قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔