاؤ، برکت مل بیٹھنے میں ہے۔ پھر تعلیم ہوئی کہ گھروں میں سلام کرکے جایا کرو۔ حضرت جابر ؓ کا فرمان ہے کہ جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت بھلا سلام کہا کرو۔ میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔ ابن طاؤس ؒ فرماتے ہیں تم میں سے جو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔ حضرت عطاء ؒ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واجب ہے ؟ فرمایا مجھے تو یاد نہیں کہ اس کے وجوب کا قائل کوئی ہو لیکن ہاں مجھے تو یہ بہت ہی پسند ہے کہ جب بھی گھر میں جاؤ سلام کرکے جاؤ۔ میں تو اسے کبھی نہیں چھوڑتا ہاں یہ اور بات ہے کہ میں بھول جاؤ۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں جب مسجد میں جاؤ تو کہو السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین یہ بھی مروی ہے کہ یوں کہو بسم اللہ والحمد للہ السلام علینا من ربنا السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین یہی حکم دیا جا رہا ہے ایسے وقتوں میں تمہارے سلام کا جواب اللہ کے فرشتے دیتے ہیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مجھے نبی ﷺ نے پانچ باتوں کی وصیت کی ہے فرمایا ہے اے انس ! کامل وضو کرو تمہاری عمر بڑھے گی۔ جو میرا امتی ملے سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی، گھر میں سلام کر کے جایا کرو گھر کی خیریت بڑھے گی۔ ضحی کی نماز پڑھتے رہو تم سے اگلے لوگ جو اللہ والے بن گئے تھے ان کا یہی طریقہ تھا۔ اے انس ! چھوٹوں پر رحم کر بڑوں کی عزت و توقیر کر تو قیامت کے دن میرا ساتھی ہوگا۔ پھر فرماتا ہے یہ دعائے خیر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں تعلیم کی گئی ہے برکت والی اور عمدہ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے تو التحیات قرآن سے ہی سیکھی ہے نماز کی التحیات یوں ہے التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ اشہدان لا الہ الا اللہ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اسے پڑھ کر نمازی کو اپنے لئے دعا کرنی چاہئے پھر سلام پھیر دے۔ انہی حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعا صحیح مسلم شریف میں اس کے سوا بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس سورت کے احکام کا ذکر کر کے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنے واضح احکام مفید فرمان کھول کھول کر اسی طرح بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں، سوچیں سمجھیں اور عقل مندی حاصل کریں۔