سورہ رعد: آیت 27 - ويقول الذين كفروا لولا أنزل... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ رعد

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ

اردو ترجمہ

یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدیؐ کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے کہتے ہیں "اِس شخص پر اِس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری" کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayaqoolu allatheena kafaroo lawla onzila AAalayhi ayatun min rabbihi qul inna Allaha yudillu man yashao wayahdee ilayhi man anaba

آیت 27 کی تفسیر

آیت نمبر 27 تا 32

ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔

قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔

لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کی طرف میلان اور انابت نہیں رکھتے وہی گمراہ ہوتے ہیں ، لہٰذا اللہ بھی ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ لہٰذا دلوں کے اندر ہدایت کی استعداد اور پھر طلب ہدایت اور اس راہ میں سعی کرنے سے ہدایت ملتی ہے۔ لیکن جو دل اللہ کی ہدایت کی استعداد ہی سے محروم ہوتے ہیں اور جو اس سمت میں حرکت ہی نہیں کرتے وہ اللہ سے اور ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد مومن دلوں کی ایک نہایت ہی شفاف تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کشی نہایت ہی اطمینان وقرار ، انس و محبت اور مسرت اور بشاشت کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔

الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (13 : 28) ” وہ جنہوں نے نبی کی دعوت کو مان لیا ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے “۔ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے متعلق ہیں۔ وہ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں اور اللہ کے ہاں مامون اور محفوظ ہیں۔ وہ تنہائی کی مشکلات سے بھی مطمئن ہوتے ہیں ، راہ حق کی پریشانیوں میں بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ اور وہ تخلیق کائنات ، اس کے آغاز اور انجام کے بارے میں بھی شفاف سوچ رکھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں ، وہ ہر ظلم ، ہر شر اور ہر زیادتی سے اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتے ہیں اس لیے مطمئن ہوتے ہیں الایہ کہ اللہ کی مشیت سے کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں اور اسے ابتلا سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ ہدایت ، رزق ، دنیا و آخرت کی پردہ پوشی کے بارے میں بھی ان کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے وہ مطمئن ہوتے ہیں۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” بیشک اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے “۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کے ذکر سے جو اطمینان پیدا ہوتا ہے اس کا صحیح علم صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں ایمان کی بشاشت اور مٹھاس پیدا ہوجائے اور ان کو اللہ کا فضل حاصل ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگ اس ایمانی بشاشت اور طمانیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو الفاظ کے ذریعہ دوسرے لوگوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ایسے لوگوں تک جن کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کیونکہ یہ حقائق الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان دلوں میں سرایت کرتا ہے۔ ان کو سکون اور فرحت دیتا ہے ، ہمت دیتا ہے۔ وہ امن و سلامتی کا شعور پاتے ہیں۔ ایسے اہل معرفت محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، ان کو ایک پورا ماحول اپنا دوست اور یار نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کے اردگرد اللہ کی صنعت کاریاں ہوتی ہیں جبکہ خود صاحب معرفت اللہ ہی کی حمایت میں ہوتا ہے۔

ان لوگوں سے بڑا بد بخت اس روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو تعلق باللہ کی وجہ سے اور ذکر الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے انس و محبت سے بیخبر ہوں۔ اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے اوپر چلے پھرے اور اسے اپنے کائناتی ماحول سے کوئی انس و محبت نہ ہو۔ اس سے بڑا کوئی بدبخت نہ ہوگا جو اس دنیا میں چلے پھرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ کیوں آیا ہے اور کدھر جا رہا ہے ؟ اور اس کے اوپر زندگی کا یہ بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ اور اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو اس کرۂ ارض پر چلتا پھرتا ہو اور وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے اس لیے بدکتا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے اور ہر چیز کے درمیان ایک نہایت ہی لطیف تعلق ہے ؟ اس سے بدبخت اور کون ہوگا جو سفر حیات طے کر رہا ہے لیکن اکیلا ہے ، راندہ ہے ، گم کردہ راہ ہے اور پہاڑوں اور صحراؤں میں اکیلا پھر رہا ہے اور زندگی کا یہ کٹھن سفر وہ اکیلا بغیر گائیڈ کے ، بغیر انیس سفر کے اور بغیر ہادی و مددگار کے طے کر رہا ہے۔ اور اسے نشان منزل تک معلوم نہیں۔

یاد رکھو ! زندگی کے اس کٹھن سفر میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں ، نہایت ہی تاریک گھڑیاں جن کا مقابلہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ کا ہوگیا ہو ، جسے اللہ کی حمایت کا بھروسہ ہو ، ورنہ خواہ کوئی کس قدر طاقتور ، بہادر اور مستقل مزاج کیوں نہ ہو زندگی میں بعض ایسی تاریک گھڑیاں آتی ہیں کہ انسان کی تمام قوتیں جواب دے جاتی ہیں۔ آخری سہارا صرف تعلق باللہ کی قوت اور ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13 : 28) ” خبردار ! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ یہ لوگ جو اللہ کی طرف جھکنے والے ہیں اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے مطمئن ہیں ، اللہ کے ہاں ان کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا کیونکہ انہوں نے اچھا طرز عمل اختیار کیا اور وہ اللہ کے مطیع فرمان رہے۔

الذین امنوا۔۔۔۔۔۔ ماب (13 : 29) ” جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لئے اچھا انجام ہے۔ طوبیٰ طاب یطیب سے ہے بوزن کبریٰ ۔ یہ صیغہ تفخیم اور تعظیم کے لئے آتا ہے یعنی ان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ان کا اچھا انجام اس خدا کے ہاں ہوگا جس کے وہ اپنی زندگی میں مطیع فرمان رہے۔

وہ لوگ جو معجزات طلب کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ایمان اطمینان کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی اس ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور اے پیغمبر آپ کسی قوم میں آنے والے پہلے رسول نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے لئے یہ معاملہ ناقابل فہم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اقوام گزری ہیں اور کئی رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ لوگ کفر پر تل گئے ہیں تو آپ اپنے منہاج پر کام کرتے رہیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔

کذلک ارسلنک ۔۔۔۔۔۔ والیہ متاب (13 : 30) ” اے نبی اسی شان سے ہم نے تم رسول بنا کر بھیجا۔ ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں تا کہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت ہی مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا طجا وماویٰ ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ رحمٰن کا کفر کرتے ہیں جس کی رحمت بہت ہی بڑی ہے۔ جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں اور اس کی عظیم رحمت کا شعور ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر آپ کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ جو وحی آپ کی طرف آتی ہے آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے ۔ اگر وہ کفر کے ارتکاب پر تل گئے ہیں تو اعلان کردیں کہ میرا بھروسہ تو صرف اللہ وحدہ پر ہے اور یہ کہ میں اسی کی طرف لوٹنے والا ہوں اور کسی اور کی طرف پناہ لینے کے لئے مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔

ہم نے آپ کو صرف یہ ڈیوٹی دی ہے کہ آپ قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن پڑھیں ، بذاب خود یہ کتاب اور یہ کلام بہت ہی عجائب اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی قرآن کے ذریعہ پہاڑ چلائے جاتے ، یا زمین کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ، یا اس کے ذریعہ مردے باتیں کرنے لگتے تو یہ باتین اس قرآن میں بھی ہوتیں اور اس کے ذریعے یہ مذکور معجزات ظہور پذیر ہوتے لیکن قرآن (ہر کتاب الٰہی) تو اس لیے نازل کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کی ڈیوٹیاں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر یہ مخاطبین اب کفر کرنے پر تل گئے ہیں اور ہرگز مان کر نہیں دیتے تو وقت آگیا ہے کہ مومنین ان سے مایوس ہوجائیں اور ان کو چھوڑ دیں کہ مکذبین کے ساتھ اللہ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ آجائے۔

ولو ان قراناً ۔۔۔۔۔۔ یخلف المیعاد (13 : 31) ” اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین شق ہوجاتی ، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے ) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کو قبول کیا اور اس کی کیفیات میں ڈوب گئے اس نے ان کے اندر اس قدر انقلاب برپا کردیا کہ پہاڑوں کے چلائے جانے ، زمین کے شق ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے سے وہ بڑا معجزہ تھا۔ ان مذکور معجزات سے بھی ان لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی ہوئی اور بڑے معجزات رونما ہوئے۔ ان کی زندگی کی قدریں بدل دی گئیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں نے خود اس زمین کے چہرے کو بھی بدل کر رکھ دیا اور اسلام اور مسلمانوں نے اس کرۂ ارض کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔

اس قرآن کی اثر آفرینی ، اس کی ذات اور طرز ادا میں ، اس کی دعوت اور فلسفے میں اس کے موضوعات کلام اور طرز کلام میں بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے۔ اس کے اندر کسی بڑے سے بڑے معجزے کے مقابلے میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ اور اس کی اس معجزانہ شان سے وہی شخص واقف ہے جو ان معالی اور فلسفوں اور انداز تعبیر اور اسالیب کلام سے واقف ہو۔ اور ان کو ان چیزوں کے سمجھنے کی ذہنی قوت مدرکہ حاصل ہو۔ جن لوگوں نے اسے سمجھا ، اس پر عمل کیا اور اس کی کیفیات اور اس کے انوار میں ڈوبے انہوں نے پہاڑوں کے چلانے سے بھی بڑے معجزے کر دکھائے۔ قرآن مجید کے اثرات کے نتیجے میں تو اقوام اور نسلوں کے حالات اور سوچ کے دھارے بدل گئے۔ انہوں نے ان چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو زمین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔ فکری جمود اور رسم و رواج کا وہ جمود جو قرآن اور مسلمانوں نے توڑا وہ زمین اور پتھروں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے ایسی اقوام کو زندہ کیا جو مردوں سے زیادہ مردہ تھیں۔ زندہ ہو کر بھی مردہ تھیں ، وہ اقوام جن کی روح کو وہم اور گمان نے قتل کردیا تھا۔ وہ بتان وہم و گمان کے پجاری تھے۔ عربوں کے اندر جو انقلاب رونما ہوا ، ان کی زندگی کے اندر جو تبدیلی نمودار ہوئی اور اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ کہ انقلاب صرف اور صرف قرآن کی وجہ سے آیا جس نے ان کی زندگی کا منہاج ہی بدل کر رکھ دیا تو کیا یہ انقلاب پہاڑوں کے چلنے ، زمین کے ٹکڑے ہونے اور مردوں کے گویا ہونے سے کوئی کم انقلاب تھا۔

بل للہ الامر جمیعاً (13 : 31) ” بلکہ سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے “۔ وہی ہے ، جو تحریک کی نوعیت کو اختیار کرتا ہے اور وہی ہے جو تحریک کے لئے وسائل اور ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اگر اس قرآن کو سن کر بھی کسی قوم کے دلوں میں حرکت اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا تو اہل ایمان جو ابھی ایسے دلوں کو حرکت میں لانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مایوس ہوجائیں ۔ ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کے اندر ہدایت کی استعداد پیدا کردیتا۔ اور انسانوں کو بھی اسی طرح ہدایت کی جبلت پر تخلیق کردیتا جس طرح فرشتوں کو اس نے ہدایت پر پیدا کیا ہے۔ یا لوگوں کو مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر چلا دیتا لیکن اللہ نے انسانوں کے بارے میں نہ خیر کی اسکیم تیار کی اور نہ فرشتوں جیسی جبلت ان کو دی ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ کو معلوم تھا کہ انسان اس مقصد کے تقاضے کس طرح پورے کرسکتا ہے۔

لہٰذا چاہئے کہ لوگوں کو اب اللہ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ان اقوام عرب کو اس طرح نیست و نابود نہ کرے گا جس طرح بعض اقوام کو ہلاک کیا گیا تھا تو ان پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ یا ان کے گھروں کے قریب آتی رہتی ہے ۔ اور یہ لوگ وقتاً فوقتاً اللہ کے عذابوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ان مصائب میں ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔

او تحل قریباً من دارھم (13 : 31) ” یا ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتی ہے “۔ جس سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ نہایت ہی قلق اور خوف سے انتظار کرتے ہیں کہ کہیں اس جیسی مصیبت دوبارہ نہ آجائے۔ بعض لوگ نرم بھی ہوجاتے ہیں ، ان میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور ان کو حقیقی زندگی مل جاتی ہے۔

حتی یاتیی وعداللہ (13 : 31) ” یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص اس دن اس انجام سے دوچار ہونے والا ہے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اس بات کی مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں کہ اللہ مہلت دیتا ہے لیکن مہلت اور انتظار کے بعد اللہ کی پکڑ بھی آجاتی ہے۔

ولقد استھزیء۔۔۔۔۔۔ عقاب (13 : 32) ” اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ ۔ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ عذاب ایسا رہا ہے کہ نسلیں اس کا چرچا کرتی رہیں۔

دوسرا مسئلہ شرکاء کا ہے۔ سورة کے حصہ اول میں بھی اسے چھیڑا گیا تھا۔ یہاں بھی ان بیچارون کا ذکر نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ کے ساتھ ان کا تقابل یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ تو ہر تنفس پر قائم ہے ۔ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ پر یہ افتراء باندھتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں ان کو اس دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی سزا دی جاتی ہے اور آخرت تو بہت ہی شدید ہے۔ جبکہ اہل تقویٰ کے لئے امن و سلامتی انتظار کر رہی ہے۔

آیت 27 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو بار بار ان کی اسی بات اور اسی دلیل کا ذکر ہو رہا ہے کہ محمد رسول اللہ پر کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ جو لوگ خود ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ انہیں نعمت ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔

مشرکین کے اعتراض مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں تو آپ نے دوسری صورت پسند فرمائی۔ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں بےایمانوں کے لئے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں جن پر کلمہ عذاب صادق ہوچکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بیکار چیز ہے فرماتا ہے ولو اننا الخ، یعنی اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کردیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہوجاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہوجاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لئے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔ مروی ہے کہ طوبی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جنت کی جب پیدائش ہوچکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الہٰی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سوا سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جس نے آپ کو دیکھ لیا اور آپ پر ایمان لایا اسے مبارک ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہوگا اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی۔ صحیح بخاری شریف میں آیت (وظل ممدود) کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ اور حدیث میں ہے ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ سدرۃ المنتہی کے ذکر میں آپ نے فرمایا ہے اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھیر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں (ترمذی) آپ فرماتے ہیں ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں طوبٰی کو حکم ہوگا کہ میرے بندوں کے لئے بہترین لباس وغیرہ۔ ابن جریر ؒ نے اس جگہ ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آئیں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہوگا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ انٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الہٰی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خود بخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے دعا (اللہم انت السلام والیک السلام وحق لک الجلال والاکرام) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا دعا (انا السلام ومنی السلام) تم پر میری رحمت ثابت ہوچکی اور محبت بھی۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آگئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے ؟ پھر فرمائے گا جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو چناچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہوجائیں گی ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہوگا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہوگا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہوگا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گو یا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہوگا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔ ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہوجائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الہٰی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں ؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہوگی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لئے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بےتکلف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ ، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الہٰی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت وآرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے ؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہوگئے ؟ وہ کہیں گے اللہ ہم خوب خوش ہوگئے ؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میری رضامندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا ؟ اپنا دیدار کیسے کراتا ؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے ؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں۔ اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزا وار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کردیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چناچہ صحیین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہوجائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا۔ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈوبونے سے سمندر کے پانی میں آئے، الخ۔ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔

آیت 27 - سورہ رعد: (ويقول الذين كفروا لولا أنزل عليه آية من ربه ۗ قل إن الله يضل من يشاء ويهدي إليه من أناب...) - اردو