سورہ شوریٰ (42): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ash-Shura کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشورى کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ شوریٰ کے بارے میں معلومات

Surah Ash-Shura
سُورَةُ الشُّورَىٰ
صفحہ 485 (آیات 16 سے 22 تک)

وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ٱسْتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ وَٱلْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٌ يَسْتَعْجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا ٱلْحَقُّ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِى ٱلسَّاعَةِ لَفِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍ ٱللَّهُ لَطِيفٌۢ بِعِبَادِهِۦ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْءَاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ أَمْ لَهُمْ شُرَكَٰٓؤُا۟ شَرَعُوا۟ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ ٱلْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ تَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا۟ وَهُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِى رَوْضَاتِ ٱلْجَنَّاتِ ۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ
485

سورہ شوریٰ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ شوریٰ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena yuhajjoona fee Allahi min baAAdi ma istujeeba lahu hujjatuhum dahidatun AAinda rabbihim waAAalayhim ghadabun walahum AAathabun shadeedun

اردو ترجمہ

وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu allathee anzala alkitaba bialhaqqi waalmeezani wama yudreeka laAAalla alssaAAata qareebun

آیت نمبر 17 تا 19

اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔

اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔

وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔

یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔

الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔

اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔

من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔

پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔

اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔

صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔

غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔

٭٭٭٭

اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

اردو ترجمہ

جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے خوب سن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

YastaAAjilu biha allatheena la yuminoona biha waallatheena amanoo mushfiqoona minha wayaAAlamoona annaha alhaqqu ala inna allatheena yumaroona fee alssaAAati lafee dalalin baAAeedin

اردو ترجمہ

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu lateefun biAAibadihi yarzuqu man yashao wahuwa alqawiyyu alAAazeezu

اردو ترجمہ

جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Man kana yureedu hartha alakhirati nazid lahu fee harthihi waman kana yureedu hartha alddunya nutihi minha wama lahu fee alakhirati min naseebin

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Am lahum shurakao sharaAAoo lahum mina alddeeni ma lam yathan bihi Allahu walawla kalimatu alfasli laqudiya baynahum wainna alththalimeena lahum AAathabun aleemun

آیت نمبر 20 تا 23

پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔

ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔

اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔

اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔

یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔

ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔

وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔

تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔

اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں :

والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔

قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔

نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔

قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔

جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔

اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔

حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔

بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔

ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔

ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔

ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔

اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !

اردو ترجمہ

تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آ کر رہے گا بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہی بڑا فضل ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tara alththalimeena mushfiqeena mimma kasaboo wahuwa waqiAAun bihim waallatheena amanoo waAAamiloo alssalihati fee rawdati aljannati lahum ma yashaoona AAinda rabbihim thalika huwa alfadlu alkabeeru
485