آیت نمبر 25
یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی سے دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ فساد فی الارض برپا کرتے ہیں۔ اہل دانش کی جن چیزوں کا اوپر ذکر ہوا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے سے فساد فی الارض نمودار ہوتا ہے۔
” وہ لوگ “ وہ جو اللہ سے دور ہیں اور راندۂ درگاہ ہیں ان کے لئے لعنت ہے۔ تکریم و استقبال کے مقابلے میں راندگی ہے اور نعم الدار کے مقابلے میں سوء الدار ہے۔
یہ لوگ اس لیے راندۂ درگاہ ہوئے کہ وہ متاع حیات دنیا میں ہی غرق رہے اور ان کی نظریں آخرت کی دائمی نعمتوں کی طرف نہ اٹھ سکیں۔ حالانکہ رزق کا تعین صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی اس میں توسیع بھی کرتا ہے ، وہی رزق میں تنگی بھی کرتا ہے ، یہ سب کام اللہ کے اختیار میں تھا اور کوئی شخص اپنے لیے خود فراخی رزق کا انتظام نہیں کرسکتا تھا کہ اس پر اتراتا۔ اگر یہ لوگ آخرت کے طلبگار ہوتے تو یہ ضروری نہ تھا کہ اللہ ان سے دنیا کی خوشحالی چھین لیتا کیونکہ وہی داتا تھا۔
آیت 25 وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ قبل ازیں سورة البقرۃ ‘ آیت 27 میں بھی ہم بعینہٖ یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں : اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہاں اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
مومنین کی صفات مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ وہ جنتوں کے مالک بنیں گے۔ اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الہٰی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔ حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ ایک حدیث میں ہے جھگڑوں میں گالیاں بکنا اس قسم کے لوگ رحمت الہٰی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔ یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے اپنے غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، اللہ کے عہد کو توڑ دینا اللہ کے ملانے کے حکم کی چیزوں کو نہ ملانا۔ ملک میں فساد پھیلانا۔ اور یہ دبے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی جھوٹ وعدہ خلافی اور خیانت کرتے ہیں۔