فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔
روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔
بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔
حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔
فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
آیت 88{ فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ } ”پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نگاہ ڈال کر گویا یہ تاثر دیا کہ وہ ستارہ شناسی کی مدد سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔