واللہ خلقکم وما تعملون (37: 96) ” اللہ تو وہ ہے جس نے تمہیں بھی بنایا اور تمہاری مصنوعات کو بھی بنایا “۔ یہ صانع مطلق اس قابل ہے کہ اس کی پوجا کی جائے۔ اس استدلال کی سادگی اور واضح ہونے کے باوجود ، لوگوں نے اپنی غفلت اور غلط روش کی وجہ سے اس پر کان نہ دھرا۔ باطل کی روش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ سچائی کے نہایت ہی سادہ اور منطقی الاستدلال پر کان نہیں دھرتا۔ اور اللہ کی جانب سے جن لوگوں کے ذمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ اہل باطل کی طرف سے تشدد سہتے رہے ہیں۔
آیت 96{ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ } ”جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔“ یہ آیت حکمت اور فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان ”کا سب ِعمل“ تو ہے مگر ”خالق عمل“ نہیں ہے۔ مثلاً میں ارادہ کرتا ہوں کہ اپنے سامنے پڑا ہوا پیالہ اٹھائوں۔ اس میں ارادے کی حد تک تو مجھے اختیار ہے مگر اللہ کے اذن کے بغیر اس پیالے کو اٹھانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ میرے اٹھانے سے پہلے اس پیالے پر کوئی دوسری قوت بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے میرا دماغ میرے ارادے یا فیصلے کو میرے ہاتھوں تک پہنچا بھی نہ پائے۔ بہر حال انسان کا عمل دخل اس حوالے سے صرف ارادے تک محدود ہے اور اسی ارادے کے مطابق ہی وہ سزا یا جزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی واقعہ یا کوئی عمل وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ان لوگوں کو خاص طور پر بتایا گیا کہ تم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے نا ! لیکن تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو ‘ اور تمہارے جو بھی اعمال و اَفعال ہیں ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔