سورہ الصافات: آیت 83 - ۞ وإن من شيعته لإبراهيم... - اردو

آیت 83 کی تفسیر, سورہ الصافات

۞ وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٰهِيمَ

اردو ترجمہ

اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna min sheeAAatihi laibraheema

آیت 83 کی تفسیر

وان من شیعتہ ۔۔۔۔۔ ظنکم برب العلمین (83 – 87)

یہ اس قصے کا آغاز ہے اور قصے کے اندر پہلا منظر ہے۔ نوح سے اب ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک آگئے۔ ان دونوں انبیاء کی دعوت ، نظریہ اور منہاج دعوت ایک ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے ہیں لیکن دونوں ایک ہی گروہ کے لوگ ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کا دبا ہوا نظام زندگی ایک ہے۔ اور اس زاویہ سے یہ دونوں باہم مربوط ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی سلسلہ سے ہے جس میں وہ باہم شریک ہیں۔

آیت 83{ وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ } ”اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھا۔“ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دین حق اور نظریہ توحید کے پیروکار تھے جس پر حضرت نوح علیہ السلام کاربند تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام کی نسل سے تھا۔ اسی طرح قوم عاد اور قوم ثمود بھی سامی النسل تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش شہر اُر میں ہوئی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقے میں اپنے وقت کا مشہور شہر تھا۔ اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہوچکے ہیں۔

اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟

آیت 83 - سورہ الصافات: (۞ وإن من شيعته لإبراهيم...) - اردو