اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ لوگ واپس ہوئے انہیں علم ہوا کہ ان کے بتوں کے سر پاؤں اور ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں کہ انہوں نے تفتیش کی کہ کس نے یہ کام کیا ہے۔ آخر وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ابراہیم نام کا ایک شخص ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے ، بہرحال یہاں اختصار کرکے فریقین کا آمنا سامنا دکھایا جاتا ہے۔
فاقبلوا الیہ یزفون (94) “۔ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ خبر سن لی تھی۔ یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ کام کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا سب لوگ دوڑ کر ابراہیم کے پاس پہنچے۔ سب اب کے اردگرد جمع ہوگئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد بلکہ پورا میلہ اکٹھا ہوگیا۔ سب لوگ ایک طرف اور ایک مومن ایک طرف۔ ایک ایسا فرد جو کام کرنا چاہتا ہے۔ ایسا فرد جس کا تصور الٰہ واضح ہے جس کا عقیدہ ٹھوس اور متعین ہے۔ وہ اپنے نفس کے اندر اسے حقیقت کے طور پر پاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے پاتا ہے۔ یہ ایک فرد ہے لیکن افراد کی اس بھیڑ اور جم غفیر سے وہ اپنے آپ کو قوی پاتا ہے۔ جن کا عقیدہ درست نہیں۔ جس کا تصور حیات ٹھوس نہیں۔ چناچہ وہ فطری سچائی کے ساتھ جرات مندانہ طریقے سے ان کو یوں خطاب کرتا ہے۔ اور ان کے کسی ردعمل کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ لوگ اس وقت استعمال کی حالت میں ہیں اور بڑی تعداد میں ہیں۔
آیت 94{ فَاَقْبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ } ”تو وہ اس کی طرف آئے ‘ دوڑتے ہوئے۔“ اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورة الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کردیا ‘ سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی ہوگی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپ علیہ السلام تک پہنچے تو آپ علیہ السلام نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا :