فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔
اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔
آیت 29 قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِیْمَانُہُمْ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان لانے کا فائدہ انہیں تبھی ہوگا اگر وہ اپنی دنیوی زندگی کے دوران ایمان لائیں گے ‘ جبکہ آخرت کے تمام حقائق پردۂ غیب میں چھپے ہوئے ہیں ‘ لیکن جب یہ لوگ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ان کا ایمان لانا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ آج انہیں جو مہلت ملی ہے اس میں اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ ان کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔ لیکن موت کے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ مہلت ختم ہوجائے گی۔