وترکنا علیہ فی الاخرین (37: 78) ” اور بعد کی نسلوں میں ان کی تعریف و توصیف چھوڑی “۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ دونوں جہانوں میں نوح پر سلامتی ہوگی اس لیے کہ انہوں نے نیک راہ اختیار کی۔
آیت 78{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور ہم نے اسی کے طریقے پر بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو چھوڑا۔“ یعنی بعد میں آپ علیہ السلام کی نسل میں سے بھی لوگ آپ علیہ السلام کے راستے پر چلتے رہے۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں کی اولادیں کچھ عرصہ تک تو یقینا دین حق اور دین توحید پر چلتی رہی ہوں گی ‘ لیکن بالآخر شیطان نے انہیں بھی گمراہ کردیا اور مختلف قسم کے توہمات اور شرک میں مبتلا کردیا۔