سورہ سجدہ: آیت 21 - ولنذيقنهم من العذاب الأدنى دون... - اردو

آیت 21 کی تفسیر, سورہ سجدہ

وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَىٰ دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اردو ترجمہ

اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا اِنہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walanutheeqannahum mina alAAathabi aladna doona alAAathabi alakbari laAAallahum yarjiAAoona

آیت 21 کی تفسیر

آیت 21 وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اس آیت کی سورة الروم کی آیت 41 کے ساتھ خاص مناسبت ہے : ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب ‘ تاکہ اللہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا ‘ تاکہ وہ لوٹ آئیں۔دونوں آیات کے مضمون کا تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون سے ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں خبردار کرنا ہوتا ہے کہ شاید اس طرح وہ خواب غفلت سے جاگ کر توبہ کی روش اپنا لیں اور بڑے عذاب سے بچ جائیں۔ اس قانونِ الٰہی کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً سورة الانعام میں اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ اور ہم نے بھیجا دوسری امتوں کی طرف بھی آپ ﷺ سے قبل رسولوں کو ‘ پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے ‘ شاید کہ وہ عاجزی کریں۔ اسی طرح سورة الاعراف میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اس قانون کی یوں وضاحت کی گئی : وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والوں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں اور ان میں عاجزی پیدا ہوجائے ۔

آیت 21 - سورہ سجدہ: (ولنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر لعلهم يرجعون...) - اردو