اولم یھد لھم ۔۔۔۔۔ افلا یسمعون (26) تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ تمام بعد کے جھٹلانے والوں کے لیے عبرت ہے۔ اللہ کی سنت تو اس جہان میں جاری وساری ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔ یہ انسانیت ترقی اور زوال کے لیے الٰہی قوانین فطرت کے تابع ہے۔ اس کی کمزوری اور اس کی قوت کا راز الٰہی قوانین کے اتباع و انکار میں ہے۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اقوام کے عروج وزوال کے لیے اللہ نے خصوصی قوانین جاری کر رکھے ہیں اور یہ قوانین مسلسل جاری ہیں اور ماضی کے واقعات اور اقوام ہلاک شدہ کے آثار میں بڑی عبرت ہے۔ اس موضوع پر آزادانہ مطالعہ ہونا چاہئے تاکہ باقی آثار سے لوگوں کے دل بیدار ہوں ، ان کے اندر احساس پیدا ہو ، اور لوگ اللہ کی پکڑ اور انتقام سے ڈریں کیونکہ اللہ نے بڑے بڑے جباروں کو پکڑا ہے۔ پھر تاریخی مطالعہ ضروری ہے کیونکہ کوئی قوم زمان و مکان کے کسی گوشے میں گوشہ نشین نہیں ہوسکتی۔ نہ وہ اس نظام کو نظر انداز کرسکتی ہے جس کے مطابق انسانیت کی زندگی کا قافلہ آگے بڑھ رہا ہے اور صدیوں سے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ چونکہ اکثر اقوام نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ، اس لیے وہ نیست و نابود ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار میں بہت ہی گہرا سبق ہوتا ہے اور یہ سبق بہت ہی خوفناک ہوتا ہے۔ بشرطیکہ دل شعور رکھتا ہو ، احساس و بصیرت موجود ہو۔ اگر کوئی اس سبق کو پڑھے تو پڑھنے والے پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ ضمیر کانپ اٹھتا ہے اور دل دہل جاتے ہیں۔ عرب جن کو ان آیات میں پہلی بار خطاب کیا گیا تھا وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اقوام عاد ، ثمود ، لوط کے آثار دیکھتے رہتے تھے۔ قرآن کریم ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے کہ ان اقوام کے آثار تمہارے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ تم رات اور دن ان پر سے گزرتے ہو ، لیکن تمہارے دلوں میں پھر بھی خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا۔ تمہارا شعور بیدار نہیں ہوتا۔ تمہارے احساسات کے اندر روشنی کی چمک پیدا نہیں ہوتی۔ اور تم اس قسم کے انجام سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتے ہو۔ تم ہدایت اخذ نہیں کرتے اور احتیاطی اور انسدادی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔
ان فی ذلک لایت افلا یسمعون (32: 26) ” اس میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ سنتے نہیں “۔ ان کو چاہئے کہ ان لوگوں کے جو قصے قرآن کریم پیش کرتا ہے ان کو سنیں اور پھر ان کے انجام پر غور کریں۔ جبکہ رات اور دن ان لوگوں کے مساکن اور کھنڈرات سے یہ گزرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ ڈرانے والے کی بات سچی ہوجائے اور یہ بھی ہلاک ہوجائیں انہیں ہوش میں آجانا چاہیے۔ اس ہلاکت اور تباہی کے منظر کے بعد فکر و احساس کی اس بیداری اور خوف خدا پر ابھارنے اور ڈرانے کے بعد اور ان کے دلوں پر کپکپی طاری کرنے کے بعد ان کو ایک دوسری نشانی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اس خوفناک فضا کے بعد بہت ہی خوشگوار منظر بتاتی ہے۔ دیکھو ایک مردہ زمین تمہارے سامنے پڑی ہوتی ہے ، خشک سالی سے سوختہ اور ہم اس کی طرف پانی چلانے ہیں۔ اس کے اندر زندگی حرکت کرنے لگتی ہے۔ جبکہ اقوام سابقہ کے حالات میں ہم نے پڑھا کہ اس طرح کی سرسبز اور شاداب اراضی کو اللہ بنجر بھی کردیتا ہے۔
آیت 26 اَوَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط۔قریش کے قافلے اپنے سفر شام کے دوران میں قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کرچکے ہیں۔ حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر مردار Dead Sea کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آچکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو شاید Dead Sea کا نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نیچے ان شہروں کے باسیوں کی اجتماعی قبریں ہیں۔ مستقبل میں سائنس کی ترقی کے باعث قرآن میں دی گئی اس نوعیت کی بہت سی معلومات کے حوالے سے مزید انکشافات کی بھی امید ہے۔
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب ؓ کا خط کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ وبالا کردیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بےپرواہی کی۔ اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لئے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں۔ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا ؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے ناآشنا ہیں۔ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف وکرم کو احسان و انعام کو بیان فرما رہا ہے کہ آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہوگئے ہوں زمین یبوست (خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بیشک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہر سال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان ورحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلاکر رضامند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اسکا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام حضرت عمرو بن عاص فاتح مصر نے جواب دیا کہ یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کرسکتے۔ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آکر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود وباش ترک کردیں اب فاتح مصر کو خیال گذرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ آپ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے بندے امیر المومنین عمر ؓ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔ بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد وقہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کردے۔ یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گذرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہ کا خطہ سرسبز ہوگیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوا۔ (کتاب السنہ للحافظ ابو القاسم اللالکائی) اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ 24ۙ) 80۔ عبس :24) یعنی انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے ؟ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جرز وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ زمین یمن میں ہے حسن فرماتے ہیں ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔ ابن زید وغیرہ کا قول ہے یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ 33) 36۔ يس :33) ان کے لئے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کردیتے ہیں۔