آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی کوئی سبیل ہے ؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے ، ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے۔ اور اس کو نظریں بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ ظالم چونکہ سرکش اور باغی تھے تو اللہ تعالیٰ نے یوم الجزاء میں انہیں بظاہر ذلت کی حالت میں رکھا۔ یہ عذاب دیکھتے ہیں تو ان کی بڑائی دھڑام سے گرتی ہے اور نہایت ہی ذلت اور انکسار سے باہم بات کرتے ہیں کہ کوئی راستہ ہے پلٹنے کا ہے۔ اس بےتابانہ مایوسی کے مکالمے اور اس ذلت و خواری کی حالت میں جب آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو حالت خشوع میں ہیں۔ تقویٰ اور احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ ذلت اور خواری کی وجہ سے ، وہ خود بھی سہمے ہوئے ، جھکے ہوئے ہیں اور نظریں بھی نیچی ہیں۔ ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے نظریں اٹھا کر نہ دیکھ سکیں گے۔
ینظرون من طرف خفی (42 : 44) “ اور نظریں بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ یہ اس وقت نہایت ہی توہین آمیز حالت میں ہوں گے۔
اور اس وقت یہ معلوم ہوگا کہ یہ دن اہل ایمان کا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں۔
وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (42 : 45) “ اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ”۔ اور یہ کفار واقعی سب کچھ ہار گئے۔ اور یہ لوگ ذلت سے جھکے کھڑے ہیں وہ بھی باہم تبصرہ کرتے ہیں مگر یوں کہ کیا ایسی کی کوئی راہ ہے ؟ ۔۔۔۔ اب ایک عام تبصرہ آتا ہے اس پورے منظر پر کہ یہ لوگ جن کو آگ پر پیش کیا گیا ان کا انجام کیا ہوگا۔
الا ان الظلمین فی عذاب مقیم (42 : 45) وما کان لھم ۔۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 46) “ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے ، جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں اور جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لئے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ”۔ نہ کوئی مددگار ہے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ لہٰذا اب ان کے لئے عذاب مقیم ہی ہے۔
٭٭٭
اس منظر کی روشنی میں حضور ﷺ کے معاندین اور مغرور مخاطبین کو اب نہایت ہی ہمدردی سے خطاب کیا جاتا ہے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلو ، قبل اس کے کہ اچانک تم پر یہ دن آجائے ، جس سے پھر کوئی پناہ تمہیں نہ ملے ، کوئی مدد گار نہ ملے جو اس برے انجام پر اجتجاج کرسکے ، اور حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر یہ اس مخلصانہ تنبیہ کو نہیں مانتے اور منہ موڑتے ہیں تو آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ بات پہنچا دیں ، آپ ان کی ہدایت کے مکلف اور ذمہ دار نہیں نہ ان کے ٹھیکہ دار ہیں۔
آیت 44 { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَــہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْم بَعْدِہٖ } ”اور جس کو اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو تو اس کے بعد اس کے لیے کوئی مدد گار نہیں۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ نے ہی مہر ثبت کردی ہو تو ایسے شخص کا ایسا کوئی حمایتی اور دوست ممکن نہیں جو اسے راہ راست پر لے آئے۔ { وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ ہَلْ اِلٰی مَرَدٍّّّ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”اور تم دیکھو گے ظالموں کو کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا واپس لوٹ جانے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟“
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آگئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقینا یہ جھوٹے ہیں پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہوگی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہوگا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایمان دار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں کی آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہوجائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔