آگے دعوت ایمان کے سلسلے میں ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔
واطیعواللہ .................... المبین (46 : 21) ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ اس سے قبل ان کو لوگوں کا انجام بتایاجاچکا ہے جو منہ موڑتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول کا کام تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے بات پہنچادی تو وہ اپنے فریضے سے سبکدوش ہوگیا۔ اور اس طرح لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور اب لوگ اس معصیت اور منہ موڑنے کے انجام کا انتظار کریں جو انہیں ابھی ابھی سنا دیا گیا ہے۔
اس کے بعد یہ پیرگراف عقیدہ توحید کے قرار داد پر ختم ہوتا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے اور تکذیب کرتے تھے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے مومنین کا تعلق اللہ کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔
آیت 12{ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ } ”اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی۔“ { فَاِنْ تَوَلَّــیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ۔ } ”پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔“ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے احکام لوگوں تک پہنچا کر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ ان احکام کے بارے میں اب ہر کوئی خود جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے مقابلے میں اب کسی انسان کی دلیل بازی نہیں چلے گی۔ جیسے سود کی حرمت کا حکم سن کر بعض لوگوں نے کہا تھا : { اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7} کہ کاروبار کا منافع بھی تو ربا سود ہی کی مانند ہے ! ایسے لوگوں کو واضح طور پر بتادیا گیا کہ : { وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط } البقرۃ : 275 کہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ اب بھلا تم کون ہو اللہ کے واضح حکم کے بعد اپنی منطق بگھارنے والے ؟ اگر تم اللہ کو مانتے ہو ‘ اس کے رسول ﷺ کو مانتے ہو ‘ اس کے قرآن کو مانتے ہو تو پھر اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور قرآن کے احکامات کے مقابلے میں تمہاری کوئی دلیل نہیں چلے گی۔ تمہیں سب احکام بےچون و چرا تسلیم کرنے ہوں گے۔ بقولِ اکبر الٰہ آبادی : ؎رضائے حق پر راضی رہ ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا !خدا خالق ‘ خدا مالک ‘ خدا کا حکم ‘ تو کیسا ؟اور اگر نہیں مانتے ہو تو سیدھی طرح اقرار کرو کہ ہم نہیں مانتے۔ بس تمہارے پاس یہی دو راستے ہیں ‘ یا تو اطاعت و فرمانبرداری کی روش اپنائو یا پھر اس کے در سے اٹھ کر چلے جائو ! either obey or go away۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔