سورۃ الطلاق: آیت 2 - فإذا بلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف... - اردو

آیت 2 کی تفسیر, سورۃ الطلاق

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا۟ ذَوَىْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلشَّهَٰدَةَ لِلَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مَخْرَجًا

اردو ترجمہ

پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faitha balaghna ajalahunna faamsikoohunna bimaAAroofin aw fariqoohunna bimaAAroofin waashhidoo thaway AAadlin minkum waaqeemoo alshshahadata lillahi thalikum yooAAathu bihi man kana yuminu biAllahi waalyawmi alakhiri waman yattaqi Allaha yajAAal lahu makhrajan

آیت 2 کی تفسیر

فاذا بلغن ............................ قدرا (56 : 3) (56 : 2۔ 3) ”” اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو اور ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو ، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہوجاﺅ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے “۔

یہ دوسرا مرحلہ اور اس کا حکم ہے۔ عدت پوری ہوجاتی ہے ، اور جب تک عورت عدت سے خارج نہیں ہوجاتی ، خاوند کو رجوع کا حق رہتا ہے اور محض رجوع کرنے سے وہ اس کی بیوی بن جاتی ہے۔ یاد رہے کہ عدت کی مختلف میعادیں ہم نے پہلے بتادی ہیں۔ یہ ہے امساک یعنی روک لینا۔ یا اگر وہ (دوسری یا تیسری) طلاق نہیں دیتا اور عورت بائن ہوجاتی ہی یعنی عورت ایک یا دوطلاقوں ہی سے جدا ہوجاتی ہے تو پھر وہ آزادہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اگر خاوند چاہے تو اس کی مرضی سے جدید نکاح کرسکتا ہے لیکن اگر وہ رجوع کرتا ہے یا عورت کو جدا کرتا ہے ، حکم یہ ہے کہ اس کے ساتھ معروف طریقے کے مطابق برتاﺅ کرے۔ یہ بھی منع ہے کہ اسے محض تنگ کرنے کے لئے رجوع کرے۔ مثلاً یہ کہ عورت کو ایک طلاق دے۔ پھر وہ پوری عدت گزارنے سے قبل رجوع کرے ، پھر اس کو طلاق دے اور پھر وہ تین مہینے کی عدت شروع کرے اور ختم ہونے سے قبل پھر رجوع کرے اور پھر طلاق دے دے۔ یوں اس کی عدت نو ماہ تک چلی جائے۔ یہ ہے عورت کو محض اذیت دینا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رکھنا ہے تو رجوع کرے۔ اور اس طرح بھی نہ ہو کہ رجوع کرکے اسے معلق رکھ دے کہ وہ بےچاری مالی تاوان دینے پر مجبور ہوجائے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس وقت عرب معاشرہ میں ایسی صورتیں ہورہی تھیں اور ہمیشہ ایسا ہوتا ہے جب انسان دلوں سے اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ معاشرت اور جدائی دونوں حالتوں میں خوف خدا ہی بہترین ضامن ہوتا ہے۔ نیز عورت کو جدا کرتے وقت سب وشتم ، سختی ، سخت کلامی یا مارپیٹ معروف طریقہ نہیں ہے۔ معروف طریقہ یہ ہے کہ شرافت سے رخصت کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کو پھر ایک جگہ رہنا پڑے۔ اور اس صورت میں بری یادیں بیچ میں حائل نہ ہوں۔ اس طرح بری اور ناخوش گوار یادیں ، یہ برے الفاظ یا طنز وتشنیع دوبارہ تعلقات قائم ہونے کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ یہ اسلام کا عظیم تادہی سبق ہے کہ ایسے مشکل اور تلخ حالات میں بھی انسان کو شریفانہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ہاں اب جدائی ہو یا رجوع دونوں حالات میں شہادت کا قیام ضروری ہے۔ دو عادل گواہ اس پر قائم ہوں تاکہ شک کسی معاملے میں نہ ہو کہ لوگوں کو طلاق کے بارے میں تو معلوم ہو اور رجوع کرنے کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ لوگوں میں شکوک پھیل جائیں اور لوگ باتیں بنائیں کہ فلاں کی بیوی تو مطلقہ ہے۔ جبکہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ میاں بوی کے متعلق لوگوں کے دل بھی صاف ہوں اور ان کی زبانیں بھی صاف ہوں۔ فقہاء کی اکثریت کا خیال ہے کہ رجوع یا فراق کے لئے شہادت کا قیام ضروری نہیں۔ بعض فقہاء اسے ضروری خیال کرتے ہیں لیکن دونوں کا خیال یہی ہے کہ شہادت ضرور قائم کی جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ اور لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ نہ ملے۔ چناچہ اس بیان کے بعد متعدد ہدایات دی جاتی ہیں اور یاد دہانیاں کرائی جاتی ہیں :

واقیموا ................ للہ (56 : 2) ” اور شہادت قائم کرو اللہ کے لئے “۔ کیونکہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ اور اس میں اللہ کے لئے شہادت دینا گواہ پر لازم ہے۔ اللہ اس کے قیام کا حکم دیتا ہے۔ وہی اس کی ادائیگی کا بھی حکم دیتا ہے۔ اور اس پر اجر بھی وہ دے گا۔ اس میں معاملہ خدا کے ساتھ ہے ، نہ خاوند کے ساتھ ، نہ بیوی کے ساتھ ، اور نہ لوگوں کے ساتھ ہے۔

ذلکم ........................ الاخر (56 : 2) ” یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو “۔ ان آیات کے مخاطب مومنین تھے اور وہ سب کے سب اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ اللہ ان کو کہتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم معاملات ہیں۔ اگر انہوں نے سچے دل سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے تو پھر انہیں ان احکام الٰہی کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ ان کے ایمان کے لئے معیار تصور ہوگا اور دعوائے ایمان کا یہ نہ پیمانہ ہوگا۔

آیت 2 { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ } ”پھر جب وہ اپنی عدت کی میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو اپنے نکاح میں روک رکھو معروف طریقے سے ‘ یا جدا کردو معروف طریقے سے“ یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت پوری ہوجانے سے پہلے مرد کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر تو وہ رجوع کرنا چاہتا ہے تو شریعت کے طے کردہ طریقے سے رجوع کرلے اور اگر اس نے طلاق ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر بھلے طریقے سے عورت کو گھر سے رخصت کر دے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسے ستانے کی غرض سے روکے رکھے۔ { وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ } ”اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو“ یعنی اگر کوئی طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہے تو وہ اپنے لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر اشخاص کی موجودگی میں ایسا کرے۔ { وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ } ”اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔“ { ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } ”یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخر پر۔“ اس سے ملتے جلتے الفاظ سورة الاحزاب کی آیت 21 میں حضور ﷺ کے اسوہ اور سورة الممتحنہ کی آیت 6 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کے اسوہ کے بارے میں بھی آئے ہیں۔ مطلب یہ کہ حضور ﷺ کا اُسوئہ کاملہ تو اپنی جگہ پر موجود ہے ‘ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کی زندگی بھی مثالی نمونہ ہے ‘ لیکن کس کے لیے ؟ { لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ }۔ یعنی حضور ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُسوئہ حسنہ سے استفادہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم آخرت کی حاضری کی امید رکھتا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے اس جملے کا مفہوم بھی یہی ہے کہ مسائل طلاق سے متعلق یہ وعظ اور نصیحت صرف اسی شخص کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے جو واقعی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ { وَمَنْ یَّــتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا } ”اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘ اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔“ اللہ کے تقویٰ کا مقام و مرتبہ واضح کرنے کا یہ بہت حسین اور دلکش انداز ہے اور اس اعتبار سے یہ قرآن مجید کا منفرد مقام ہے۔ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ حقیقی تقویٰ دل کا تقویٰ ہے ‘ جس کے بارے میں حضور ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا 1 کہ اصل تقویٰ یہاں دل کے اندر ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کا براہ راست تعلق انسان کے دل کے ساتھ ہے۔ اگر دل میں تقویٰ نہیں تو ّجبہ و دستار کا اہتمام اور متقیانہ وضع قطع کی حیثیت بہروپ سے زیادہ کچھ نہیں۔ چناچہ اس آیت میں اہل تقویٰ کو بہت بڑی بشارت سنائی جا رہی ہے کہ اگر کسی بندئہ مومن کا تقویٰ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول و منظور ہوا تو اس کے لیے مشکل سے مشکل صورت حال سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور پیدا کردیا جائے گا ‘ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے انہیں ساحل سمندر پر جا لیا۔ اب آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ بظاہر بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پھاڑ کر ان کے لیے راستہ پیدا کردیا۔ اسی طرح جب حضور ﷺ غارِ ثور میں تشریف فرما تھے تو مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے کھوج میں غار کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ انہیں دیکھ کر حضرت ابوبکر رض نے عرض کیا کہ حضور ﷺ ! اگر ان لوگوں نے نیچے اپنے قدموں کی طرف بھی دیکھ لیا تو ہم انہیں نظر آجائیں گے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رض کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : { لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاج } التوبۃ : 40 کہ آپ فکر مت کریں ‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے ! اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت حال پیدا فرما دی کہ مشرکین آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکے۔ حضور ﷺ کے سفر طائف کی مثال لیں تو بظاہر وہاں سے آپ ﷺ خالی ہاتھ واپس آئے تھے ‘ لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے مدینہ سے کھڑکی کھول دی اور ایسے حالات پیدا فرما دیے کہ آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی وہاں انقلاب آگیا۔ یہ مثالیں گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے متقی بندوں کے لیے ضرور ”مخرج“ پیدا فرماتا ہے۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف اہل ایمان کے لیے آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ میں یہ خوشخبری ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنی کوششیں پورے خلوص سے جاری رکھیں۔ جب اللہ تعالیٰ کو ان کوششوں کی کامیابی منظور ہوگی تو حیرت انگیز طریقے سے منزل خود چل کر ان کے سامنے آجائے گی۔

عائلی قانون ارشاد ہوتا ہے کہ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہئے کہ دو باتوں میں سے ایک کرلیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر گالی گلوچ دیئے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ۔ (یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں) پھر فرمایا ہے اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو، ابو داؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عمران بن حصیص ؓ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ حضرت عطا ؒ فرماتے ہیں نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے، پھر فرماتا ہے گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے گو آپ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے پھر فرماتا ہے کہ جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے مخلصی پیدا کردیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے ابوذر اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے، پھر آپ نے بار بار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی پھر آپ نے فرمایا ابوذر تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا ؟ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا، آپ نے فرمایا پھر کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے ؟ میں نے کہا شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا فرمایا جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا حضور ﷺ اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ نے فرمایا کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں ؟ میں نے کہا ہاں حضور ﷺ ضرور ارشاد ہو فرمایا سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت (ترجمہ) ہے اور سب سے زیادہ کشیادگی کا وعدہ اس آیت (ترجمہ) الخ، میں ہے، مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بےچینی سے نجات دے گا، ربیع فرماتے ہیں لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہوجائے گا، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا، ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو، حضرت سدی فرماتے ہیں یہاں اللہ سے ڈرنے کی یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے، آپ فرماتے ہیں حضرت عوف بن مالک اتجعی ؓ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد حضور ﷺ کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے آپ انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا، تھوڑے دن گذرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لئے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہوجاتا ہے تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ حضرت مالک بن اشجعی ؓ کے لڑکے حضرت عوف ؓ جب کافروں کی قید میں تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا ان سے کہلوا دو کہ بکثرت (ترجمہ) پڑھتا رہے، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لئے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی باپ نے آواز سن کر فرمایا اللہ کی قسم یہ تو عوف ہے ماں نے کہا ہائے وہ کہاں وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہوگا اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے حضرت عوف ؓ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں حضور ﷺ سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں حضرت ﷺ نے فرمایا وہ سب تمہارا مال ہے جو چاہو کرو اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہوجائے اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بےگمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہوجائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کردیتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ حضور ﷺ کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے فرمایا بچے میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤں گے جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہوگئے، ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی ؒ اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑجائے اور کام مشکل ہوجائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قضا اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے (ترجمہ) ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔

آیت 2 - سورۃ الطلاق: (فإذا بلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو فارقوهن بمعروف وأشهدوا ذوي عدل منكم وأقيموا الشهادة لله ۚ ذلكم يوعظ به من...) - اردو